قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بناکر عاقبت خراب کر لی،سوچ رکھا ہے اس ملک پر سب نچھاور کرنا ہے ،چیف جسٹس

قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بناکر عاقبت خراب کر لی،سوچ رکھا ہے اس ملک پر ...
قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بناکر عاقبت خراب کر لی،سوچ رکھا ہے اس ملک پر سب نچھاور کرنا ہے ،چیف جسٹس

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بنا کر عاقبت خراب کر لی،میں نہیں سپریم کورٹ چاہتی ہے یہ قوم مقروض نہ رہے،میں اس ملک کیلئے وکلا سے پیسے لوں گا اورخود بھی دوں گا،میں نے سوچ رکھا ہے اس ملک پر سب نچھاور کرنا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے قرضے لےکر معاف کرا لئے،قرضے معاف کراتے وقت ایسے مظلوم بن جاتے ہیںجیسے ان کے پاس کھانے کو نہیں،اگرتحقیقات کرالیں تو بی ایم ڈبلیو ،وی ایٹ اور ناجانے کونسی گاڑیاں نکلیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بنا کر عاقبت خراب کر لی،میں نہیں سپریم کورٹ چاہتی ہے یہ قوم مقروض نہ رہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والاہر بچہ ایک لاکھ 7 ہزار کا مقروض ہے،میں اس ملک کیلئے وکلا سے پیسے لوں گا اورخود بھی دوں گا،میں نے سوچ رکھا ہے اس ملک پر سب نچھاور کرنا ہے ۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی