عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر4

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر4
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر4

  

مارتھا حسین اور ذہین تھی۔ چنانچہ بہت جلد وہ بادشاہ کی منظورنظر ہوگئی۔ چاروں البانوی شہزادے جنہیں سلطان مراد خان ثانی بطور یرغمال اپنے ساتھ لے آیا ، مارتھا کے ساتھ پہلے ہی سے مانوس تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جان کسٹریاٹ نے اپنے بیٹے سلطان مراد خان کے سپرد کرتے وقت مارتھا کو بھی ان کے ہمراہ روانہ کردیا۔

مارتھا اور چاروں البانوی شہزادے سلطانی محل میں ٹھہرائے گئے۔ مارتھا اپنی بچی اور ان چار بچوں کے ساتھ محل کے عقبی مکانوں میں آزادی کے ساتھ رہنے لگی۔ چاروں شہزادوں کو مکتب میں داخل کروادیاگیا۔ اور سلطانی خرچے پر ان کی تربیت ہونے گلی۔

مارتھا کو ’’ادرنہ‘‘ میں آئے ہوئے ابھی بہت کم وقت گزرا تھا کہ اس نے اندرون محل اپنے راہ ورسم بڑھالیے۔وہ کٹر مذہب پرست تھی۔ ادھر ابوجعفر ’’ادرنہ ‘‘میں پہلے ہی سے موجود تھا۔ ابوجعفر ایک منجھا ہوا جاسوس تھا اور ادرنہ میں سلطان کے خلاف سازش کا مکمل جال بچھا چکا تھا۔ کوتوال شہر سے لے کر ینی چری کے بعض سالاروں تک ابو جعفر کی زیر زمین سرگرمیوں کا دائرہ کار تھا۔ دربار سلطانی میں بھی اس کے ہر کارے موجود تھے ۔ گویا ادرنہ میں ابوجعفر کی بے تاج بادشاہی تھی۔ وہ بظاہر ایک مذہبی پیشوا تھا اور لوگ اسے خطیب مغرب کے نام سے جانتے تھے۔ لیکن درحقیقت وہ فسطنطنیہ کے ’’آرتھوڈکس چرچ ‘‘ آیا صوفیاء کا ایک آزمودہ کار پادری تھا۔ وہ ’’ادرنہ‘‘ میں پچھلے کئی سالوں سے مقیم تھا اور اس کے ہر کارے قیصر قسطنطنیہ کو عثمانی سلطان کے پل پل کی خبر پہنچاتے تھے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر3

البانیہ کی شکست کے بعد مارتھا اور البانوی شہزادے ’’ادرنہ ‘‘ آئے تو ابو جعفر کے لیے اپنی سازش کا جال پھیلا نامزید آسان ہوگیا۔ اس نے سب سے پہلے مارتھا کی فطری کمزوریاں معلوکیں اور پھر مارتھا کے گھر آیا تو مارتھا نے اسے مسلمانوں کا مذہبی پیشوا سمجھا اور کچھ خاص گھاس نہ ڈالی ۔ لیکن مکار ابو جعفر نے پہلی نشست میں ہی مارتھا کو اپنے شیشے میں اتار لیا ۔

شروع شروع میں مارتھا عیسائی سازش کا حصہ بننے سے خوفزدہ رہی۔ لیکن ابو جعفر کی چرب زبانی نے اسے بہت جلد اپنے اشاروں پر نچانا شروع کردیا۔ اب وہ ایک البانوی کنیز کی بجائے ’’قیصر ‘‘ کی ایک اہم جاسوسہ تھی۔ مارتھا، ابو جعفر کے لیے سلطانی محل میں جاکر اہم معلومات حاصل کرتی اور اپنے تئیں دین یسوع مسیح کی خدمت سرانجام دیتی۔

اسی اثناء میں ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ شاہ سربیہ ’’لارڈسٹیفن ‘‘ نے اپنی بیٹی شہزادی ’’سروین‘‘ نوجوان سلطان مراد خان ثانی کے عقد میں دیدی۔ شاہ سربیہ لارڈ سٹیفن اگرچہ مذہباّ عیسائی تھا لیکن مراد خان ثانی کے دادا’’سلطان بایزیدیلدرم‘‘ کے زمانے سے سلطنت عثمانیہ کا بہی خواہ اور وفادار تھا۔ بایزید یلدرم کے زمانے میں سٹیفن نے مسلمانوں کی طرف سے متعدد معرکوں میں شرکت کی اور ہر محاذپر سلطان کے شانہ بشانہ رہا۔ خصوصاًاس وقت جب’’جنگ انگورہ‘‘ میں تاتاری فرمانروا ’’امری تیمور‘‘ نے سلطان بایزید یلدرم کو عبرت ناک شکست دی...............سٹیفن بھی سلطان بایزید یلدرم کا ہمرکاب تھا۔ اس زمانے میں سٹیفن نوجوان تھا۔ سٹیفن نے بایزید یلدرم کو اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے اپنی بہن اس کے عقد میں دے دی تھی اور اب سلطان مراد خان ثانی کو جو بایزیدیلدرم کا پوتا اور سلطان محمد خان اول کا بیٹا تھا، سٹیفن نے اپنی وفاداری کا یقین اس طرح دلایا کہ اپنی چہیتی بیٹی شہزادی ’’سروین‘‘ سلطان کو بیاہ دی۔ شہزادی سروین محل میں آئی تو مارتھا اور ابو جعفر کے کان کھڑے ہوگئے ۔ ابو جعفر نے مارتھا سے کہا۔

’’مارتھا! یہ شہزادی تمہاری پہنچ سے دور نہیں۔ اسے صلیب اعظم کا واسطہ دے کر اپنے ساتھ جہاد میں شریک کرو۔‘‘

مارتھا نے شہزادی سروین کے پاس آنا جانا شروع کیا تو اسے بہت جلد اندازہ ہوگیا کہ لارڈسٹیفن کی بیٹی اپنے باپ کی طرح سچے دل سے سلطنت عثمانیہ کی خیر خواہ ہے۔ مارتھا بہت جلد مایوس ہوگئی اور ابو جعفر کو بتایا کہ شہزادی سروین اتنا تر نوالہ بھی نہیں جتنا اس نے سمجھ لیا تھا۔ لیکن ابو جعفر مایوس نہیں تھا۔ اس نے شہزادی سروین کو ورغلانے کی کوششیں جاری رکھیں۔

ابو جعفر درحقیقت ایک سفاک اور گھناؤنا شخص تھا، اس نے البانیہ کے بادشاہ ’’جان کسٹریاٹ‘‘ کو سلطان سے بد ظن کرنے اور بغاوت پر اکسانے کے لیے ایک انتہائی سنگین منصوبہ تیار کیا ۔ اور جب اس نے اپنے اس سنگین منصوبے میں مارتھا کو شامل کرنا چاہا تو وہ بری طرح بدک گئی۔ کیونکہ ابوجعفر کا منصوبہ بے پناہ سفاکانہ اور خوفناک تھا۔

ابو جعفر نے البانوی بادشاہ کو سلطان سے بدظن کرنے کے لیے سلطان کے محل میں موجود معصوم البانوی شہزادوں کے قتل کا پروگرام بنایا۔مارتھا جو ایک طرح سے ان بچوں کی ماں بھی تھی ابو جعفر کی اس سازش میں قطعاًشریک نہ ہونا چاہتی تھی۔ ابو جعفر مسلسل کئی روز تک مارتھا کو ان معصوم بچوں کی جان لینے پر آمادہ کرتا رہا۔ لیکن جب مارتھا نہ مانی تو ابوجعفر نے ننھی مارسی کو زبردستی ماں سے الگ کردیا۔

مارتھا بری طرح پھنس چکی تھی۔ اب وہ ابوجعفر کے ساتھ زیرزمین سرگرمیوں میں اتنی آگے جاچکی تھی کہ اس کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔بالآخر مارتھا نے ڈرتے کانپتے ابوجعفر کا حکم مان لیا اور البانوی بادشاہ جان کسٹریاٹ کے تین ننھے یرغمالی شہزادوں کو کھانے میں زہر دے دیا۔

سکندر اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور کسی قدر چالاک اور ہوشیار بھی تھا ۔ مارتھا نے ابوجعفر کے مشورے سے سکندر کو زندہ رہنے دیااور باقی تین ننھے شہزادوں کو ایک ماں کی بجائے ڈائن بن کر دیار غیر میں زہر ملا کھانا کھلادیا۔ اپنے ماں باپ سے دور اس دیار غیر میں یہ معصوم بچے مارتھا کے رحم وکرم پرتھے۔ چنانچہ تینوں بچے کھیلتے کودتے کھانے کے وقت دسترخوان پرآئے تو کھانے کے برتنوں میں ان کی موت ان کا انتظار کررہی تھی۔ زہر ابوجعفر لایا تھا جو آہستہ آہستہ اثر کرنے والا زہر تھا۔

بچے کھانا کھا کر دوبارہ کھیل میں مصروف ہوگئے۔ تقریباًایک گھنٹے بعد سب سے چھوٹے شہزادے کو قے آئی۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ دوسرے دونوں بچے کسی قدر سخت جان ثابت ہوئے اور چند دن شدید بیمار رہ کر یکے بعد دیگرے وفات پاگئے۔

تین البانوی شہزادوں کے یکے بعد دیگرے انتقال نے قصر سلطانی کو ہلا کر رکھ دیا۔ سلطان مراد خان ثانی نے فوری طور پردربار لگایا اور حاضرین دربار کے سامنے تازہ ترین صورتحال رکھی۔ سلطان خود بے غمگین اور دل گرفتہ تھا ۔ کیونکہ اس کے زیر سایہ پرورش پانے والے شاہ البانیہ کے معصوم بچے انتہائی پراسرار طور پر یکے بعد دیگرے وفات پاگئے تھے۔ صرف ایک شہزادہ ’’جارج کسٹریاٹ‘‘ زندہ بچا تھا۔ یہ دراصل ایک مسلمان سلطان کے لیے بہت زیادہ شرم اور ندامت کی بات تھی۔ سلطان کا اپنابیٹا شہزادہ ’’محمد‘‘ ان البانوی شہزادوں کا ہم مکتب اور ہم عمر تھا۔ سلطان کے لیے مزید پریشانی کی بات یہ تھی کہ اب شاہ البانیہ کے بھڑک اٹھنے کا اندیشہ تھا اور سلطنت عثمانیہ کے شمالی صوبوں میں بغاوت پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

حاضر ین دربار دم بخود تھے۔ اور شہزادوں کی پرارسرارموت کا بظاہر کوئی سراغ ملتا دکھائی نہ دیتاتھا۔ بالآخر سلطان نے خفیہ محکمے کے سربراہ کو ان کی پراسرار اموات کا کھوج لگانے پر مامور کیا اور شاہ البانیہ کی جانب ایک تعزیتی سفارت روانہ کرنے کا حکم دیا۔ جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ معصوم شہزادے کسی نادیدہ بیماری کے سبب ہلاک ہوگئے ہیں۔ مزید سلطان مراد ثانی نے ایک یہ اقدام کیا کہ جارج کسٹریاٹ کو براہ راست اپنی نگرانی میں لے لیا اور اس کی تربیت اور دیکھ بھال کے لیے ماہر اور وفادار افراد کو مقرر کردیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح