افغانستان میں قیام امن اور مصالحتی عمل کیلئے طالبان وفد کی میزبانی کی، چین

افغانستان میں قیام امن اور مصالحتی عمل کیلئے طالبان وفد کی میزبانی کی، چین

  

بیجنگ(آن لائن)چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کے فروغ اور مصالحتی عمل کے لیے طالبان کے وفد کی چین نے میزبانی کی۔واضح رہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج اور امریکا کی حمایت یافتہ کابل حکومت سے سالوں سے لڑنے اور انہیں شکست دینے والے طالبان کے نمائندے اور امریکی سفارتکاروں کے درمیان کئی ماہ سے مذاکرات جاری ہیں۔مذاکرات میں طالبان کی جانب سے امریکا اور دیگر غیر ملکی افواج کے طالبان سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے بدلے میں اس بات کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ دہشت گرد حملوں کے لیے افغانستان کو مرکز کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔طالبان کے مذاکرات کاروں نے ملک کے مستقبل کے لیے انٹرا افغان ڈائیلاگ کے تحت سینیئر افغان رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ قطر میں طالبان کے نمائندے عبدالغنی برادر اور ان کے ساتھیوں نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا، تاہم انہوں نے اس دورے کا وقت نہیں بتایا۔ان کا کہنا تھا کہ چینی حکام نے ان سے ملاقات کی اور افغان امن مرحلے اور انسداد دہشت گردی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین کی افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر ہے، ہم نے ہمیشہ افغان امن مرحلے اور مصالحتی عمل کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔لو کانگ کا کہنا تھا کہ افغانستان کا اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے خود حل کرنے کی کوششوں کی چین حمایت کرتا ہے اور یہ دورہ چین کا امن مذاکرات کے فروغ کا حصہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف نے مذاکرات کو فائدہ مند قرار دیا اور افغانستان کے مسائل سمیت دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سیاسی حل نکالنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ چین کے مغربی علاقہ زن جیانگ کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔

چین

مزید :

علاقائی -