ہم قربِ قیامت میں زندہ ہیں

ہم قربِ قیامت میں زندہ ہیں

  

وہ حالات و واقعات، جن کی قیامت سے متعلق حضور نبی اکرمؐ نے پیشن گوئیاں فرمائی تھیں، بہت سے زیادہ پورے ہو چکے ہیں۔ اگر میرا نقطہ نظر درست ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان، قیامت کے دور میں آ داخل ہوا ہے۔ روز بروز انہونیاں سر اٹھا رہی ہیں۔ بے حیائی عام ہو چکی، راگ و رنگ نے رنگ جما لیا، مادیت کا ہر کہیں غلبہ ٹھہرا۔ روحانیت سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ آخرت سے بس ایک قولاً رشتہ ہے، وہ بھی زیادہ تر بر بنائے معیشت و معاشرت!

طلوع حشر کی مناسبت سے کچھ واقعات و علامات صیغہئ بعید میں داخل ہیں جبکہ بعض قریب میں،اس سے مراد چونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور سب سے آخر میں قرار پایا تھا، لہٰذا آپؐ کی آمد و بعثت فیصلہ کن دن کے قریب ترین تصور ہو گی۔ جیسا کہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام قیامت کی بابت وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ ارشاد فرمایا۔ اسے ہم قیامت کی علامات قرار دے سکتے ہیں، جواز قبل ِ بعید قریباً تمام پوری ہو یا گزر چکی ہیں اور علامات قریب بڑی تیز رفتاری سے نمودار ہوتی جاتی ہیں مثلاً قاتل کو یہ خبر نہیں کہ اس نے کیوں مارا، اور مقتول بھی لا علم کہ وہ اس کے ہاتھوں کیوں مرا؟ بد کرداری کی کوئی حد باقی نہیں رہ گئی؟ الا ماشاء اللہ ہر شخص کے لئے یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ سال، مہینوں اور مہینے ہفتوں جبکہ ہفتے دنوں اور دن پہروں کی صورت اڑتے جاتے ہیں۔ زمانے کی یہ رفتار پہلے کب تھی۔؟

دیگر الہامی کتب و صحائف میں بھی باندازِ دیگر طلوع قیامت کا اظہار ہوتا رہا تھا یہ کہا جاتا کہ قیامت کے قریبی دور میں آخری رسولؐ فاران کی وادیوں سے نمودار ہوں گے اور آپؐ کے بعد کبھی کوئی سچا نبی نہیں آئے گا، مگر جھوٹے نبیوں کی ایک تعداد اس امر کا دعویٰ کرے گی نیز چاند کو دو ٹکڑے کرنا آپؐ کے مشہور معجزات میں سے ہوگا۔ آپؐ کا تشریف لے آنا، فی الواقع قرب قیامت کا اعلان ہے، پھر آپؐ نے جو بعیداشارے بیان فرمائے، وہ بھی بڑی حد تک پورے ہو چکے ہیں جبکہ علامات قریب جاری و ساری!

قیامت اتنی قریب ہے کہ صبح اٹھیں یا رات سوتے ہوں، تو صور اسرافیل پھونک دیا جائے؟ کیا یوم حشر کروٹ لے چکا ہے؟ زندگی کا سلسلہ جاری اختتام پذیر ہوا چاہتا ہے؟ وہ ظہور امام مہدی کیا ہوا؟ دجال کا خروج کب اور کہاں ہوگا؟ لگتا ہے کہ بس حضرت امام مہدی کا ظہور ہوا چاہتا ہے چند علماء کرام کا تو خیال ہے کہ ان کی ولادت ہو چکی، بس اعلان باقی ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کچھ ایسا ہی سمجھتے تھے اہل تشیع ان کی بارہویں امام کے طور پر پیدائش اور غیوبت کے قائل ہیں۔

میری دانست میں شیعہ و سنی، امام مہدی کی نسبت مبالغے کا شکار ہو چکے ہوئے ہیں ہم نے گویا خوش فہمی اور نفسیاتی منزل مراد کے طور پر بہت کچھ زیب داستان کے لئے بھی بڑھا رکھا ہے ان کی آمد برحق ہے لیکن فلسفہ مختلف! جانے امتِ مسلمہ عرصہ انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھی ہے؟ وہ اپنے وقت پر حضور نبی آخر الزماں ؐ کی ایک پیش گوئی کی رعایت سے قرب قیامت میں ضرور قیام فرمانے اور مسلمانوں کو غلبہ دلانے والے ہیں، ایسا مگر نہیں کہ جیسا ہم نے سمجھ رکھا ہے! حضور پر نورؐ کی مبارک پیش گوئی شاید اب صدیوں نہیں، برسوں میں پوری ہوا چاہتی ہے غالباً مسلمانوں کی موجودہ نسل تو ان کے راہ کی رکاوٹ ہو گی کیا انہیں پہلے نسلی مسلمانوں کو اصلی بنانا ہوگا۔؟

علامتی طور پر دجال، کب کا معرض وجود میں آ چکا ہر موجہ طغیان و طوفان کلمہ گوؤں کی طرف اس طرح بڑھتا آتا ہے کہ جیسے نشیبی سطح پر سیلاب! قیام قیامت کے بارے میں اٹامک سائنٹسٹ انجینئر سلطان بشیر محمود نے خاطر خواہ مواد جمع کیا، اور ماڈرن انداز میں خوب سائنسی توجیہہ کی ہے میرا یہ موضوع نہیں۔ میرے ناقص فہم و وجدان کی رو سے ہم قربِ قیامت میں جی رہے ہیں۔ اب صدیوں کا نہیں صرف برسوں کا سفر باقی ہے۔ ایک، دو یا تین نسلوں کا سفر! ہر شعبے میں مادی اعتبار سے ترقی و ارتقا اور روحانی جہات سے تنزل و انحطاط کا جو سلسلہ قائم یا شروع ہے، اگر یہی رفتار رہی تو دنیا کے خاتمے میں شاید کچھ زیادہ وقت باقی نہیں!

قیامت کو آنا ہے، اور یہ دبے پاؤں کسی بھی وقت آ جائے گی۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس دن کے لئے کون تیار ہے؟ بظاہر ایسے لگتا ہے کہ جیسے کوئی بھی نہیں بخدا، قیامت سر پر ہے۔ خدا جانے یہ دنیا اس صدی سے آگے جائے گی بھی کہ نہیں اگر ہو سکے تو ہمیں اس دن کی تیاری اور سامان کرنا چاہئے۔!

مزید :

ایڈیشن 1 -