عالمی امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے، اقوام متحدہ کا اعتراف

عالمی امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہے، اقوام متحدہ کا اعتراف

  

نیویارک(آئی این پی)اقوام متحدہ کے مطابق گذشہ برس جنگ، تنازعات اور مصائب کے باعث 7کروڑ 80 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئی،57فیصد پناہ گزین تنازعات کا شکار ممالک، افغانستان، میانمار، صومالیہ، سوڈان اور شام، سے تعلق رکھتے ہیں، اقوام متحدہ عالمی امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انسانی بحران نے نبرد آزما ہونے کے لیے عالمی یکجہتی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں یہ اعداد و شمار سامنے آئے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ فلپو گرینڈی نے جنگ اور تنازعات کو اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم امن قائم رکھنے میں تقریبا ناکام ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ 7کروڑ سے زائد پناہ گزینوں میں سے تقریبا 57فیصد افراد تنازعات کا شکار ممالک مثلا افغانستان، میانمار، صومالیہ، سوڈان اور شام سے تعلق رکھتے ہیں۔رپورٹ، جسے بدھ کو جاری کیا گیا، میں دیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریبا 70سال کے عرصے کے دوران سب سے زیادہ ہے۔عالمی ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ فلپو گرینڈی نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ اندازے محدود ہیں کیوں کہ دنیا میں بہت سے پناہ گزین ایسے ہیں جن کا شمار نہیں کیا گیا۔شمار نہ کیے جانے والے مہاجرین کی وضاحت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ افراد ہیں جو جان بچا کر بھاگے اس وجہ سے ان کے لیے اپنے ملک سے ہی دستاویزات حاصل کرنا نہایت مشکل ہیں۔مشرق وسطی میں جاری تنازعات کے باعث ہزاروں اور سیکڑوں افراد اپنی جانوں پر کھیل کر بحیرہ روم سے گزر کر یونان اور روم پہنچے جس کے باعث یورپ میں جنم لینے والے نام نہاد بحران کی وضاحت کرتے ہوئے یو این این سی آر کے سربراہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ کھلے دروازوں کی پالیسی کی انتہائی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال تھوڑی بہت اسی طرح ہے جس طرح یورپ میں سال 2015 کے دوران ایک کے بعد ایک سرحد بند ہونے لگی۔

عالمی امن

مزید :

علاقائی -