اب بھارت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش

اب بھارت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش

  

خطے میں کشیدہ صورتِ حال کی بہتری کے لئے ابھی تک کوئی بھی کوشش بار آور نہیں ہوئی اور بھارتی حکومت کی طرف سے جامع مذاکرات بھی ختم کر دیئے گئے، تاہم عالمی سطح پر آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بھارت کی طرف سے مذاکرات کے لئے ایسی شرائط پیش کی جاتی ہیں جو نہ صرف قابل ِ قبول نہیں، بلکہ الزامات پر مشتمل ہوتی ہیں، تاہم اب ڈپلومیسی کے محاذ پر ایسے آثار بننا شروع ہوئے ہیں، جن سے دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار ہونا ممکن ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی دوبارہ کامیابی اور نریندر مودی کے پھر وزیراعظم بننے کے بعد مبارک باد اور خیر سگالی کے پیغامات بھیجے تھے۔ اب ان کے جواب میں وزیراعظم مودی اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے الگ الگ خطوط موصول ہوئے اور ہر دو میں خطے میں امن اور ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کی بات کی گئی۔ ان خطوط میں شاید پہلی بار کوئی الزام یا شرط کا ذکر نہیں کیا گیا، اس سے سفارتی حلقوں میں توقع پیدا ہو گئی ہے کہ بھارتی موقف میں نرمی پیدا ہوئی ہے اور پھر سے مذاکرات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے ہر دو خطوط کا مثبت جواب دیا جائے گا۔ بھارت کی طرف سے یہ بھی خواہش ظاہر کی گئی اور بتایا گیا کہ جولائی میں بھارت کے نوجوان تاجروں کا وفد پاکستان آئے گا۔پاک بھارت تعلقات ہمیشہ سے اونچ نیچ کا شکار رہے،جامع مذاکرات میں بھی بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث کوئی مفید حل نہ نکلا اور پھر ممبئی کی واردات کے بعد بھارت نے یہ سلسلہ ہی ختم کر دیا،اب مودی دوبارہ وزیراعظم بنے ہیں تو زیادہ پُراعتماد ہیں اور اسی حوالے سے پاک بھارت تعلقات کو بھی دیکھتے ہیں،لہٰذا بات چیت کی پیشکش کو بھی اسی زاویئے سے دیکھنا ہو گا، پاکستان کے نزدیک کشمیر بنیادی تنازعہ ہے جسے حل کئے بغیر خطے میں حالات بہتر نہیں ہو پا رہے۔بھارت کی مسلح افواج اسرائیلی حکمت ِ عملی کے تحت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و و حشت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کا روکنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن اور مذاکرات کا حامی رہا ہے۔ تاہم اس کے لئے ملکی سلامتی اور خود مختاری بھی اولین حیثیت رکھتی ہے اور تنازعہ کشمیر حل ہوئے بغیر امن مشکل ترین کام ہے۔ بھارت کو مذاکرات کھلے دِل سے کرنا چاہئیں اور جو مسائل سامنے یا پس پردہ ہیں ان پر بات کے ذریعے فیصلے کرنا چاہئیں، ہمیں ہر صورت میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -