جماعت اسلامی نے پہل کر دی

جماعت اسلامی نے پہل کر دی
 جماعت اسلامی نے پہل کر دی

  

نئے پاکستان میں عوام کو جمہوریت کے نئے نئے رنگ دیکھنے کو مل رہے ہیں، عالمی معیشت کے علمبردار آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے درآمد شدہ تجربہ کار ذمہ داران نے سٹیٹ بنک، اور خزانہ کا چارج سنبھال لیا ہے،جمہوری حسن کو دوبالا کرنے کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے کئے گئے معاہدوں کی روشنی میں پاکستانی عوام کی بہتری اور ملکی معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کا نعرہ لگا کر وفاقی بجٹ مسلط کر دیا گیا ہے۔ ملک اور جمہوریت بچانے کے لئے عوامی مفاد میں پارلیمینٹ میں گھمسان کی جنگ جاری ہے، قومی اسمبلی میں باہم دست و گریبان ہونے، گالم گلوچ اور الزامات کی نئی تاریخ رقم کرنے کے بعد سینیٹ میں ہاتھا پائی، لاتوں اور جوتوں کی بارش جاری ہے۔

رمضان کے بابرکت لمحات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی نئی جنم لینے والی قیادت دعوتِ افطار میں جمہوریت کو دوام بخش چکی ہے، دائیں بائیں کی سیاست کو خیر باد کہنے کے بعد مولانا فضل الرحمن،بلاول بھٹو زرداری،اختر مینگل، شہباز شریف مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔ عوامی مفاد میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے چار گھنٹے سے زیادہ عوام کے حق میں بول کر نیا پارلیمانی ریکارڈ بنا ڈالا ہے، بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے بجٹ میں ترمیم نہ ہوئی تو حکومت نہیں چلنے دینے کی دھمکی دے کر عوامی مفاد کا حق ادا کر دیا ہے اور ساتھ ہی میثاق معیشت کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ وفاقی اور چاروں صوبائی بجٹ آنے کے بعد عوام پر کیا گزر رہی ہے، ڈالر کی اڑان میں کون کون سے ادارے بہہ گئے ہیں،مہنگائی کا سونامی کیا قیامت ڈھا رہا ہے اس حوالے سے سوچ بچار کا فیصلہ مولانا فضل الرحمن نے اگلے ہفتے ہونے والی اے پی سی میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی جمہوریت اور اس کا حسن جب پارلیمان میں سر چڑھ کر بول رہا ہے اپوزیشن اور اہل ِ اقتدار کے درمیان طویل کھینچا تانی کے بعد عوامی مفاد میں ایک دوسرے کو سننے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ جمہوری روایات پر کھل کر اظہار کرنے کا موقع فراہم کرنے کا عزم کر لیا گیا ہے ان حالات میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جمہوریت کی پہچان پارلیمینٹ کی کارروائی کو ڈپریشن سے منسوب کر کے غور و فکر کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے سوا کسی جگہ سے اچھی خبریں نہیں آ رہیں۔ معیشت آئی سی یو میں ہے چینل بدل کر لگائیں تو کرکٹ سے مایوسی،عالمی سطح پر بھی بُری خبریں آ ر رہی ہیں۔

پارلیمینٹ میں اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جا رہا، عوام کو سستا اور تیز رفتار انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اب مقدمات کا التوا،جھوٹی گواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے قوم کو مایوسی کے دور میں خوشخبری سناتے ہوئے کہا وہ دن دور نہیں، جب ایک بھی فوجداری اپیل زیر التوا نہیں ہو گی، مجھے ماڈل کورٹس کے لئے 51چہیتے جج چاہئیں۔مایوسی کے اندھیروں میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے قوم کو عدلیہ کے حوالے سے خوشخبریاں سنائی ہیں اللہ ان کی زبان مبارک کرے، انصاف سستا بھی ہو جائے اور وکلاء گردی سے پاک بھی، کالم کا عنوان کچھ سوچا تھا، جمہوریت بچانے کے لئے دماغ نے گیئر ہی بدل ڈالا،پارلیمینٹ اور جمہوریت اور بات کی پاسداری کی پٹری پر چل نکلا۔

محمد مرسی جیسی شخصیت کی شہادت سے رنجیدہ ہوں،بات کرنی تھی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت کی نذر ہونے والی جماعت اسلامی کی،جو اتحادی سیاست سے تائب ہو کر ایک بار پھر اپنے اصل کی طرف لوٹ آئی ہے۔ اتحادی سیاست سے بچ جانے والے کارکنان کی صف بندی بھی کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور میدانِ عمل میں آ گئی ہے۔ جماعت اسلامی اس لحاظ سے انفرادیت کی حامل ہے، نیچے سے اوپر تک جمہوریت کی عملی تصویر اگر کوئی جماعت پاکستان میں موجود ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے، جس کی قیادت کا انتخاب جمہوری عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔ سینئر وزیر سے وزیر خزانہ تک ایمانداری اور کفایت شعاری کا لوہا منوانے والے سراج الحق جماعت اسلامی کی قیادت کر رہے ہیں۔دوسری دفعہ منتخب ہونے کے بعد ان کے عزائم بتاتے ہیں وہ قوم کا درد حقیقی معنوں میں رکھنے والے رہنما ہیں۔

نئے پاکستان میں سراج الحق نئے عزم کے ساتھ کارکنان جماعت اسلامی کی امیدوں کا مرکزو محور بنے ہیں، ان کی نئی اڑان خالصتاً عوامی جذبوں سے سرشار نظر آئی ہے۔ حرم میں رمضان کی مبارک ساعتوں میں اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے کے بعد اپنے رب سے کچھ نیا مانگ کر پاکستان واپس آئے ہیں۔عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر عوام کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے اے سی کمروں میں بیٹھ کر عوامی دُکھ درد بانٹنے کی بجائے عملی طور پر سخت ترین گرم حالات میں سڑکوں پر نکلے ہیں۔ پہلی دفعہ مال روڈ پر جماعت اسلامی کے کلمے والے جھنڈوں کی بہار میں مرد و خواتین کارکنان بدلے بدلے سے لگے ہیں۔ لاہور جماعت اسلامی کا جمود بھی ٹوٹا ہے، پہلی دفعہ نوجوان لیڈر ذکراللہ مجاہد نے ڈور ٹو ڈور جا کر کارکنان کا حوصلہ بڑھایا ہے،45سنٹی گریڈ گرمی میں غیر جانبدار ذرائع نے25 سو سے زائد مرد و خواتین کے عوامی مارچ میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

عوامی مارچ میں سراج الحق نے بھی قوم کو نئی امید دلائی ہے۔ آئی ایم ایف سے نجات رضائے الٰہی کے حصول کے حقیقی طریقوں سے آگاہ کیا ہے۔ کچھ عرصہ سے بحث چل رہی ہے قیام پاکستان سے اب تک اقتدار کے مزے لوٹنے والی جماعتوں نے عوام سے جمہوریت کے نام پر ووٹ ضرور لئے ہیں، مگر عملی طور پر عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے طویل اقتدار کے بعد ان کے رہنما اپنی اپنی جماعتوں کی باگ ڈور اپنی نئی نسل کو منتقل کر رہے ہیں۔ عوام جہاں تھے وہیں موجود ہیں، عوام بھوک و افلاس، کمر توڑ مہنگائی، بے روز گاری میں ساری امیدیں اپنی محبوب جماعتوں سے لگائے بیٹھے تھے ان میں سے کوئی نکلے گا اور کہے گا ہم ہیں آپ کے خیر خواہ، آپ کے ووٹوں سے ہم نے مزے کئے ہیں، ہم آپ کے حقوق کی بحالی کے لئے آپ کے شانہ بشانہ سڑکوں پر آئیں گے۔

پُرامن احتجاج کے ذریعے ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائیں گے،مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ البتہ ایک جماعت جس کو2018ء کے الیکشن میں عوام نے بُری طرح نظر انداز کیا ان کے ووٹ کم سے کم ہوتے گئے، سلام ہے اس جماعت اسلامی کی قیادت اور جماعتی کارکنان پر وہ مایوس نہیں ہوئے، عوام کو بیدار کرنے اور احساس دِلانے پھر ان کے ساتھ کھڑے ہیں،۔لاہور سے عوامی مارچ کے ذریعے وفاقی بجٹ کے ذریعے ڈھائے گئے ظلم و ستم کی کہانی عام کرنے کے لئے پہل کر گئے ہیں، مایوسی کے دور میں امید کی کرن بنتے ہوئے ملک کو متبادل قیادت فراہم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔البتہ سراج الحق کی طرف سے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

البتہ کارکنان، سید مودودیؒ کے فرمودات کو مزید عام کرنے، مساجد کو مرکز ِ و محوربنانے اور دینی اداروں سے نئی نرسری کے حصول کے خواہش مند ہیں۔ اپنے پرچم، اپنے نشان اور منشور کے ذریعے منزل کا حصول بظاہر مشکل، مگر ناممکن نظر نہیں آ رہا۔ البتہ کردار کی پختگی دوعملی سے نجات، پسند نا پسند سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارہ منزل کو مزید قریب کر سکتا ہے، چاروں اطراف سے مایوسی کے دور دورے میں اگر جماعت اسلامی اب بھی متبادل کے طور پر اپنے آپ کو نہ منوا سکی تو شاید پھر کبھی نہ ہو سکے۔

مزید :

رائے -کالم -