فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر457

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر457
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر457

  

اس دور میں ایک خاص بات یہ تھی کہ ہر ایک کا اپنا منفرد انداز اور اسلوب تھا۔ ہدایت کار ، مصنف، موسیقار ، فنکار سبھی اپنے اپنے انداز میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے اور داد و تحسین حاصل کرتے تھے۔ فلم بین جانتے تھے کہ کس ہدایت کار کی فلم کس قسم کی ہوگی اور کونسے فنکار کی اداکاری کس نوعیت کی ہوگی۔ وہ فنون لطیفہ کے تمام شعبوں میں فراوانی یا طغیانی کا دور تھا۔ علم و ادب اور شاعری ہو، مصوری ہو۔ موسیقی ہویا فلم۔ ہر شعبے میں ایسی قد آور دیو قامت ہستیاں موجد تھیں کہ اب چشم فلک ان جیسے لوگوں کو دیکھنے کے لیے ترستی رہے گی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر456پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اداکاری کے شعبے میں بھی یہ عالم تھا۔ مرد اداکار اپنی اپنی اداکاری کے اندازمیں منفرد،۔ مختلف اور انوکھے تھے۔ یہ صورتحال اداکاراؤں میں بھی دیکھنے میں آتی تھی۔ اس وقت کیونکہ میناکماری کے حوالے سے بات ہورہی ہے اس لیے بھارتی فنکاراؤں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اس عہد میں کیسی کیسی فنکارائیں اسکرین پر چھائی ہوئی تھیں۔ نرگس، میناکماری، مدھو بالا، گیتا بالی، نوتن، وحیدہ رحمان، وجنتی مالا، ثریا، سورن لتا، خورشید، نمی، مینا شوری، ریحانہ، ممتاز شانتی۔ یہ اس دورکی ممتاز ہیروئنیں تھیں۔ ان کے بعد آنے والے کھیپ بھی کارکردگی اور اداکاری کے معیار کے لحاظ سے کافی بہتر تھی۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگاکہ ان سب ہیروئنوں میں حسن و جمال اور اداکارانہ صلاحیتوں کی فراوانی کے علاوہ ایک اور خصوصیت بھی تھی۔ ان سب کی اداکاری اور شخصیت مختلف اورمنفرد تھی۔ آج کل کی فلمی ہیروئنوں کی طرح نہ تو دیکھنے میں ایک جیسی نظر آتی تھیں اور نہ ہی ان کی اداکاری میں یکسانیت تھی۔

مینا کماری اپنے عہد کی سب سے الگ تھلگ اداکارہ تھیں۔ وہ ایک مکمل اور بھرپور خوب صورت خاتون تھیں۔ چہرہ مہرہ، جسم کا تناسب، نشست و برخاست کا انداز ، مکالموں کی ادائیگی اور اداکاری کا طریقہ سب سے جدا تھا۔ قدرت نے شاید غم اور حزن و ملال ان کی قسمت کے ساتھ ساتھ ان کے سراپا میں بھی شامل کر دیا تھا۔ اگر وہ ہنستی بھی تھیں تو اس ہنسی کے پیچھے غم کی جھلک نظر آتی تھی۔ خوشی کے لمحات میں بھی غم کی آمیزش ان کی شخصیت کے گردہالہ کیے رہتی تھی۔ ان کی شخصیت اور بعدکی زندگی پر غالب کایہ شعر حرف بحرف صادق آتا ہے۔

میری قسمت میں غم گر اتنے تھے

دل بھی یا ربّ کئی دیئے ہوتے

لیکن قدرت نے انہیں صرف ایک زندگی اور ایک ہی دل دیا تھا۔غموں کی البتہ کمی نہ تھی۔ وہ بچپن ہی سے انتہائی حساس تھیںَان کی عمرکی بچیاں جب گڑیا کھیلا کرتی تھیں، ان کے والد بزرگوار نے انہیں روزگار پر لگا دیا۔ اس وقت مینا کماری کی عمر مشکل سے چار سال ہوگی۔ گویا چار سال کی ننھی عمر سے ان پر خاندان کی کفالت کا بوجھ پڑ گیا تھا۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی رہی اور ان کی مقبولیت اور حیثیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ان کے غموں کے انبارمیں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیاجب وہ اس انبار کے نیچے دفن ہو کر رہ گئیں۔ زندگی میں تو انہیں دلی خوشی، سکون، طمانیت اور بے لوث محبت حاصل نہ ہو سکی۔ مرنے کے بعد خدا جانے دائمی زندگی میں انہیں کیسے حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ہندوؤں کے اعتقاد کے مطابق انسان کا دوسرا جنم بھی ہوتا ہے اور وہ بار بار نئے روپ میں جنم لیتا رہتا ہے جب تک کہ اسے نجات حاصل نہ ہوجائے۔ ہم مسلمان اس فلسفے پر قطعی یقین نہیں رکھتے لیکن ہمیں یاد ہے کہ مینا کماری کی وفات کے بعد بھارت کے اخبارات میں بحث کافی دیر تک چلتی رہی تھی کہ دوسرے جنم میں مینا کماری کس روپ میں جلوہ گر ہوں گی؟

مینا کماری کی کئی شخصیات تھیں۔ مثلاً جب وہ پید اہوئی تھیں توان کا نام مہ جبیں رکھا گیاتھا۔ ایک حسین و جمیل پیاری سی بچی کے لیے یہی نام مناسب ہو سکتا تھا۔ بعد میں جب انہوں نے ابتدائی عمرہی میں شاعری کا آغاز کیا تو ناز تخلص رکھا۔ ناز و انداز کاتعلق بھی حسن و جمال ہی سے ہوتا ہے۔ حسن والے ہی ناز کرتے اور ناز اٹھواتے ہیں۔ شاید انہیں غیر شعوری طور پر اپنے حسین ہونے کا احساس تھا اسی لیے انہوں نے اپنے لیے ناز تخلص منتخب کیا تھا۔

ایک شعر ہے کہ۔۔۔

ناز والے نیا زکیا جانیں

لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ ناز زندگی پھر سراپا نیاز ہی بنی رہی۔ اپنے دل کی بات وہ کبھی نہ منوا سکیں۔ نہ صحیح معنوں میں کبھی کسی نے ان کے ناز اٹھائے۔

مینا کماری کے سوانح نگاروں اور ان کے قریبی حلقوں کی یہ متفقہ رائے ہے کہ مینا کماری عمر بھر محبت کی بھوکی رہیں۔ بے لوث ، مخلص اورکسی ملاوٹ سے پاک محبت کی تلاش میں وہ ساری زندگی بھٹکتی رہیں۔ ٹھوکریں کھاتی رہیں مگرجس پر تکیہ کیا وہی بے وفا مطلبی اور خود غرض نکلا۔ ان کی زندگی میں اس حوالے سے کئی مرد آئے اور ہر مرد انہیں ایک نیا زخم اور دکھ دے کر ہی گیا۔ مسلسل محرومیوں اور مایوسیوں نے انہیں سراپا حزن و ملال بنا دیا تھا۔ وہ مسکراتی بھی تھیں تویوں محسوس ہوتا تھاجیسے ابھی رو دیں گی۔ بدقسمتی یہ تھی کہ خوشی اور محبت نہ انہیں گھرمیں اپنوں سے ملی نہ گھر کے باہر غیروں سے حاصل ہوئی۔ گھر والوں کے لیے وہ پیسہ کمانے کی مشین اور سونے کی چڑیا تھیں۔ جن کو انہوں نے محبوب بنایا وہ محض وقت گزاری کے مالک نکلے۔ ساری زندگی کمانے والی عورت کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ دونوں ہاتھ خالی تھے۔ ساری زندگی ان کا دل بھی خالی رہا اور ہاتھ بھی خالی رہے۔ کہنے کو شہرت ، دولت، مقبولیت، پذیرائی سبھی کچھ حاصل تھا لیکن دیکھا جائے تو کچھ بھی نہ تھا پھر غالب یاد آگئے۔

اور آنکھ جب کھلی تو زیاں تھا نہ سود تھا

دراصل ان کی تو کبھی آنکھ ہی نہ کھلی ۔یہ محاورے کے مطابق کہہ سکتے ہیں کہ ہر تعلق نے انکی آنکھیں کھول دیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -