ازبیکستان ویلکم پاکستان

ازبیکستان ویلکم پاکستان
ازبیکستان ویلکم پاکستان

  

وسطی ایشیا کے مرکزی ملک ’’رپبلک آف ازبیکستان ‘‘ سے آجکل متواتر تجارتی و اقتصادی وفود نہ صرف اسے ہمسایہ ممالک بلکہ پاکستان ، بھارت ، چین ، روس و ایرن کے دورے کر رہے ہیں ۔ پاکستان و افغانستان کے تعلقات ازبیکستان سے انتہائی گرمجوشی پر مبنی تھے لیکن جونہی طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا یہ تعلقات منجمد ہوگئے۔ وجہ اسکی یہ تھی کہ طالبان نے سمر قند اور بخارا پر جھنڈے لہرانے کی بات کی تھی ۔ظاہر ہے ازبیکستان قیادت کو یہ اعلان قابل قبول نہ تھا۔ اُس وقت تاشقند میں شفقت علی شیخ سفیر پاکستان تھے اور سارے وسطی ایشیا میں پاکستانی کمپنی تابانی کے نام کا ڈنکا بجتا تھا جب یہ فیصلہ ہوا کہ پاکستان سے وسطی ایشیا کو جانے والی سڑکیں کھولی جائیں اور پہلے اقدام کے طور NLCکے ٹرکوں میں حکومت پاکستان کی طرف سے مختلف اشیاء بطور تحفہ بھیجی جائیں۔ بے نظیر بھٹو کا دور تھا اور جنرل نصیر اللہ بابر ان کے وزیر داخلہ اُدھر میجر جنرل ہدایت اللہ خان نیازی تابانی گروپ کے ساتھ منسلک تھے ۔

سڑکیں کھولنے کے پراجیکٹ کو وسطی ایشیا میں راقم دیکھ رہا تھا۔ اور نیازی صاحب میری مدد کر رہے تھے ۔ حکومتی سطح پر نصیر اللہ بابر ، بے نظیر بڑے پو جوش تھے ۔ کوئٹہ سے ایک قافلہ تاشقند اور عاشق آباد کے لئے روانہ ہوا۔ ٹرک NLCکے تحائف حکومتِ پاکستان کے ڈرائیور سویلین لباس میں ہمارے فوجی بھائی تھے۔ ان کے قائدایک نوجوان میجر جہانگیر کو قندھار میں ایک مقامی کمانڈر نے حراست میں لے لیا۔ مذکورہ کمانڈر لوکل شہریوں میں کوئی اچھا نام نہ رکھتا تھا۔ کرنل امام حرکت میں آئے ۔ افغان طلباء کو بطور جہادی فورس استعمال کرکے کمانڈر کو قتل کر کے اسکے ٹینک کی بیرل سے اسکی لاش لٹکادی گئی اور ہمارے قافلے کو رہا کر الیا گیا۔ قافلہ بحفاظت بخارا پہنچ گیا ۔ ازبیک بارڈر پر سفارتکار ظہیر جنجوعہ نے قافلے کا استقبال کیا۔ جبکہ بخارا میں مقامی حکام کے ساتھ پاکستانی سفیر شفقت علی شیخ اور راقم نے قافلے کا ڈھول ڈھمکوں سے استقبال کیا۔

یہ قافلہ وسطی ایشیا تک ہمارے راستے کھولنے کی ابتداء تو نہ بن سکا تاہم افغانستان میں مجاہدین کا ایک نیاروپ طالبان کے نام سے وجود میں آگیا۔ یہ طالبان ایک طرف تو پاکستان سے پیار کرتے تھے۔ دوسری طرف ضیاء الحق کی وسیع تر خلافت کی پالیسی پر عمل کرتے تھے ۔ ان ہی میں سے چند ایک کو امریکا اور بھارت نے اپنی ایجنسی کے لئے منتخب کر لیا ۔ جو بھی ہوا وسطی ایشیا اور روس کے ساتھ ہمارے تعلقات سرد ہوگئے۔

ازبیکستان کی موجودہ حکومت ایک بار پھر نہ صرف اپنے ہاں اقتصادی معاشی و تجارتی راستے کھول رہی ہے۔ بلکہ ثقافتی و مذہبی لبرل ازم بھی دکھا رہی ہے۔ پاکستانیوں کے لئے خوشخبری ہے کہ اب ازبیکستان میں زیاراتی ٹورزم رائج کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ آپ اُن تمام مذہبی مقابر کا دورہ کر سکتے ہیں جوکہ کسی بھی طرح مذہب اسلام سے وابستہ ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سابقہ صدر اسلام کریموف کے دور میں ان تمام مقابر کی نہ صرف ضروری مرمت کی گئی بلکہ وہاں تک جانے کے لئے بہترین سڑکیں ، ٹرانسپورٹ کا نظام ، طعام و قیام کا بندو بست بھی کیا گیاہے ۔

ازبیکستان میں تمام تاریخی مقامات کی مرمت اور تشہیر کا بخوبی انتظام کیا گیاہے۔ لہٰذا آپ بڑے آرام سے لاہور تا شقند لاہور روٹ پر پرواز کر کے ازبیکستان سے تعارف حاصل کر سکتے ہیں۔ تاشقند سے بذریعہ فاسٹ ٹرین آپ ثمر قند و بخارا کا چکر لگا سکتے ہیں۔ جبکہ خیوا ، قرشی ، ترمذ ، اندے جان ، نمنگان ، شہر سبز کے دورے بذریعہ سڑک اورائر آپ با آسانی کر سکتے ہیں ۔ اپنی روح کی پاس بجھانے کے لئے آپ حضرت امام بخاریؓ ، حضرت امام ترمذیؓ، حضرت قاسم بن عباسؓ ، حضرت دانیال ؑ ، حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندیؒ اور آٹھ دیگر مقبروں کے علاوہ ریگستان چوک کے مدارس ’’مدرسہ شیردر ، مدرسہ طلاکاری، مدرسہ الغ بیگ‘‘ مدرسہ میر مرب، امیر بخارا کا مول ، قلعہ بخارا ، مقبرہ سامانی ، مسجد بی بی خانم ، مسجدہشت مام اور حضرت عثمانؓ کے قرآن پاک کی زیارت کر سکتے ہیں۔ ازبیکستان کے موجودہ صدر نے ائر پورٹ پر گرین چینل کا اجراء کر دیا ہے۔ بہت ساری فری اکنامک زونز بنادی ہیں۔ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے نئے قوانین بنائے گئے ۔ ویزاء کی آسانی کے لئے نئے راستے متعین کیے جار ہے ہیں ۔ گویا کہ اب ازبیکستان کی طرف سے پاکستان کو تجارتی، سفارتی، ثقافتی ، معاشی ، دفاعی ، غرض ہر قسم کے تعلقات بڑھانے کے لئے دونوں ہاتھوں سے ویلکم ویلکم کہا جا رہا ہے۔ جس کا ثبوت حال ہی میں ازبیک چیمبر آف کامرس کے صدر جناب اکرام عوف کا بڑے کم وقفے میں پاکستان کا دوسرا دورہ ہے ۔ اپنے اس دوسرے میں انہوں نے نئے کاروباری امکانات واضح کرتے ہوئے پاکستانی کاروباری حلقوں کو ازبیکستان آنے کی دعوت دی۔ اب وہ ایک بھاری وفد لے کر یہاں پھر آموجود ہوئے ۔ وفد کے ممبران کا پاکستانی کاروباری حلقوں سے تفصیلی تعارف کرایا گیا ۔ یاد رہے کہ لاہور میں ان کی کوششوں سے پاک ازبیک ٹریڈ اینڈ کلچرل ہاؤس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ جس کے روح رواں ہمارے دوست شاہد حسن ہیں۔ اس ٹریڈ ہاؤس کی کوششوں سے موجودہ وفد کی موجودگی میں پاکستان بزنس فورم کا پہلا اجلاس ازبیک سفارتخانے میں متعقد ہوا۔ بزنس فورم کے راہنماؤں کے علاوہ ان پاکستانی شخصیتوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جو واقعی وسطی ایشیا کو جانتی ہیں مثلاً تاشقند میں ایک لہجے عرصہ تک کام کرنے والے بزرگ لاجسٹک سپشلسٹ خالد فاروق اور وسطی ایشیا کی شاہراؤں کا وسیع تجربہ رکھنے والے میجر طارق حیات۔

وسطی ایشیا کا ذکر ہو اور تابانی گروپ کا ذکر نہ ہو۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ تابانی گروپ کے چیئر مین حاجی محمد یعقوب تابانی اپنی ٹیم کے ہمراہ وفد کے ہیڈ منسٹر جمشید اے فجائف نے طویل مذاکرات کیے ان کی ٹیم میں حمزہ یعقوب تابانی ڈائریکٹر ، یوسف قدوادی جنرل منیجر بزنس ڈیویلیپمنٹ اور محمد عباس خان ایڈ وائزرپروجیکٹس نیز میاں تہور حسین جنرل مینجر بھی شامل تھے ۔ جناب وزیر نے تابانی گروپ کو دعوت دی کہ وہ ایک بار پھر وسطی ایشیا میں تشریف لائیں۔ مذاکرات میں ایئر بزنس ، ٹیکسٹائل بزنس ، آئل اینڈ گیس ، میڈیسن کے شعبے ، انرجی کے شعبے اور متعدد دوسرے شعبوں میں باہمی مفید کاروباری تعلقات قائم کرنے پر زرد دیا گیا۔ کثیر شعبہ اور وسیع تناظر پر مبنی میمورینڈم آف ایڈر سٹینڈنگ پر دونوں فریقوں نے دستخط کیے۔ تابانی کے ساتھ مذاکرات کو جناب وزیر اور ان کے ساتھیوں نے انتہائی مفید قرار دیا۔ امیدظاہر کی گئی کہ تابانی اسی جوش و خروش سے وسطی ایشیا میں ایک بار پھر اپنا کاروبار شروع کرے گا جیسے کہ ماضی میں وہ اپنے نام کا ڈنکا بجا چکا ہے۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ