پرانے گانے ہماراقومی خزانہ، ثقافتی پہچان اور ورثہ ہیں، شوبز شخصیات

پرانے گانے ہماراقومی خزانہ، ثقافتی پہچان اور ورثہ ہیں، شوبز شخصیات

  

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہہم پرانے گانے سن کر بڑے ہوئے ہیں اور یہی نہیں پرانے گانے ہمارا قومی خزانہ، ثقافتی پہچان اور ورثہ ہیں ہمارے لوگ اور نئی نسل فلم انڈسٹری کے پرانے دور کے بنائے گئے گانوں کے متعلق جانیں کہ اس دور میں بھی خوبصورت دھنیں تیار کی گئی تھیں۔پرانے گیت آج بھی کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔ایک زمانے میں پاکستانی فلموں میں شامل کئے گئے گیتوں کی شاعری،موسیقی اور گائیکی تینوں لاجواب تھیں شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ ان گانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں ماہ ریلیز ہونے والی ثاقب ملک کی فلم ”باجی“میں دو پرانے گانوں ”کھلتی کلی“ اور ”یہ آج مجھ کو کیا ہوا“کوری مکس کرکے شامل کیا گیا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ماضی میں ہمارے موسیقاروں نے لازوال دھنیں تخلیق کیں ۔ شاہد حمید،سید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،لائبہ علی،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید، میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم اور نجیبہ بی جی کا کہنا ہے کہ ماسٹر غلام حیدر،ماسٹر عبد اللہ،عنایت حسین،رحمن ورما،باباجی اے چشتی،ماسٹر منظور،خواجہ خورشید انور،رشید عطرے،وجاہت عطرے،سہیل رعنا،اے حمید،روبن گھوش،ایم اشرف،نثار بزمی،ناشاد،واجد علی ناشاد جیسے عظیم موسیقاروں نے ایسے ایسے شاہکار گیتوں کی موسیقی ترتیب دی جن کا کوئی ثانی نہیں ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ نامور موسیقاروں سے بھری پڑی ہے۔ان موسیقاروں کی دھنوں کو ہمارے بے مثل گائیکوں ملکہ ترنم نور جہاں،اقبال بانو،زبیدہ خانم،مہدی حسن،سلیم رضا،اخلاق احمد،ناہید اختر،مالا،احمد رشدی،مجیب عالم،غلام علی،عنایت حسین بھٹی،رونا لیلیٰ اور دیگر نے ہمیشہ کے لئے امر کردیا۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی فلمی موسیقی کا زوال 80کی دہائی میں شروع ہوا۔1980ء کے بعد بہت کم ایسے گیت سننے کو ملے جن کو ہم بار بار سننے کی خواہش کرتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی اعلیٰ اور معیاری فلمی موسیقی کا خاتمہ ہوچکا ہے۔برصغیر پاک و ہند میں موسیقی کے حوالے سے سنہرا دورلوٹنا ممکن نہیں ہے۔آج کی نوجوان نسل کو یہ معلوم ہی نہیں کہ موسیقی کے حوالے سے دنیا میں کیا مقام تھا ایک زمانہ تھا جب ہمارے گلوکار کہیں جاتے تھے تو شائقین موسیقی ان کو پلکوں پر بٹھاتے تھے۔فلمی گائیکی کے علاوہ ہمارے ملک کے کلاسیکل گائیکوں کا بھی اقوام عالم میں ایک منفرد مقام تھا ہمارے کلاسیکل گائیکوں نے ثابت کیا کہ دنیا میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

مزید :

کلچر -