ترقیافتہ قوموں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید علوم سے استفادہ ناگزیر ہے :سلطان محمد خان

ترقیافتہ قوموں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید علوم سے استفادہ ناگزیر ہے :سلطان ...

چارسدہ(بیورو رپور ٹ) سابق ایم پی اے اور حلقہ پی کے 58 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سلطان محمد خان نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ قوموں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید علوم کا حصول وقت کی ضروت ہے۔ تعلیم یافتہ قوم انتخابات کے وقت بہترین لیڈر شپ کا چناؤ کر تی ہے ۔ نوجوان نسل سے پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے ۔تعلیم کے میدان میں تحریک انصاف حکومت کے بہترین پالیسی کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد بچے نجی تعلیمی اداروں سے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل ہو چکے ہیں۔گزشتہ پانچ سال میں اپنے حلقہ نیابت میں تعلیم کے میدان میں دیگر حلقوں کے نسبت زیادہ کام کیا ہے ۔ وہ اپنی رہائش گاہ پر تعلیم کے میدان میں اپنے پانچ سالہ کار کردگی کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ سابق ایم پی اے اور تحریک انصاف پی کے 58کے امیدوارسلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ جدید علوم کی فراہمی تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے ۔نوجوانوں سے پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے ۔ ترقی یافتہ قوموں کامقابلہ کرنے کیلئے جدید علوم کا حصول وقت کی ضرورت ہے ۔ ترقی یافتہ قومیں انتخابات کے وقت ووٹ کا بہترین استعمال کر کے اپنے لئے صحیح لیڈر شپ کا انتخاب کر تی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بطور ایم پی اے انہوں نے اپنے حلقے میں 8نئے پرائمری سکول تعمیر کئے جبکہ 4سکولوں کو پرائمری سے مڈل جبکہ 6سکولوں کو مڈل سے ہائی اور 4سکولوں کو ہائی سکولز سے ہائیرسیکنڈری میں اپ گریڈ کیا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے حلقہ میں دو ڈگری کالج بھی منظور کئے ہیں۔ مختلف سکولوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہو نے کے پیش نظر 45نئے کلاس رومز اور 65گروپ لیٹرین تعمیر کئے ہیں جبکہ 73سکولوں کے باونڈری وال،34سکولوں میں واٹر سپلائی کا نظام بہتر بنا یا ۔ سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ اپنے حلقہ نیابت میں 28سکولوں کو بجلی فراہم کی جبکہ 6سکولوں میں سائنس لیب ،20سکولوں میں آئی ٹی لیب اور 32تعلیمی اداروں میں پلے ایریا سمیت دو پلے گراونڈ بھی تعمیر کئے ہیں ۔ سکولوں کو سائنسی آلات او ر طلباء طالبات کیلئے فرنیچر کی فراہمی یقینی بنائی گئی ۔ سلطان محمد خان نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے سابق صوبائی حکومت نے نہ صرف محکمہ تعلیم کو سیاست سے پاک کر دیا ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی بھی یقینی بنایا جس کی وجہ سے والدین کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بڑھ گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ سے زائد بچے مختلف پرائیوٹ اداروں سے سرکاری سکولوں میں داخل ہو چکے ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /رائے