’’ڈیفنس کراچی میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کا بنگلہ ، دودھ پینے کیلئے بطور تحفہ ملنے والی چار بکریاں،شوہر اہلیہ کے زیرکفالت اور ۔ ۔ ۔‘‘ سیاستدانوں کے اثاثوں کی انتہائی دلچسپ تفصیلات منظرعام پر آگئیں 

’’ڈیفنس کراچی میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کا بنگلہ ، دودھ پینے کیلئے بطور تحفہ ...
’’ڈیفنس کراچی میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کا بنگلہ ، دودھ پینے کیلئے بطور تحفہ ملنے والی چار بکریاں،شوہر اہلیہ کے زیرکفالت اور ۔ ۔ ۔‘‘ سیاستدانوں کے اثاثوں کی انتہائی دلچسپ تفصیلات منظرعام پر آگئیں 

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سیاستدانوں کے اثاثوں میں دلچسپ تفصیلات سامنے آئی ہیں، آصف علی زرداری کل 75کروڑ 86لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ جن میں 8کروڑ کے گھوڑے اور ڈیڑھ کروڑ کا اسلحہ بھی شامل ہے۔ عمران خان کے زیر استعمال کوئی ذاتی گاڑی نہیں ہے۔ ایک گاڑی ٹیوٹا پراڈو جو وہ استعمال کررہے تھے، اس کے بارے میں فروخت کئے جانے کا اندراج کیا گیا۔ عمران خان نے اپنے اثاثہ جات میں چار بکریاں بھی ظاہر کی ہیں جن کی مالیت 2لاکھ روپے بتائی گئی ۔ واضح رہے کہ جہانگیر ترین نے ایک نجی پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے دودھ کے استعمال کے لئے خان صاحب کی بکریاں تحفے میں دی ہے۔ مریم نواز انٹرویو میں برملا اعلان کر چکی ہیں کہ ان کی بیرون یا اندرون ملک کوئی جائیداد نہیں، اب کاغذات نامزدگی کے مطابق وہ 1506کینال اراضی کی مالکہ ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ’’کامران خان کے ساتھ ‘‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان نے بتایا کہ بہت سے امیدواروں کو اپنی اربوں روپے کی پراپرٹی لاکھوں یا کروڑوں روپے کی ملکیت میں ظاہر کرنا پڑی ۔ جائیدادوں میں کہیں وراثت کا معاملہ ہے تو کہیں تحائف کی بھرمار ہے اور پاکستان کے چوٹی کے سیاستدانوں کو خوب تحائف مل رہے ہیں۔ زرداری نے ڈیفنس کراچی میں 2000گز کا بنگلہ صرف 8لاکھ 50ہزار روپے کا ظاہر کیا ہے۔ عمران خان نے بنی گالہ کے وسیع و عریض گھر کی مالیت 12کروڑ روپے ظاہر کی ہے جبکہ مریم نواز نے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو بھی اپنے زیر کفالت افراد کے کالم میں ظاہر کیاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اثاثوں کی مالیت تقریباً 80لاکھ روپے ظاہر کی ، انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے گھر کی مالیت 25لاکھ روپے ظاہر کی ۔

یادرہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا تھا کہ کاغذات نامزدگی کے بیان حلفی میں اگر جھوٹ یا کسی قسم کی غلطی سامنے آئی تو امیدواروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی اور امیدوار نا اہل بھی ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ حلف نامے ہی کرامات ہیں کہ 2013ء کے مقابلے میں اس بار امیدواروں کی تعداد میں ایک چوتھائی کمی آگئی ہے۔ ایک صحافی نے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا عمران خان ، جہانگیر ترین اور علیم خان یا عامر کیانی کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں جب آپ دوسروں کی چیزیں استعمال کرتے ہیں تو وہ اس پر مفاد بھی لیتے ہیں اس لئے احتساب ہونا چاہیے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد