مودی سرکار ابھی الیکشن موڈ میں ہے، سزائے موت کا قانون ملزمان حوالگی معاہدوں میں رکاوٹ: شاہ محمود

مودی سرکار ابھی الیکشن موڈ میں ہے، سزائے موت کا قانون ملزمان حوالگی معاہدوں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے بعض ممالک سی پیک سے ناخوش اور اسکے خلاف منفی پرا پیگنڈ ا اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں تاہم ایسا کرنیوالوں کو پہلے بھی شکست ہوئی اور آئندہ بھی وہ نامراد ہی رہیں گے،سی پیک پر قومی اتفاقِ رائے ہے،سی پیک فورم 2019ترقی کی جانب ایک مثبت سمت،سکالرز اور محققین کو سی پیک کی بہتری کیلئے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، سی پیک پاکستان اور چین کے عوام کو قریب لے کر آیا ہے،پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی، ایس سی او کی سائیڈ لائنز پر جو ماحول د یکھا اس سے نہیں لگتا بھارتی سرکار یہ قدم اٹھانے کیلئے تیار ہے،کیونکہ وہ ابھی الیکشن کے ماحول سے باہر نہیں نکل پائی،حوالگی کے حوالے سے برطانیہ سے بات چیت جاری ہے، سزائے موت کا قانون برطانیہ اور یورپی ممالک کیساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدوں میں رکاوٹ ہے، حکومت نے تعزیرات پاکستان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان بیرون ملک ملزمان کی ہر صورت حوالگی چاہتا ہے تاکہ ملکی قانون کے مطابق ان کیخلاف مقدمات چلائے جائیں، اگر ہم بیرون ملک ملزمان کی وطن واپسی چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اہم فیصلے کرنا پڑیں گے۔ الطا ف حسین کا کیس عدالت میں ہے انکی ضمانت پر رہائی ہوئی ہے،برطانوی وزیر خارجہ کی دعوت پر برطانیہ گیا تھاہماری بہت اچھی ملاقاتیں اور گفتگو ہوئی،ایف اے ٹی ایف پراپنے اقدامات سے آگاہ کیا۔جمعرات کو سی پیک فورم 2019سے خطاب اور میڈیا سے گفتگومیں انکامزید کہناتھا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے دنیا کے باہمی ربط میں اہم کردار ادا کیا ہے یہی وجہ ہے دنیا کے بہت سے ممالک اس سے منسلک ہو چکے ہیں، امریکی مقابلے کی فضا نے جنوبی ایشیا میں تجارتی دوڑ شروع کردی ہے،سی پیک سب کیلئے ابھرتی ہوئی داستان ہے۔ آئی ایس ایس آئی چینی ثقافت و زبان کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے،سی پیک کے سرمایہ کاروں کو مستقبل میں دیرپا فائدہ ہو گاہمارے اداروں کو منفی پروپیگنڈا کی روک تھام کرنا ہوگی۔ پاکستان اور چین صرف ہمسایہ ہی نہیں اچھے دوست بھی ہیں جتنا مضبوط پاک چین رشتہ ہے اتنی جلد ہم چینی زبان سیکھیں گے،سی پیک ہمیں کاروبار کے فروغ اور ثقافت کو سمجھنے کے مواقع فرا ہم کرتا ہے،باہمی متواتر ربط دونوں ممالک کو قریب لا رہا ہے،سی پیک بہت بڑا منصوبہ پہلے محدود تھا اب اس میں توسیع ہو رہی ہے،سی پیک پر قومی اتفاقِ رائے ہے،جو سی پیک کیخلاف مختلف بیانیے بنا رہے تھے انہیں شکست ہوئی۔میں نے اپنے غیر ملکی دوروں میں نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔سی پیک منصوبہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان نہیں بلکہ کوئی بھی ملک اس میں شامل ہوسکتا ہے ہم امریکہ اور برطانیہ سمیت تمام ممالک کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے۔گوادر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز اور معاشی حب ہے بلوچستان کے عوام کیلئے بہت سے مواقع ہیں۔ہم نے پاکستان اور چین کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانا ہے جب پاکستان سے بزنس مین چین اور وہاں کے بزنس مین پاکستان آئیں گے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور تعلقا ت مزید مضبوط ہونگے۔ ہم پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کر رہے ہیں کہ حوالگی کے تحت آنیوالے ملزمان پر کیپیٹل پنشمنٹ لاگو نہیں ہوگی۔برطانیہ نے پاکستان کے تعلقات کو جو اہمیت دی اس پر اطمینان ہوا ہے، بھارت کے ضمن میں پاکستان کی پوزیشن عالمی سطح پر سب کو معلوم ہے پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی اور اس پر قائم ہے۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -