بجٹ پر نظر ثانی کی جائے ، اسد عمر نے بھی تحفظات کا اظہار کر دیا ، حکومت کو نکالنے کیلئے سیاسی قوتیں آگے آئیں ورنہ کوئی اور آئے گا: زرداری

  بجٹ پر نظر ثانی کی جائے ، اسد عمر نے بھی تحفظات کا اظہار کر دیا ، حکومت کو ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں چینی وخوردنی تیل پر ٹیکس،چھوٹی گاڑیوں پر ایف ای ڈی کو واپس لیا جائے،یوریا کھاد کی بوری پر جی آئی ڈی سی ختم کر کے اسے400روپے فی بوری سستا کیا جائے،ای او بی آئی کی پنشن میں10سے15فیصد مزید اضافہ ، بھٹہ مزدوروں،گھریلو ملازمین اور محنت کشوں کورجسٹرڈکیاجائے ، آئندہ مالی سال کے بجٹ میںمزدوروں کیلئے 50ہزار گھر بنا نے اور نئی سرمایہ کاری کرنے والوں کو 5سال کیلئے کم ازکم ٹیکس سے استثنا دیا جائے،تحقیقات کی جائیں کہ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے ۔آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ کرنسی ایکسچینج فری فلوٹ ، بجلی کی قیمت میں50فیصد،گیس کی قیمت میں94فیصد اضافہ اور پالیسی ریٹ9فیصد سے بڑھا کر15فیصد کیا جائے،آئی ایم یف کی ایک بات بھی نہیں مانی ، بجلی کی قیمت میں 13سے15فیصد ، گیس کی قیمت پر آدھے سے بھی آدھے پر آئی ایم ایف کو راضی کیا۔قومی دولت لوٹنے والوں کوسزانہ دیں ایسانہیں ہوسکتا، جمہوریت کامطلب قانون کی حکمرانی ہوتاہے،چند ماہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 2.035ارب ڈالر ماہانہ تھا اسکو کم کر کے636ملین ڈالر ماہانہ تک لائے۔وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں فنانس بل2019-20پر بحث کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔سابق وزیر خزانہ اسدعمر نے سابق صدر آصف علی زرداری کے بیان پر کہا کہ حساب کتاب اورپکڑدھکڑ اگرملک کیلئے ہورہی ہے تواچھی ہے لیکن پکڑدھکڑسیاسی انتقام کےلئے ہورہی ہے توملک کےلئے اچھی نہیں، اسلام میںسزاجزاکانظام ہے، ناچیز بندوں کا اس سے تعلق نہیں اورجوبھی کام کیاجاتاہے اس کاصلہ ملتا ہے ، اللہ کہتا ہے نیکی کے بدلے جزا اور بدی کے بدلے سزاہوگی۔انھوں نے کہا کہ قومی دولت لوٹنے والوں کوسزانہ دیں ایسانہیں ہوسکتا، ایک شخص اسمبلی میں کھڑے ہوکرکہتاہے میرا منہ نہ کھلوا تم نے کیاکیا، دوسرا کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ تم میرا منہ نہ کھلوانا مجھے پتہ ہے تم نے کیا کیا ہے،مگر بعد میں دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جمہوریت بچانے کیلئے ہم ایک ساتھ ہیں، قومی دولت لوٹنے والوں کیخلاف ایکشن لیاگیاہے، جمہوریت کامطلب قانون کی حکمرانی ہوتاہے۔بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کوکئی برسوں تک مختلف مسائل کاسامنارہا، کم وقت میں فوری طورپرطلب کم کی جاسکتی تھی، ن لیگ والے معیشت کی مہلک بیماری چھوڑ کرگئے تھے، سلیم مانڈوی والا جب وزارت خزانہ چھوڑ کر گئے توایک سال کا ڈھائی ارب ڈالر خسارہ تھا،مگر جب ہمیں حکومت ملی تو پہلے تین ماہ میں اوسط خسارہ2.035ارب ڈالر ماہانہ تھا ،ہمارے اقدامات سے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 2.035ارب ڈالر ماہانہ جنوری ،فروری اور مارچ میں کم ہو کر 636ملین ڈالر تک رہ گیا، ہماری حکومتی کوششوں سے چند ماہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسار ے میں 70فیصد کمی آئی ہے،کم وقت میں صرف طلب کم کی جاسکتی ہے رسدنہیں بڑھائی جاسکتی،یہ مستقل حل نہیں ہمیں اس مہلک بیماری سے جان چھوڑانے کیلئے اپنی رسد بڑھانی ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ بنانےوالی ٹیم کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں، مسلم لیگ کی بری حکمت عملی کی وجہ سے ایکسپورٹرز کا اعتماد ٹوٹا جسے بہت مشکل بحال کیا، یہ نظام ایسا نہیں ہے کہ بٹن دبا کر مسئلہ ہوجائے، جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھائیں گے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دارومدارکو ختم نہیں کیا جاسکتا ،برآمدات بڑھانے تک بین الاقوامی طاقتوں پر انحصار ختم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کم سے کم ٹیکس سوا ایک سے ڈیڑھ فیصد کر دیا گیا ہے،میری درخواست ہے کہ نئی سرمایہ کاری لانے والوں کو 5سال کیلئے اس کم ازکم ٹیکس سے استثنا دینا چاہیے،تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری آسکے۔انہوں نے کہا کہ کھاد کی قیمت میں بڑی تیزی سے بڑھی ہیں،جسکی بڑی وجہ جی آئی ڈی سی ہے ،جو لگا ہواتو ہے مگر کورٹ کی جانب سے اس پر سٹے آرڈر ہے،حکومت کو پیسہ مل بھی نہیں رہا اور جو کھاد کی کمپنیاں ہیں وہ کسانوں سے لے رہی ہیں،اس وقت ایک بوری پر تقریبا400روپے فی بوری جی آئی ڈی سی لی جا رہی ہے جو بہت زیادہ ہے،میری درخواست ہے کہ یا تو جی آئی ڈی سی کو ختم کر دیا جائے اور 400روپے فی بوری یوریا کی قیمت کم کی جائے اگر نہیں تو جو کمپنیاں یہ وصول کر رہی ہیں ان سے یہ پیسے لئے جائیں،کسان مشکل میں ہے انکی جتنی مدد ہم کر سکتے ہیں کریں،یہ سار پیسہ کھاد کمپنیوں کی جیب میں جارہا ہے۔۔سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہمشکل حالات میں سفیدپوش طبقے پر کم بوجھ ڈالناہے، باہرسے آنے والی آمدن کو بڑھاناہے، بجٹ میں کچھ ایسے اقدامات ہیں جس پرنظرثانی کرنی چاہیے، چینی پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے، اس پرنظرثانی کرنی چاہیے، چینی کی قیمت بڑھانے پر تحقیقات کی جائیں۔ ۔انھوں نے مزید کہا کہ کھانے پکانے کے تیل وگھی پرجو ٹیکس لگایاگیا یہ بھی مناسب نہیں ہے اسکو بھی واپس لیا جائے۔ چھوٹی گاڑیوں پرایف ای ڈی بڑھادی گئی اس پربھی نظرثانی ہونی چاہیے۔اسد عمر کا کہنا تھاکہ فیصلے صرف ارب پتی اسٹاک بروکرزکےلیے نہیں لیے جاتے، مزدوراں کی کوئی بات نہیں کر تا ، مشکلات کے باوجودکوشش ہونی چاہیے نچلے طبقے پرکم بوجھ پڑے، محنت کشوں کیلئے ہمیں مزیداقدامات کرنےکی ضرورت ہے، درخواست ہے ای او بی آئی کی پنشن میں10سے15فیصد مزید اضافہ کیاجائے،محنت کشوں کی بڑی تعدادآج بھی رجسٹرڈنہیں ہے، محنت کشوں کورجسٹرڈکیاجائے ورای اوبی آئی میں رجسٹرڈکیاجائے، گھریلوملازمین کی بھی رجسٹریشن کرائی جانی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ بھٹہ مزدورسے متعلق بھی اقدامات کیے جائیں، بھٹہ مزدور کی بھی رجسٹریشن کی جائے۔ انہوں نے کہاہمیں کہا جاتا تھا کہ فوری آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہےے یہ وہ لوگ کہتے تھے جن کی اربوں روپے کی جائیدادیں ملک سے باہر تھیں،ریاست کی ذمہ داری ان سٹاک بروکر ہی نہیں21کروڑ عوام کی تھی۔بڑی خوشی ہوئی کہ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں کرنسی ایکسچینج فری فلوٹ نہیں ہونا چاہےے،ہم فلیکس ایبل کرنسی ایکسچینج پر جارہے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ کرنسی ایکسچینج فری فلوٹ ہونا چاہےے۔آئی ایم ایف بجلی کی قیمت میں50فیصد اضافہ چاہتا تھا مگر ہم صرف13سے15فیصد بجلی کی قیمت بڑھانے پر آئی ایم ایف کو لائے ،آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ گیس کی قیمت پر ن لیگ کاخسارہ ختم کرو ،آئی ایم ایف گیس کی قیمت میں94فیصد اضافہ چاہتا تھا مگر ہم نے آدھے سے بھی آدھے پر آئی ایم ایف کو راضی کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ پالیسی ریٹ9فیصد سے بڑھا کر15فیصد کریں،اور جیسے جیسے افراط زر بڑھتی جائے اس میں مزید اضافہ کیا جائے،جس سے یہ شرح22سے23فیصد تک پہنچ جانی تھی ۔آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ بجٹ کا13.2فیصد ٹیکس لگانا چاہتے تھے مگر ہم نے12.2فیصد پر بجٹ پیش کیا،

اسد عمر

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سابق صدر آصف زرداری نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کررہی ہے آصف زرداری نے حسین اصغر کو انکوائری کمیشن کا سربراہ لگانے پرکہا کہ ہمیں اوپر سے نیچے تک سب پر اعتراض ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم جیل جا جا کر نہیں تھکے، یہ باہر رہ کر تھک گئے، میں جیل میں ہوں میرے حوصلے بلند ہیں، باہر والے پتا نہیں کیوں تھک گئے ہیں، موجودہ حکومت کو نکالنے کیلئے سیاسی قوتوں کو آگے آنا ہوگا، سیاسی قوتیں نہیں آئیں گی تو کوئی اور آئے گا۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ باہر سے آئے ہوئے وزیرخزانہ کو ملکی معیشت کا علم ہی نہیں۔ایک سوال کے جواب میں نے کہا کہ مجھ پر جتنے مقدمات چلانے ہیں چلائیں لیکن 80 سال کے بزرگوں کا خیال رکھیں، میری خیر ہے، پاکستان کا خیال رکھیں۔بجٹ پر بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھاکہ ، سب رورہے تو کوئی وجہ تو ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا، صنعتکار خوفزدہ ہے کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دو،کون کون حساب دے گا،۔ زرداری نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ ان کا بنایا ہوا نہیں ہے، ہمارے علاقوں میں ٹڈی آئی ہوئی ہے جو کپاس کی فصل کو تباہ کررہی ہے، کہیں اور ایسا ہوتا تواب تک توسعودی عرب سے امداد آجاتی ہے، ملک کے معاشی مسائل سب کے اور مشترکہ ہیں۔انہوں ںے مزید کہا کہ اگر آئی ایم ایف سے پیسے مل رہے ہیں تو لوگ کیوں رو رہے ہیں، ہر انڈسٹری کے بڑے بڑے ایڈ آرہے ہیں کہ ہمیں بچاو¿، آئیں حکومت اپوزیشن مل کر معیشت پر کوئی معاہدہ کرلیں، حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے، میرے پکڑنے سے پارٹی مضبوط ہوگی، مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا، عام لوگ خوفزدہ ہیں کہ زرداری پکڑے جاسکتے ہیں توہمارا کیا بنے گا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں، ایسا نہ ہو کل عوام اور پورا ملک کھڑا ہوجائے پھر کوئی پارٹی سنبھال سکے گی نہ ہم، ایسا نہ ہوکہ سیاسی طاقتوں سے بھی یہ گیند نکل جائے، جو طاقتیں انہیں لے کر آئی ہیں انہیں بھی سوچنا چاہیے۔۔ سابق صدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر ہمیشہ ہی ظلم ہوتا رہا ہے، اب سوشل میڈیا کی وجہ سے ظلم چھپایا نہیں جاسکتا،باہر سے آنے والوں سے ملک نہیں چل رہاان کو معیشت کا پتہ ہی نہیں ہے۔ پاکستان کو بہت تکلیفیں ہیں،بجٹ کی ہم مذمت کرتے ہیں،ملک اس طرح نہیں چلتے ،ان سے ملک نہیں سنبھلنا۔آصف زرداری کے جواب پر ساتھ بیٹھے ان کے صاحبزادے اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بابا کی فلاسفی ہے، میری شاید نہ رہے۔چیئرمین سینیٹ سے متعلق سوال پر بلاول کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے حوالے سے اے پی سی میں بات ہوگی۔ ہمارا مطالبہ ہے کے محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آڈر جاری کیے جائیں۔اگر ہر ممبر کو اپنی بات کرنے کا موقع نہیں ملے گا تو یہ بجٹ دھاندلی ہوگی۔ ہم حکومت کے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں پوری کوشش ہے بجٹ پاس نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان جمعرات کے روز بجٹ پر  بجٹ پر بحث کے دوران ایوان زیریں کے اجلاس میں مختصر وقت کیلئے شرکت کی اور تقریر کئے بغیر ایوان سے چلے گئے، عمران خان ایوان میں انتہائی اطمینان بخش دکھائی دے رہے تھے اور ان کے چہرے پر پریشانی کی بجائے اطمینان نظر آرہا تھا، عمران خان لیڈر آف دی ہا¶س کی سیٹ پر بیٹھ کر تسبیح پڑھتے رہے وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں وفاقی وزیر غلام سرو ر خان نے شریف خاندان اور زرداری خاندان پر کرپشن اور بدیانتی کے شدید الزامات عائد کئے، عمران خان اس موقع پر غلام سرور خان کی الزامات پر مبنی تقریر سن کر انتہائی خوش نظر آرہے تھے اور چہرے پر مسکراہٹیں بکھیر رہے تھےدریں اثنا قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی ، سابق صدر آ صف زرداری نے کہاکہ مشرف کی حکومت نے ہزاروں کروڑ روپے کے فنڈز ا یم کیوایم کو دیئے ، انہوں نے کراچی کو یرغمال بنایا، خون کی ندیاں بنا دیں، ریڑیاں اور دکانیں توڑنے کا کہا گیا اور ہتھیار دیئے گئے اور یہ ہتھیار کیسے اور کہاں استعمال کئے سارا ملک جانتا ہے،ہمیں پتہ ہے کہ ان کو کس نے بنایا، عبد القادر پٹیل نے کہاکہ ایک جماعت کے موجودہ اور سابق مئیرزنے ایک دوسرے پر اربوں روپے لندن پہچانے کے الزامات لگائے، یہ کراچی کے ٹھیکیدار بنے ہیں، یہ روتے بھی ہیں اور کھاتے ہیں اور ہر بار اقتدار میں بھی رہتے ہیں، ایک دن میں 100پختونوں کا خون کیا گیا ہے، آج نفاست کا لبادہ اوڑھ کر کرپشن کے خلاف باتیں کر رہے ہیں جبکہ متحدہ قو می مو و منٹ کے رکن صلاح الدین نے کہاکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، مسلم لیگ (ن) نے ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں کمیشن کھایا، مسٹر ٹین پرسنٹ مسٹر100پرسنٹ بن گئے، ماضی کی حکومتوں نے منی لانڈرنگ، کرپشن اور لوٹ مار کی، وزیراعظم عمران خان کا’نہیں چھوڑوں گا‘ کے جملے نے کرپٹ لوگوں پر لرزا تاری کر دیا ہے، آصف زرداری اور نواز شریف اور ان کے خاندانوں نے کرپشن کی ہے تو ان کو بچنا نہیں چاہیے سپیکر نے صلاح الدین کو تقریر ختم کرنے کرے لئے فلور دیا توپیپلز پارٹی کے ارکان نے احتجاج کیا کہ ایم کیو ایم کے رکن کو دوبارہ کیوں دے رہے ہیں، ایم کیو ایم کے ارکان بھی جواباًنشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ اور احتجاج کیا

آصف زرداری

مزید :

صفحہ اول -