بہاولپور صوبہ ہماری شناخت‘ روشن مستقبل کاضامن ہے‘ میر فضل الٰہی

  بہاولپور صوبہ ہماری شناخت‘ روشن مستقبل کاضامن ہے‘ میر فضل الٰہی

  

صادق آباد(نامہ نگار)پاکستان کے سینئر سیاسی رہنما سید میر فضل الہی فضلی نے کہا ہے کہ بہاول پور صوبہ ہماری شناخت اور روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ ہماری منزل بہاول پور صوبہ کی بحالی (بقیہ نمبر47صفحہ7پر)

ہے جس کے لئے فرمانروا بہاول پور نواب صلاح الدین خان عباسی کی قیادت میں آخری دم تک جدو جہد جاری رکھیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1951ء میں بہاول پور صوبہ کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس معاہدہ پر گورنر جنرل پاکستان خواجہ ناظم الدین اور نواب آف بہاول پور نے دستخط کئے۔ حکومت پاکستان اور فرمانروا بہاول پور کے درمیان یہ تاریخی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت بہاول پور کو قانون سازی اور نظم و نسق کے بارے میں ایکٹ 1935ء کے تحت وہی اختیارات حاصل ہوئے تھے جو دوسرے صوبوں کو حاصل تھے۔ اس معاہدے کے تحت 30اپریل 1951ء کو بہاول پور صوبے میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات ہوئے اور 49 ارکان پر مشتمل ایک بااختیار قانون ساز اسمبلی 1952ء میں معرض وجود میں آئی۔ اس منتخب اسمبلی کے منتخب وزیر اعلیٰ،منتخب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بہاولپور کی اپنی ہائی کورٹ تھی، جس نے سب سے پہلے اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ یہ اسمبلی وحدت مغربی پاکستان تک دیگر صوبائی اسمبلیوں کی طرح قائم رہی‘ اسی اسمبلی کے منتخب ممبران میں مغربی پاکستان اسمبلی کے لئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا اور پاکستان کے وسیع تر مفادات کی خاطر بہاول پور نے بھی دوسرے صوبوں کی طرح فراخ دلی سے مغربی پاکستان میں ضم ہونا منظور کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقیت ہے کہ ون یونٹ سے پہلے بہاول پور کو صوبائی درجہ حاصل تھا لیکن ون یونٹ توڑا گیا تو اس وقت کے آمر جنرل یحی خان بہاول پور کو 30مارچ 1970 ء کو پنجاب میں شامل کردیا جس پر بہاول پور کے عوام آج تک سراپا احتجاج ہیں اور تحریک بہاول پور صوبہ بحالی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاول پور صوبہ کی بحالی یہاں کے عوام کا تاریخی‘ آئینی‘ سیاسی اور جمہوری حق ہے جسے کچھ عرصہ کے لئے غصب تو کیا جاسکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لئے چھینا نہیں جاسکتا۔

میرفضل الٰہی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -