نیوزی لینڈ میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے اسلحہ واپس خریدنے کی حکومت کی سکیم متعارف

نیوزی لینڈ میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے اسلحہ واپس خریدنے کی حکومت کی سکیم ...

  

آکلینڈ(آن لائن)نیوزی لینڈ نے ملک کو نیم خود کار ہتھیاروں سے پاک کرنے کیلئے اسلحہ واپس خریدنے کی سکیم متعارف کروادی۔نیوزی لینڈ کے محکمہ پولیس کے وزیر اسٹورٹ ناش نے کہا ہے کہ النور مسجد اور لین ووڈ مساجد میں انسانی جانوں کے ضیاں کے بعد اسلحہ دوبارہ خریدنے اور عام معافی کے قوانین کا مقصد انتہائی مہلک ہتھیاروں کو پھیلنے سے روکنا ہے۔نیوزی لینڈ حکومت کی متعارف کردہ سکیم کے تحت لائسنس یافتہ آتشی اسلحہ رکھنے والوں کے پاس 6 ماہ کا وقت ہے جس کے بعد وہ اسلحہ غیر قانونی قرار پائے گا۔ سکیم کے مقررہ وقت میں انہیں عام معافی دی جائے گی اور ان کو کسی بھی قسم کی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تاہم مذکورہ رعایت ختم ہونے کے بعد ممنوعہ آتشی اسلحہ رکھنے والوں کو 5 سال قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ہتھیاروں کے معاوضے کا تعین ان کے ماڈل اور حالت دیکھ کر کیا جائے گا اور اس اسکیم پر مجموعی طور پر 21 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔حکام کے مطابق پولیس ملک میں 12 لاکھ آتشی اسلحے میں سے 14 ہزار 300 رجسٹرڈ نیم خودکار ہتھیاروں سے آگاہ ہے جبکہ دیگر ہتھیاروں کی بھی زیادہ تر تعداد قانونی ہے۔اس ضمن میں پولیس کا کہنا تھا کہ وہ ہتھیار جمع کرنے کیلیے ملک بھر میں مہم چلائیں گے تاکہ اسلحہ مالکان ان کے پاس آکر آتشیں اسلحہ جمع کرواسکیں۔

نیوزی لینڈ/ سکیم متعارف

مزید :

علاقائی -