حیدر آباد، جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، 4افراد جاں بحق 

حیدر آباد، جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، 4افراد جاں بحق 

  

حیدر آباد، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)حیدراباد ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک مسافر ٹرین سامنے کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور سمیت 4افراد جاں بحق ہوگئے۔حیدرآباد اسٹیشن کے سپریٹنڈنٹ کا کہنا ہے کراچی سے لاہور جانے والی جناح ایکسپریس اپنے ہی ٹریک پر پہلے سے کھڑی مال گاڑی سے جا ٹکرائی۔حادثے کے نتیجے میں مسافر ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ کئی بوگیاں بھی پٹری سے اتر گئیں۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے حادثے میں چارافراد جاں بحق ہوئے جن کی لاشیں سول ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے حادثے میں مسافر ٹرین کا ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور ایک گارڈ جاں بحق ہوئے ہیں۔ حادثہ کوٹری ریلوے اسٹیشن اور حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کے درمیان پیش آیا جس میں کسی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں،24گھنٹے میں حادثے کی تحقیقات کاحکم دیدیا ہے،22جون کو حادثے کے بارے میں فیصلہ دوں گا۔پاکستان ریلوے عوام کو تکلیف پہنچنے پر معذرت خواہ ہے۔مین ٹریک سے ٹریفک معمول کے مطابق گزاری جا رہی ہے، کراچی سے آنیوالی مال گاڑی لطیف آباد نمبر پونے سات کے اپ ٹریک پر کھڑی تھی۔ریلوے حکام کے مطابق مال گاڑی کلیئرنس کا سگنل ملنے کے بعد روانہ ہونے ہی والی تھی کراچی سے ہی آنیوالی تیز رفتار جناح ایکسپریس مال گاڑی سے جا ٹکرائی۔حادثہ اتنا شدید تھا مسافر ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور کوئلے سے بھری مال گاڑی کے ڈبے الٹ گئے۔ٹرین کے ٹکرانے کا دھماکا اتنا زوردار تھا ارد گرد کے لوگ جمع ہوگئے۔ مسا فر ٹرین کا ڈرائیور اسلم چانڈیو اور اسسٹنٹ ڈرائیور سید نعمان موقع پر ہی جاں بحق ہوچکے تھے جبکہ فائر مین یاسر بشیر شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر سول ہسپتال لیجایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا،ترجمان نے بتایا ریلوے انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں تھیں اور کوٹری سے ریلیف ٹرین بروقت جائے حادثہ پر پہنچی۔ ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔حادثے میں جناح ایکسپریس کی بوگیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی مسافر زخمی ہوا، حادثے کا شکار جناح ایکسپریس کو انجن لگاکر واپس کوٹری بھجوادیا گیا۔ریلوے ملازمین کا کہنا تھا سگنل آٹو میٹک ہوتا ہے اس سگنل کو دیکھنا ڈرائیور کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ریلوے کے حکام کے مطابق جب ٹرین کسی بھی آبادی سے گزرتی ہے اور اسٹیشن قریب ہو تو ٹرین کی رفتار ویسے ہی کم کردی جاتی ہے۔یہاں بھی حیدرآباد ریلوے اسٹیشن تقریباً ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھا اور ٹرین کو آبادی سے گزرنا تھا۔ جناح ایکسپریس کی رفتار کافی تیز تھی جو حادثے باعث کا بنی تاہم ریلوے حکام واقعے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ حادثے کے باعث کراچی سے آنے اور جانیوالی اپ اور ڈاؤن ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی۔اپ اور ڈاؤن ٹریک کو کلیئر کرانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔لاہور سے کراچی اور کراچی سے لاہور جانیوالی ٹرینوں کو حیدرآباد، کوٹری سمیت کئی اسٹیشنوں پر روک دیا گیا ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ریلوے آفتاب اکبر نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ابتدائی تحقیقات میں جناح ایکسپریس اور مال گاڑی کاحادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے۔جناح ایکسپریس کے انجن میں ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور کے علاوہ 2 غیر متعلقہ افراد موجود تھے، غیر متعلقہ افراد میں ایک ریٹائرڈ ریلوے ڈرائیور اور ایک نامعلوم شخص تھا، لگتا ہے یہ چاروں افراد آپس میں گفتگو کررہے تھے اسلئے ڈرائیور سگنل دیکھ سکا نہ ایمرجنسی بریک لگا سکا،جس جگہ حادثہ پیش آیا وہاں ریلوے ٹریک کا موڑہے، شواہد بتاتے ہیں جناح ایکسپریس کے ڈرائیور نے بریک ضرور لگائی لیکن تاخیر سے جو حادثے کا سبب بنی۔ مال گاڑی کے ڈرائیور نے جناح ایکسپریس کو آتا دیکھ کر چھلانگ لگا کر جان بچائی، مال گاڑی لوپ لائن کی جانب جا رہی تھی صرف تین ڈبے مین لائن پر تھے، مال گاڑی حیدرآباد اسٹیشن کا آؤٹر سگنل کراس کرکے ہوم سگنل کی جانب جارہی تھی، جناح ایکسپریس کے ڈرائیور نے ا ٓؤٹر سگنل کو نظر انداز کیا۔ حتمی رپورٹ آج آ جائیگی جس میں حاد ثے کی وجوہات کا تعین ہو جائے گا۔یاد رہے جناح ایکسپریس کا افتتاح رواں برس 30 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا جبکہ چند دن قبل اس کی ڈائننگ کار میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ادھر مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے حیدرآباد میں ٹرین حادثے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ٹرین حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر بے حد دکھ ہوا، شیخ رشید نے ریلوے کی وزارت سے زیادہ سیاسی شعبدہ بازی میں وقت لگایا، ریلوے کے نظام کو ٹھیک کرنے کے شیخ رشید کے بلند بانگ دعوے کہاں گئے؟ اس حادثہ پر شیخ رشید کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔جناح ایکسپریس ٹرین میں 594مسافرسفر کرتے ہیں،ٹرین کیساتھ 11بوگیاں ہوتی ہیں اورایک بوگی میں 54مسافروں کے سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ ٹرین حادثہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حا  دثہ جناح ایکسپریس کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیورز کی لا پرواہی اور غفلت سے پیش آیا، سیکرٹری،چیئر مین وزارت ریلوے نے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر ریلوے کو تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ 

ٹرین حادثہ

مزید :

صفحہ اول -