این اے 159سے 18، پی پی 219اور 220کے 40امیدوار دنگل کیلئے تیار

این اے 159سے 18، پی پی 219اور 220کے 40امیدوار دنگل کیلئے تیار

ملتان(نیوز رپورٹر) این ے 159 میں الیکشن گہماگہمی اور سیاسی جوڑتوڑ کا سلسلہ عروج پر ہے ، یہ حلقہ جلالپور اور شجاع آباد کے علاقہ جات پر مشتمل ہے جن میں دیہی علاقہ جات بھی شامل ہیں ، یہاں سے پہلے رانا محمد قاسم نون ایم این اے رہے ہیں ،جوکہ اب پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں اور اب کی بار وہ پی ٹی آئی کی طرف سے امیدوار بھی ہیں اور ایک مظبوط وننگ کینیدیٹ ہیں ،پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے متوقع امیدواران میں دیوان عاشق حسین بخاری ، مہدی عباس لنگاہ اور سابقہ ایم پی اے نغمہ مشتاق لنگاہ اور ذوالقرنین حیدر کاغذات جمع کرانے والوں میں شامل ہیں، جبکہ اس حلقے سے 18 امیدواران میدان میں ہیں ، ن لیگ کی طرف سے ذوالقرنین حیدر کو امیدوار بنائے جانے کاقوی امکان ہے جو کہ دیوان عاشق حسین کے بیٹے ہیں اور پی ٹی آئی نے رانا قاسم نون کو فائنل کردیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی پوزیشن کمزور ہے،پیپلز پارٹی کو یہاں اس قدر پریشانی کاسامنا ہے کہ یہاں اسے امیدوار ہی نہیں مل رہا کیونکہ انکے امید وار غلام عباس کھاکھی پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں ۔یہاں جن بردریوں کا ووٹ بینک ہے ان میں دیوان ، لنگاہ ، گھلو، کنوہا، رانابرادری شامل ہیں ، اس حلقے میں جلالپور کا زیادہ علاقہ ہے اور شجاع آباد بہت کم ، یہاں جیت اسی کی ہوگی جس کو جلالپور شہر سے ووٹ ملے گا کیونکہ دیہی علاقوں میں ووٹ کم ہے ۔دریں اثناء ملتان(سٹی رپورٹر)پی پی 219 اور پی پی 220 میں ایک سے بڑھ کر ایک امیدوار میدان میں اترنے کا اعلان کرچکے ہیں ، پی پی 219 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے رانامحمد اقبال سراج ، ڈاکٹرمحمد اختر ملک پی ٹی آئی ، اور حال میں شمولیت اختیار کرنے والے رائے منصب علی خان،رائے عارف منصب پیپلز پارٹی کی طرف سے امید وار ہیں پی پی 219 سے23 امیدواروں نے کاغذات جمع کراکر انتخابی معرکہ لڑنے کا اعلان کررکھا ہے دیگرامیدواراوں میں جاویداکرم،ملک عبدالغفار، محمدسہیل خان،محمدعامرحسین،بنیامین ساجد،خضرحیات، عارف منصورحیات،محمدبلال، راناسجادحسین،عرفان شاہ، محمدآصف جاوید، راؤ محمد مستقیم، محمد جمیل، جاوید علی، محمدشاہد، محمد الطاف خان،سید راجن بخش گیلانی، عامر الیاس ڈوگر،رانافہدعلی نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔یہاں سے ڈاکٹر اختر ملک پہلے ایم پی ے رہ چکے ہیں جو کہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ، رانا محمد اقبال سراج نے جیسے ہی ن لیگ کی طرف سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے انہیں مخالفین آڑے ہاتھوں لیا ہے اس وقت وہ شدید مخالفت کی زد میں ہیں تاہم کافی اثر ورسوخ رکھتے ہیں اور ایک مظبوط امیدوارہیں ،رائے منصب علی خان نے پارٹی بدل لی ہے اورپیپلزپارٹی میں شمولیت اختیارکرلی ہے ،جس سے انکی ساکھ کچھ متاثر ضرور ہوئی ہے تاہم کیونکہ پیپلز پارٹی کا دیہی علاقوں میں ووٹ موجود ہے اور رائے منصب بھی سینئر سیاستدان ہونے کے باعث ذاتی اثرورسوخ اور خاصا ذاتی ووٹ بینک رکھتے ہیں ، یہاں تینوں جماعتوں کے امیدوار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں اور شاندار مقابلہ یہاں دیکھنے کو ملے گا ، جبکہ پی پی 220 میں 17 امیدوار کاغزات نامزدگی جمع کراچکے ہیں اور اپنی انتخابی مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، پی پی 220میں ن لیگ کی طرف سے رانا طاہر شبیر ، پی ٹی آئی کی طرف سے میاں طارق عبداللہ ، پیپلزپارٹی کی طرف سے میاں کامران عبداللہ امیدوارہیں اور مظبوط آزاد امیدوار میاں عبداللہ بھٹی بھی کا غذات جمع کراکرمیدان میں اترچکے ہیں ،یہاں سے 17 امیدوارمیدان میں جبکہ مقابلہ رانا طاہر شبیر ، میا ں طارق ، میاں کامران ، عبداللہ بھٹی کے مابین ہے یہاں رانا برادری ، میاں برادری ، بھٹی برادری ، ملک برادری کا ووٹ مرکزی اہمیت کاحامل ہے جبکہ رانا برادری اس بار بھی یہاں متحد نظر آرہی ہے اور مقابلہ کی فضا بھی ن لیگ اور پی ٹی آئی کی ہے تاہم بھٹی برادری سے مختلف امیدوارمختلف پارٹیوں سے میدان میں اترچکے ہیں اور بھٹی برادری نے اپنا ووٹ تقسیم کرلیا ہے جسکا فائدہ رانا طاہر شبیر کو ہوگا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر