امریکہ تجارتی جنگ کی بجائے چینی کمپنیوں کا مقابلہ کرے،مشاہد حسین سید

   امریکہ تجارتی جنگ کی بجائے چینی کمپنیوں کا مقابلہ کرے،مشاہد حسین سید

  

اسلام آباد(آئی این پی)چیئرمین پاک چائینہ انسٹی ٹیوٹ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی اور ٹیکنالوجی کی جنگ کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان کو حالیہ رجحان کے بارے میں تشویش ہے،امریکہ تجارتی جنگ کی بجائے چین کی کمپنیوں کا مقابلہ کرے، پاکستان میں چین کی موبائل سمیت تما م دیگر کمپنیوں کیلئے سرمایہ کاری کیلئے دروازے کھلے ہیں،چین آئندہ تین سالوں میں پاکستانی طلبا کو سی پیک کے تحت مزید 20ہزار سکالر شپ دے گا، چین نے پاکستان کو سماجی شعبے کیلئے ایک بلین ڈالر کی گرانٹ دی ہے،سی پیک کے ذریعے ملک میں لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مدد ملی ہے،سی پیک نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ دیگر ممالک کو بھی آپس میں ملانے کا ذریعہ ہے جبکہ چین کی بارہویں این پی سی خارجہ امور کمیٹی کی نائب چیئرمین زاؤ بائی جی نے کہا ہے کہ سی پیک  بیلٹ اینڈ روڈمنصوبے کا ایک اہم حصہ ہے جس میں پاکستان کا اہم کردار ہے، چین کی مختلف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں، چین پاکستان کے ساتھ زراعت سمیت دیگر شعبوں میں ترقی کیلئے تعاون کررہا ہے، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تکنیکی تعاون اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کیلئے تعاون جاری رکھیں گے،پاکستان ایک اہم ملک ہے جس کی ایک طویل تاریخ ہے،ملک میں ترقی کیلئے سیاسی اور معاشی استحکام بہت ضروری ہے۔جمعرات کو سی پیک فورم 2019سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاک چائنہ انسٹی ٹیوٹ مشاہد حسین سید نے کہاکہ پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے پاک چین تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ چینی صدر شی جن پنگ کا اہم منصوبہ ہے جس سے تمام ممالک کو آپس میں ملانے اور غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ کا فلیگ شپ پائلٹ پروجیکٹ ہے جس پر بہت تیزی سے کام جاری ہے۔مشاہد حسین سید نے کہاکہ پانچ سال قبل پاکستان میں حالات بہتر نہیں تھے ملک کو دہشتگردی اور بعض اندرونی چیلنجز درپیش تھے تاہم اب ملک میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور چین سمیت دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کیلئے بہتر مواقع موجود ہیں۔چین پاکستان کا بہت اچھا دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔سی پیک کے ذریعے ملک میں لوڈشیڈنگ میں اور توانائی کے بحران کو حل کرنے میں مدد ملی ہے  اور گزشتہ پانچ سے آٹھ سالوں میں 10ہزار میگا واٹ بجلی کی پیدا ہوئی ہے۔مشاہد حسین نے کہا کہ گوادر پورٹ آپریشنل ہوچکی ہے جبکہ تھر میں کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کی جارہی ہے۔میں نے حال ہی میں بلوچستان  کے دورے کے دوران کوئٹہ سے گوادر تک روٹ کاسفر کیا جو کہ ایک بہترین روٹ ہے سی پیک سے ستر ہزار پاکستانیوں کو روزگار کے مواقعے ملے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چین آئندہ تین سالوں میں پاکستانی طلبا کو  سی پیک کے تحت مزید 20ہزار سکالر شپ دے گا جبکہ اس وقت چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں 28ہزار پاکستانی طلبا تعلیم حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چین اور پاکستان کے درمیان صحت،تعلیم،زراعت کے شعبے اور غربت کے خاتمے کیلئے تعاون جاری ہے۔سی پیک فورم 2019کا انعقادانسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹیڈیز اسلام آباد(آئی ایس ایس آئی)اور چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز(سی اے ایس ایس) نے پاکستان چائینہ انسٹی ٹیوٹ(پی سی آئی) ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انٹرنیشنل(آر ڈی آئی)کے اشتراک سے کیا تھا جس میں ڈائریکٹر جنرل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹیڈیز اسلام آباد اعزاز احمد چوہدری،نائب صدر چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسزکائی فانگ،چیئرمین پاک چائینہ انسٹی ٹیوٹ سینیٹر مشاہد حسین سید،چین کی بارہویں این پی سی خارجہ امور کمیٹی کی نائب چیئرمین زاؤ بائی جی سمیت دیگر شخصیات شریک تھیں۔

 مشاہد حسین سید

مزید :

صفحہ آخر -