سینیٹ، قرضوں کی تحقیقات ضیا ء سے دور، پالیمانی کمیشن بنایا جائے: اپوزیشن

سینیٹ، قرضوں کی تحقیقات ضیا ء سے دور، پالیمانی کمیشن بنایا جائے: اپوزیشن

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایوان بالا(سینیٹ) میں اپوزیشن نے ضیاء الحق دور سے اب تک لئے گئے قرضوں کے حسا ب کیلئے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا، اپوزیشن ارکان نے کہا سیاستدانوں سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے،یہاں احتساب کے نام پر بلیک میلنگ ہو رہی ہے،سب سے بڑی کرپشن الیکشن میں ہوئی،نیشنل اکنامک کونسل موجود ہے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کونسل کی کوئی ضرو رت نہیں،حکومت اس نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کرے اور مناسب ہوگا اس کو واپس لے، جب آئین کے اندر ایک ادارہ موجود ہے تو ایکسٹرا آئینی ادارے کیوں ترتیب دے رہے ہیں، یہ بجٹ عوام دشمن اور مزدور کش ہے، جو بجٹ آئی ایم ایف تیار کریگی اور وزیر ریونیو اسے پڑ ھیں گے تو وہ بجٹ یقینا عوام کا بجٹ نہیں ہوگا، ان خیالات کا اظہار جمعرات کو سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران سینیٹرز عثمان خان کاکڑ اور  میاں رضا ربانی نے کیا۔سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا پاکستان ایک فیڈریشن ہے، صدارتی طرز حکومت لانے کیلئے مسلسل کام ہو رہا ہے، اگرملک میں صدارتی نظام مسلط کیا گیا تو قومیں مطالبہ کریں گی ہمیں قومی خودمختاری دی جائے، اب بھی اٹھارویں ترمیم کیخلاف سازش ہو رہی ہے،اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد ہونا چاہیے، اب آپریشن پولیٹیکل پارٹیوں اور اپوزیشن کیخلاف شروع ہے، پی ٹی ایم حقیقت ہے جو بھی اس سے انکار کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں، خڑ کمر واقعہ پر پارلیمانی کمیشن بننا چاہیے،پی ٹی ایم والے تو آئین، قانون سب مان رہے ہیں،اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف فیصلہ آیا تو صدر عارف علوی کا مواخذہ ہونا چاہیے،یہ دنیا کی تاریخ ہے،، علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا چاہیے، ہمارے کئی کارکنوں پر مقدمات ہیں، جب پی ٹی آئی اپوزیشن میں تھی تب نجکاری کیخلاف تھی، ملک کا77 فیصد علا قہ کم ترقیاتی یافتہ ہے،جسے بجٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاگورنرسٹیٹ بینک نے پریس کانفرنس میں کہا بجٹ کے اندر آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو مکمل طور پر پورا کر دیا نیشنل سکیورٹی کونسل، نیشنل اکنامک کونسل موجود تو این ڈی سی کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ آرمی چیف کو اس کونسل میں شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟،حکومت اس نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کرے اور مناسب ہوگا اس کو واپس لے،رضا ربانی نے کہا حکومت وضاحت کرے آیا تحریری طور پر وزیر ریونیو کو بجٹ پیش کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ وہ وزیر مملکت خزانہ نہیں، عام آدمی پر37 قسم کے مختلف ٹیکس لگتے ہیں، یہ بل مشترکہ مفادات کونسل کو نہیں بھیجا گیا،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 90 دنوں میں ہونا ضروری ہوتا ہے،عوام اور پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیاگیا کہ آئی ایم سے کئے گئے معاہدے کی شرائط کیا ہیں،یہ حکومت بدقسمتی سے برمودا ٹرائینگل میں پھنس چکی ہے۔ 

سینیٹ اجلاس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سینیٹ میں سابق مصری صدر محمد مرسی کے انتقال پر تعزیتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،قرار داد کے متن میں کہا گیا محمد مرسی کی جمہوریت، پارلیمانی بالادستی، آئین، بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔جمعرات کو ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا اجلاس کے دوران سینیٹر مشتاق احمد نے قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، قرار داد کے متن میں مزید کہا گیا کہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی جدوجہد بعض اہم لیڈرز سے مطابقت رکھتی ہے جنھوں نے صعو بتیں برداشت کی لیکن آمروں کے آگے سرینڈر نہیں کیا، سینیٹ آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے انسانی حقوق واچ محمد مرسی کی افسوسناک وفا ت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کریں،حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں وہ جمہوری ریاستوں کی لیگ بنائیں جو جمہوری حکومتوں کو آمر و ں اور غیر منتخب قوتوں کی مہم جوئی کیخلاف تعاون فراہم کرے اور حکومت مصر سے رابطہ کرے کہ جو افراد مصر میں زیر ٹرائل ہیں ان کو شفاف ٹرائل فراہم کیا جائے اور ان سیاسی قیدیوں کیساتھ شفاف و غیر جانبدار رویہ اپنایا جائے، اس موقع پر قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے کہا محمد مرسی  کھلے ذہن کے رہنماء تھے، میں اس سانحہ پر افسوس کا اظہا ر کرتا ہوں۔

تعزیتی قرارداد

مزید :

صفحہ اول -