کیا716 کیمرے پولیس کلچر بدل سکیں گے؟

کیا716 کیمرے پولیس کلچر بدل سکیں گے؟
کیا716 کیمرے پولیس کلچر بدل سکیں گے؟

  

سچی بات تو یہ ہے کہ پولیس کی اصلاح کے بارے میں اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے یا کوئی خبر سننے کو ملتی ہے تو یقین نہیں آتا کہ پاکستان میں ایسا ممکن ہے۔ البتہ جب یہ خبر آتی ہے کہ پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تو تھوڑی بہت امید بندھتی ہے کہ شاید یہ حربہ کارگر ثابت ہو۔ جب سے کیپٹن(ر) عارف نواز پنجاب پولیس کے آئی جی بنے ہیں، مسلسل خبریں آ رہی ہیں کہ وہ پولیس کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اب یہ خبر آئی ہے کہ انہوں نے صوبے کے 716 تھانوں کی حوالاتوں میں فوری طور پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم جاری کیا ہے اور آر پی اوز، سی پی اوز ڈی پی اوز کو فوری عملدرآمد کے لئے مراسلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

جب مجھے اس کی خبر ملی تو مَیں نے ڈی آئی جی مانیٹرنگ پنجاب محمد احسن یونس سے رابطہ قائم کیا۔ محمد احسن یونس پولیس میں اصلاحات کے لئے درد دِل رکھنے والے افسر ہیں۔ انہوں نے اس خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ آئی جی عارف نواز نے فیلڈ افسروں کی شدید مخالفت کے باوجود یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ ایس ایچ اوز کی بھی مرکزی سطح پر مانیٹرنگ ہو رہی ہے، تاہم اس کے باوجود یہ شکایات مل رہی تھیں کہ حوالات میں بے گناہوں کو رکھا جاتا ہے یا پھر ان پر تشدد ہوتا ہے، کیونکہ حوالات تک عام آدمی کی رسائی نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ آئی جی عارف نواز ابھی اور بہت سے اقدامات اٹھانے جا رہے ہیں، جن کا مقصد بہترین پولیسنگ، عوام کی خدمت اور امن و امان کا مثالی ماحول پیدا کرنا ہے۔

آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز، اس بات کا کریڈٹ لے گئے ہیں کہ چاروں صوبوں اور مرکزمیں سے صرف پنجاب تھانوں میں قائم حوالاتوں کو عقوبت خانوں سے نجات دلانے کے لئے بازی لے گیا۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو سپریم کورٹ نے بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب پنجاب پولیس بھی اس ٹیکنالوجی کے دائرے میں سکڑ رہی ہے۔ اب لاہور سے سینکڑوں میل دور کے تھانے بھی براہِ راست آئی جی آفس کے ریڈار پر آ گئے ہیں۔ تھانوں میں جو سب سے محفوظ جگہ شمار کی جاتی ہے وہ حوالات ہوتی ہے۔ انہی حوالاتوں سے ہائی کورٹ کے بیلف بے گناہوں کو برآمد کراتے ہیں اور یہیں پر حوالاتیوں سے انسانیت سوز سلوک بھی کیا جاتا ہے۔ حوالاتوں میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خفیہ عقوبت کدے نہیں رہے۔ تمام تھانوں کی حوالاتیں اِن کیمروں کے ذریعے آئی جی آفس میں قائم مانیٹرنگ روم میں دیکھی جا سکیں گی۔یہ اچھا فیصلہ ہے کہ ان کی مانیٹرنگ سی پی او، آئی پی او یا ڈی پی او کے دفتر کو نہیں دی گئی۔ وگرنہ وہی پردہ پوشی جاری رہتی تھی۔ اب ایک طرح سے ڈویژنوں کے آر پی اوز، ضلعوں کے ڈی پی اوز اور سی پی اوز کی مانیٹرنگ بھی ہو گی کہ ان کے ڈویژنوں اور ضلعوں میں تھانوں کی حوالاتیں اگر پولیس تشدد کی آماج گاہ ہیں، تو اس کے ذمہ دار وہ بھی ہیں۔

اس بات سے یہ حقیقت بھی بے نقاب ہوئی ہے کہ پولیس کے اندر درجہ بدرجہ احتساب اور مانیٹرنگ کی کس حد تک کمی ہے،اُصولاً تو یہ ہونا چاہئے کہ ڈی ایس پی اپنے سرکل میں آنے والے تھانوں کی نگرانی کرے، ایف آئی آر اور دیگر عوامی تقاضوں کو پورا کرنے میں تساہل سے کام نہ لے، اسی طرح ایس ایس پی آپریشن شہر کے تمام تھانوں کے معاملات کو دیکھے، ڈی پی او اور سی پی او ضلع کی سطح پر اچھی پولیسنگ کو یقینی بنائے،جبکہ آر پی او ڈویژن میں واقع تمام تھانوں کی موثر نگرانی کا نظام انہی ماتحت افسروں کے ذریعے قائم کرے،مگر یہ سب گویا ناکام ہو جاتے ہیں،تب آئی جی آفس کو براہِ راست نگرانی کا نظام قائم کرنا پڑتا ہے۔اس حوالے سے ایک دوسرا پہلو بھی ہمارا منہ چڑاتا ہے۔ پولیس کو قابو میں رکھنے کے یہ تمام اقدامات اس تلخ حقیقت کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ خود پولیس کے اندر ایسی کوئی سوچ پروان نہیں چڑھتی کہ وہ انسان دوست اور قانون پسند پولیسنگ کو فروغ دیں۔ وہ گویا ایک وحشی ریوڑ ہے، جسے قابو میں رکھنے کے لئے نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، پولیس ڈنڈے کے خوف سے اپنی قانون شکنیوں سے باز آئے تو آئے، خود اُس کے اندر اتنی رمق نہیں کہ قانون پر عمل پیرا ہو سکے۔ کیا عجب کہ کلا کار تھانیدار اس حوالاتی مانیٹرنگ کا بھی کوئی توڑ ڈھونڈ لیں، جنہیں ناجائز پکڑ کر محبوس رکھنا ہے،انہیں تھانے کے کسی اور کمرے میں بند کر دیں یا پھر کسی پرائیویٹ جگہ پر رکھیں اور مقصد پورا ہونے پر چھوڑ دیں۔ مقصد پورا نہ ہو تو پرچہ درج کر کے حوالات میں ڈال دیں۔ویسے تھانیداروں نے اپنی حدد میں جو پرائیویٹ حوالاتیں بنا رکھی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

آئی جی آفس کا مانیٹرنگ سیل صرف کمپیوٹر کی کھڑکی سے اور لگے ہوئے کیمرے کی حدود تک دیکھ سکتا ہے، نِکا وڈا تھانیدار تو لامحدود اختیار رکھتے ہیں،اُن کی حدود کا تو کوئی کنارا ہی نہیں،انہیں لگام کون ڈالے گا؟……مَیں خود گواہ ہوں کہ پولیس کے اعلیٰ افسران بہتر پولیسنگ کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں، کہیں خدمت وین بنائی گئی ہیں، کہیں فرنٹ ڈیسک کام کر رہے ہیں، کہیں مسجدوں میں کھلی کچہریاں لگانے کو کہا گیا ہے اور کہیں آئی جی آفس کے شکایات سیل نمبر کی تشہیر کی گئی ہے، مگر پولیس ہے کہ پکڑائی نہیں دے رہی۔ عوام ہیں کہ رُل رہے ہیں،پولیس کے مظالم اور ناانصافی کی دہائیاں دے رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ خود پولیس کے اندر یہ خوف خدا کب جاگے گا کہ انہیں اپنے منصب کا جوابدہ ہونا ہے۔انہیں کب یہ خیال آئے گا کہ ڈنڈے کے زور پر عزت سب سے گھٹیا کام ہے۔

عزت وہ ہے جو دِل سے کی جائے۔ عوام اُن کی دِل سے عزت کریں گے اگر وہ بے انصافی اور ظلم کرنا چھوڑ دیں گے۔ جب ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی داد رسی کریں گے، جب اُن کا ضمیر ہی اُن کا سب سے بڑا محتسب بن جائے گا۔ مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ پولیس والوں کو جب کسی مذہبی سکالر یا پروفیسر سے پولیس لائنز میں اخلاقیات پر لیکچر دلوایا جاتا ہے تو وہ اسے ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ایک بار مَیں نے لیکچر دیا تو صاف لگ رہا تھا کہ ہال میں موجود سب پولیس والے مجھے خونخوار نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ کہاں سے ہمیں اخلاق اور اصول سکھانے آ گیا ہے؟پولیس کے نظام کو بہت قریب سے دیکھنے کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پولیس میں اوپر سے نیچے تک مفادات کی ایک چین موجود ہے۔ کوئی اس چین کو توڑنا نہیں چاہتا، کیونکہ پھر اُس کا مفاد رُک جاتا ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ مانیٹرنگ کے اوپر مانیٹرنگ بٹھانی پڑتی ہے۔

اب اسی معاملے کو دیکھئے کہ آئی جی آفس میں 716 تھانوں کی حوالاتوں کو چیک کرنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے پڑ رہے ہیں۔نیچے جو درجہ بدرجہ ہزاروں افسران اربوں روپے کی تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں، وہ گویا روبوٹ بنے ہوئے ہیں،جنہیں کچھ پتہ نہیں کہ اُن کے ماتحت کیا گُل کھلا رہے ہیں۔اگر کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ ہی سے کام چلانا ہے تو پھر صرف ایک آئی جی آفس کافی ہے، باقی آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز کی کیا ضرورت ہے۔ پھر تو وہ سوائے سفید ہاتھی کے کچھ نہیں۔پنجاب پولیس کو اچھے سربراہ ملتے رہے ہیں، مگر نیچے تک نظام کو سیدھا کرنے کے لئے جو ٹیم چاہئے، وہ آئی جی کو نہیں ملتی۔اب جنہوں نے آئی جی کیپٹن(ر) عارف نواز کو اس فیصلے سے روکنے کی کوشش کی،جو انہوں نے حوالاتوں میں کیمرے لگانے کے ضمن میں کیا، وہ ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ پولیس کی اصلاح ہو یا عوام کے دِلوں سے اُس کا خوف ختم کیا جا سکے، مگر اس کے باوجود آئی جی یہ کر گزرے ہیں تو انہیں شاباش ملنی چاہئے۔

مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لئے وہ اپنے انٹیلی جنس کے نظام کو بھی بہتر بنائیں۔ سپیشل برانچ کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور اس کے اندر ایک ونگ قائم کریں،جو صرف پولیس کی مانیٹرنگ کرے، تھانوں کے حالات پر نظر رکھے اور ماتحتوں اور افسروں کی کرپشن یا لاقانونیت کے حوالے سے گٹھ جوڑ کی بابت براہِ راست آئی جی آفس میں قائم مانیٹرنگ سیل کو رپورٹ کرے۔ جس تھانے میں کوئی ظلم، زیادتی یا تشدد کا واقعہ ہو، اُس کے ایس ایچ او کو ہی نہیں، بلکہ سرکل کے ڈی ایس پی اور ایس پی کو ذمہ دار دار قرار دے کر کارروائی کی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولیس کالج سہالہ کے نصاب کا جائزہ لیا جائے اور اُسے اخلاقی اقدار کے مطابق ڈھال کر پولیس میں نئے آنے والوں اور تربیت کے لئے جانے والوں کی ذہن سازی کی جائے۔موجودہ آئی جی پنجاب عارف نواز کے دِل میں پولیس کو بدلنے کی لگن موجود ہے،کاش وہ اِس حوالے سے کچھ کرنے میں کامیاب رہیں۔

مزید :

رائے -کالم -