40ہزار روپے کے پرائز بانڈز رجسٹرڈ کروانے کی آخری تاریخ 31نارچ 2020ء مقرر

40ہزار روپے کے پرائز بانڈز رجسٹرڈ کروانے کی آخری تاریخ 31نارچ 2020ء مقرر

  

اسلام آباد (آئی این پی)وزارتِ خزانہ نے 40 ہزارروپے کا پرائزبانڈ رکھنے والوں کو بانڈ رجسٹر کروانے کیلئے 31 مارچ 2020ء تک کی مہلت دیدی،ای سی سی نے اجلاس میں فیصلہ کیا 40,000 روپے کا پرائزبانڈ رکھنے والے درج ذیل سہولیات سے استفادہ کرسکتے ہیں، 40,000 کے بیئرر بانڈز کی مزید قرعہ اندازی نہیں ہوگی،سابقہ قرعہ اندازیوں میں جیتے گئے انعامات قرعہ اندازی کی تاریخ سے 6 سال کی مدت کے اندر اندرحاصل کرنے کی سہولت بدستور برقرار رہے گی۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کا اجلاس ہواجس میں وزارتِ خزانہ نے 40,000 روپے کا پرائزبانڈ رکھنے والوں کو اپنے پرائزبانڈ رجسٹر کروانے کیلئے 31 مارچ 2020ء تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا 40,000 روپے والے بیئر رپرائز بانڈہولڈر کو یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ اپنے بانڈز کوسٹیٹ بینک، نیشنل بینک، یونائیٹڈ بینک، ایم سی بی، الائیڈ بینک، حبیب بینک اور بینک الفلاح پاکستان کی مجازبرانچزسے رجسٹرڈ پرائز بانڈ میں تبدیل کروا سکے گا۔ وہ اس کے بدلے ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس یا سپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس سٹیٹ بینک پاکستان، کمرشل بینکس کی مجاز برانچوں یا مراکز قومی بچت سے حاصل کرسکتے ہیں، ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس اور سپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح بہت پرکشش ہے۔ ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس پرسالانہ منافع 12.41 فیصد اور سپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس پر اوسط سالانہ منافع 11.57 فیصد ہے۔ 40,000 روپے کابیئرر پرائز بانڈرکھنے والے احباب اگر اسے کیش کرانا چاہیں تو یہ رقوم پرائز بانڈ ہولڈر کے دئیے گئے اکاؤنٹ میں جمع کر دی جائیں گی، اس سلسلے میں سٹیٹ بینک پاکستان اور تمام بینکس ان کی پوری معاونت کریں گے کہ رقوم ان کے متعلقہ بینک اکاؤنٹ میں چلی جائے۔ 40,000 روپے کے بیئرر پرائز بانڈز 31 مارچ 2020ء تک رجسٹرڈ کروائے جاسکتے ہیں اور بانڈ ہولڈر تمام دی گئی سہولتوں سے استفادہ کر سکتے ہیں جبکہ انکا سر مایہ محفوظ رہے گا۔ نیشنل پرائز بانڈز قوانین مجریہ 1999ء کے تحت سابقہ قرعہ اندازیوں میں جیتے گئے انعامات قرعہ اندازی کی تاریخ سے 6 سال کی مدت کے اندر اندرحاصل کرنے کی سہولت بدستور برقرار رہے گی،تاہم 40,000 کے بیئرر بانڈز کی مزید قرعہ اندازی نہیں ہوگی، 40,000 روپے والا رجسٹرڈ پرائز بانڈ 10 مارچ 2017ء کو جاری کیا گیا تھا، اس کی نمایاں خصوصیات میں بانڈ ہولڈر کو نہ صرف قرعہ اندا ز ی کے ذریعے انعام مل سکتا ہے بلکہ ششماہی کوپن کے ذریعے سال میں دو دفعہ مناسب شرحِ منافع پر ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ یہ ادائیگیاں خود کار طریقے سے بانڈ ہولڈر کے دئیے گئے بینک اکاؤنٹ میں ہوتی ہیں، انعامی رقوم بیئرر بانڈز کی نسبت زیادہ پرکشش ہونے کیساتھ ساتھ رجسٹرڈ بانڈزدرحقیقت زیادہ محفوظ اور غبن و چوری سے مبرا ہیں۔ وزارتِ خزانہ 14 فروری 2019ء سے 40,000 روپے والے بیئرر پرائز بانڈ کا مزید اجراء پہلے ہی بند کر چکی ہے، باقی تمام مالیت کے مختلف بیئرر پرائز بانڈز کا کاروبار اور لین دین بشمول قرعہ انداز ی حسب سابق جاری رہے گا۔

پرائز بانڈز رجسٹریشن 

مزید :

صفحہ اول -