نگران حکومت نے عدالت کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں

نگران حکومت نے عدالت کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں
 نگران حکومت نے عدالت کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں

  

کراچی (ویب ڈیسک) نگراں حکومت نے معزز عدالت عالیہ سندھ کے احکامات کی دھجیاں اُڑادیں، 30مئی 2018ء کے حکم کے مطابق وفاق کے محکمے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کی ڈی جی وسیم الحسن کو غیر قانونی تقرر کے بنیاد پر عہدے سے ہٹا دیا تھا اور حکم کے مطابق فوری طور پر کسی سینئر افسر کو اس عہدے پر تقرر کرنے کا حکم دیاتھا۔دراصل مذکورہ افسر صوبائی حکومت بلوچستان کا ملازم ہے لیکن موجودہ نگراں حکومت کی بیوروکریسی نے اس حکم نامے کو ہوا میں اُڑا دیا ہے اور محکمہ کے مخلص اور ایماندار ملازمین کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کردی ہیں اور فرقہ پرستی کو پروان چڑھایا جا رہاہے۔

سنیٹری کے اعلیٰ عہدے داروں نے اپنے حواریوں کے ساتھ ملکر پہلے سے جاری غیر قانونی کاموں اور لوٹ مار کے بازار کو مزید گرم کر دیا ، متعدد شکایات کے باوجود نگراں حکومت کے نمائندوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور عدالت عالیہ کا مستقل تمسخر اُڑایا جا رہاہے جس کی وجہ سے محکمہ اور ملکی حیثیت کا بیڑا غرق ہو رہا ہے اور درآمد کنند گان و برآمد کنند گان کو مالی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

یہاں یہ بتلانا بھی ضروری ہے کہ وسیم الحسن کی وفاقی حکومت میں غیر قانونی تقرری جوکہ سپریم کورٹ کے جنوری 2015ء کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے کے خلاف بھی عدالت میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے ۔

مزید : سیاست /علاقائی /سندھ /کراچی