بعد از خرابی ئ بسیار، یہ تو ہوا

بعد از خرابی ئ بسیار، یہ تو ہوا
بعد از خرابی ئ بسیار، یہ تو ہوا

  

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری خود ایک وکیل ہیں اور اِس لئے کبھی کبھی چیتا پن سے ہٹ کر کوئی عملی قانونی تجویز بھی پیش کر دیتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ وہ وکیل صفائی کے طور پر اپنا اور اپنی جماعت و حکومت کا دفاع کرتے ہیں،اسی طرح انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں قائد ِ حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کی طویل تقریر پر اعتراض جڑ دیا اور ساتھ ہی بتایا کہ وہ اسمبلی قواعد میں ترمیم کے لئے ایک تحریک پیش کر چکے ہیں کہ قائد حزبِ اختلاف کی تقریر کے لئے وقت متعین کر دیا جائے،جو 45منٹ تک ہو، انہوں نے یہ اعتراض اس بنا پر کیا کہ قائد حزبِ اختلاف نے سالانہ وفاقی بجٹ پر عام بحث کا آغاز کرتے ہوئے ایک طویل تقریر کی اور بجٹ کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) کے دورِ حکومت پر اعتراضات کا جواب بھی دیا اور تحریک انصاف کے دورِ حکومت پر سخت تنقید بھی کی اور خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر طنز کی،میٹرو بس کا مقابلہ پنجاب کی میٹرو بس سے کیا۔

فواد چودھری نے جو اعتراض کیا اس کے ایک حصے سے تو ہمیں بھی اتفاق ہے کہ قائد حزبِ اختلاف کو اپنی بات ختم کر کے اجلاس میں رکنا چاہئے تھا،لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا اور اپنی عادت یا روایت برقرار رکھتے ہوئے تقریر ختم کرتے ہی ایوان سے چلے گئے اور اسی تیزی سے روانہ ہوئے جیسے جلسہ ئ عام میں تقریر مکمل ہو جانے کے بعد چلے جاتے ہیں۔

البتہ فواد چودھری نے وقت مقرر کرنے کی جو تحریک پیش کی وہ بالکل مناسب نہیں کہ جو قواعد اس وقت مروج ہیں وہ سالہا سال کے پارلیمانی تجربے کی روشنی میں بنائے گئے تھے اور موجودہ دورِ حکومت سے پہلے اِس حوالے سے کبھی کوئی تنازعہ نہیں ہوا،یہاں اِس لئے ہوا کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں شدید محاذ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی آگے بڑھنا مشکل ہو گئی تھی اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ بجٹ سیشن یونہی پورا ہو جائے گا اور بجٹ پیش ہو چکا،لیکن منظور یا نامنظور نہ ہو سکے گا۔ اگر یہ نوبت آتی تو پھر ماہرین کے مطابق حکومت مستعفی اور نئے انتخابات کا عمل لازم ہو جاتا،لیکن پارلیمانی امور کے ماہرین کا موقف ہے کہ ایسی صورت میں حکومت کے پاس صرف یہی حل بچتا کہ اجلاس ملتوی کر کے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بجٹ منظور کر کے نافذ کر دیا جاتا اور اس طرح 120 دن براہِ راست مل جاتے کہ یہ آرڈی ننس اور فنانس بل اسمبلی میں سادہ اکثریت سے منظور کرا لیا جاتا،جو اس وقت مشکل نظر آ رہا کہ شق وار اور مجموعی منظوری کے وقت حاضری کا مقابلہ ہوتا ہے۔ حزبِ اقتدار یا حزبِ اختلاف اکثریت کی حاضری یقینی بنا لے تو جیت ممکن، تاہم یہاں بھی اختلاف ہو سکتا ہے اور اس کا علاج ڈویژن ہے کہ ہاں اور نہ والے الگ الگ لابی میں بھیج دیئے جاتے ہیں اور پھر ان کی گنتی ہو جاتی ہے۔بہرحال یہ نوبت آنے سے پہلے ہی حالات میں تبدیلی آئی اور بجٹ پر بحث شروع ہو گئی۔یہ جو معاہدہ یا افہام و تفہیم ہوئی ہے یہ ہونا ہی تھی کہ اس کے بغیر چارہ کار نہیں تھا،لیکن یہ سب بعد از خرابی ئ بسیار ہوا،جس کے دوران ایک دوسرے کو مرنے مارنے جیسی باتیں کی گئیں، اب یہ طے ہو گیا کہ باری باری تقریر ہو گی اور مداخلت نہیں ہو گی۔

ہمارا ذاتی پارلیمانی رپورٹنگ کا طویل تجربہ ہے، ہم نے ایسے کئی بحران دیکھے جو بالآخر سپیکر کی کوشش سے حل ہو جاتے اور تلخی کے باوجود کارروائی مکمل ہو جاتی تھی، قواعد و ضوابط کے مطابق سپیکر کی صدارت میں فریقین کے اجلاس میں باقاعدہ شیڈول طے پاتا ہے،جس کے مطابق عام بحث، کٹوتی کی تحریکوں اور شق وار منظوری کے ساتھ ساتھ فنانس بل کی منظوری کے لئے باہمی رضا مندی سے دن طے پا جاتے ہیں،روایت کے مطابق عام بحث کا آغاز قائد حزبِ اختلاف کے خطاب سے ہوتا اور پھر سپیکر کے پاس ناموں کے مطابق باری باری اراکین تقریر کرتے اور آخر میں وزیر خزانہ بحث سمیٹتے ہیں،اب جو طے ہوا اس سے یہ عمل ہی شروع ہوا اور دو اراکین آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری ہو گئے اور ان سطور کی اشاعت تک وہ اجلاس میں شریک بھی ہو چکے ہوں گے۔

اب بات کرتے ہیں، فواد چودھری کی تحریک کی تو اس کی ضرورت نہیں،کیونکہ یہ سپیکر کا فرض ہے کہ وہ مقررہ اوقات کا خیال رکھیں اور مقرر کو وقت کا خیال رکھنے کے لئے بھی کہیں، خود مقرر کو بھی توجہ مرکوز کرنی چاہئے کہ وہ بجٹ سے متعلق بات کرے اور غیر متعلقہ باتوں سے گریز کرے۔فواد چودھری کے لئے یاد دلائیں کہ یہ پنجاب اسمبلی میں زیر بحث نکتہ اعتراض کا فیصلہ اور سپیکر رولنگ ہے کہ معزز رکن جب تک چاہے نکتہ اعتراض پر بھی بول سکتا ہے اور غیر متعلق نہ ہو جائے تو اسے روکا نہیں جا سکتا۔

یہ رولنگ قائد حزبِ اختلاف مخدوم ادہ حسن محمود (مرحوم) اور سپیکر کے درمیان بحث کے نتیجے میں آئی،مخدوم زادہ حسن محمود نکتہ اعتراض پر زیادہ بول گئے تو ان کو ٹوکا گیا،اس پر انہوں نے اعتراض کیا اور موقف اختیار کیا کہ جب تک وہ متعلقہ اعتراض سے غیر متعلق بات نہ کریں ان کو روکا نہیں جا سکتا،اس پر طے ہوا کہ دلائل سے ثابت کیا جائے، تو اگلے روز اس پر بحث ہوئی۔ مخدوم زادہ حسن محمود نے فیصلوں (ان میں دیگر ممالک کی اسمبلیوں کی رولنگز بھی شامل تھیں) کے ذریعے اپنا موقف ثابت کیا،انہوں نے اس پر ساڑھے تین روز تک بحث کی تھی،چنانچہ یہ سپیکر کا فرض ہے کہ وہ مقرر کو غیر متعلق بات سے روک دے۔یوں بھی جو اوقات کار مقرر ہو جائیں بجٹ انہی کے مطابق منظور ہوتا ہے،اب اگر حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں طریق کار طے پا ہی گیا ہے تو اس پر عمل کر کے آگے بڑھنا چاہئے، تاکہ ایوان کی کارروائی چلتی رہے، ویسے اگر تجربے کی کمی ہو تو قومی اسمبلی میں لائبریری اور ریسرچ کا شعبہ بھی ہے جہاں سے مدد لی جا سکتی ہے، قواعد و ضوابط عمل پر آمادہ کرتے ہیں۔

بات ختم کرنے سے پہلے پھر گذارش ہے کہ جوش اور خون کو ٹھنڈا کریں، مرنے مارنے اور ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کی کوشش سے کچھ نہیں ہو گا، شدید محاذ آرائی کسی حادثے ہی کا سبب بنتی ہے، آئین، قانون اور قواعد کا احترام کریں، اداروں کو کام کرنے دیں، عدالتوں میں انصاف ہونے دیں اور عدالتی فیصلوں سے پہلے اپنے فیصلے نہ سنائیں، قوم و ملک کا خیال کریں کہ مشکل ترین حالات سے گذر رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -