وکلاء تنظیمیں متحد اور قاضی فائز عیسیٰ کیساتھ کھڑی ہیں،صدرسپریم کورٹ بار

  وکلاء تنظیمیں متحد اور قاضی فائز عیسیٰ کیساتھ کھڑی ہیں،صدرسپریم کورٹ بار

  

کوئٹہ (این این آئی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے وکلاء تنظیمیں متحد اورجسٹس قاضی فائز عیسیٰ (بقیہ نمبر50صفحہ12پر)

کے ہمراہ کھڑی ہیں،سپریم جوڈیشل کونسل میں 426شکایات نمٹائی گئیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ ایک کے بھی مندرجات ظاہر نہیں کیے گئے،14 جون کے احتجاج سے مطمئن ہیں ایک آواز پر تمام وکلاء دوبارہ اکھٹے ہو جائیں گے،قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس نہ بننے کی صورت میں آئندہ پچاس سال تک بلوچستان سے چیف جسٹس نہیں آئیگا۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا سپریم جوڈیشل کونسل کے اعداد و شمار منظر عام پر لانا خوش آئند ہے لیکن 426شکایات کو نمٹایا گیا بقایا 28زیر التواء ہیں مگر ان میں سے کسی کے مندرجات کو ظاہر کیا گیا نہ ہی معزز جج صاحبان کے نا م بتائے گئے مگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیلئے حکومت کے پیما نے مختلف کیوں ہیں ان کی کردار کشی کیلئے محاذ کھول دیا گیا،حکومت کا یہ امتیازی رویہ اور سلوک بد دیانتی کی دلیل ہے جس پر حکومت کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت پوری قوم سے معذرت کرنی چاہیے، 30جون کو کوئٹہ میں پاکستان بار کونسل کے اجلاس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اس سے قبل خاموش تما شائی بنیں گے ہم سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جونہی ہمیں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے متعلق حتمی اور مصدقہ اطلاع ملے گی ہم اپنا ضروری رد عمل بلا تاخیر ظاہر کریں گے، 14جون کو وکلاء کا خون گرما دیاہے اب ایک کال پر ہم تمام متحد ہونگے، وکلاء تنظیمیں نہیں بلکہ چند لوگ تحریک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں یہ عناصر مفاد پر ست ہیں اس سے قبل بھی وکلاء تحریکو ں میں کچھ عناصر نے اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا لیکن اس بار ہم کسی کو اپنے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے نہیں دیں گے۔14جون کو وکلاء نے سپریم کورٹ،بلوچستان ہائی کورٹ میں دھرنے، سندھ ہا ئی کورٹ میں تالہ بندی اور ملک بھر کی عدالتوں میں ہڑتال نے ثابت کر دیا وکلاء اور عوام نے اس ریفرنس کو مسترد کردیا ہے جس پر ہم انکے مشکور ہیں،ججز کیخلاف کارروائی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے خاندان کی کردار کشی کا نوٹس لیا جائے، ہم غیر آئینی،غیر اخلاقی اقدام پر ہمہ وقت ہوشیار اور مزاحمت کیلئے تیار ہیں،کسی بھی مر حلے پر عدلیہ کی آزادی، یکجہتی، آئین کی بالا دستی،قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے دفاع کیلئے مزاحمت کریں گے۔

امان کنرانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -