رﺅیت ہلال کا مسئلہ بصری یا نظری

رﺅیت ہلال کا مسئلہ بصری یا نظری

  

ہرسال رمضان المبارک کے آغاز اور عیدین کے موقع پر نئے چاند کی تاریخ کے تعین کے سلسلے میں روز بروز اختلاف بڑھتا چلا جا رہا ہے جو تمام مسلمانوں اور اتحاد بین المسلمین کے علمبرداروں کے لئے ذہنی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ نئے قمری ماہ کا چاند دیکھنے کا مسئلہ بظاہر تو سادہ سا ہے مگر دورِ حاضر کی حیران کن ترقی اور وسائل کی فراوانی نے اسے ایک اہم قضیہ بنا دیا ہے۔ ایک صدی پہلے تک جہاں جہاں مسلمان بستے تھے وہاں مقامی مطلع کے مطابق چاند دیکھ کر قمری مہینے کی یکم تاریخ کا تعین کر لیتے تھے۔ اس لئے کہ سفر مشکل تھے اور اطلاعات کی منتقلی زیادہ تیز رفتار نہیں تھی زیادہ سے زیادہ سفر روزانہ 20-15 میل( یا 30-20کلو میٹر) ہوتا تھا اس درجے میں مطلع کا ویسے ہی زیادہ تفاوت نہیں ہوتا۔

دورِ حاضر میں ایک آدمی سعودی عرب میں چاند دیکھ کر جہاز میں بیٹھتا ہے اور رات گیارہ بجے تک کراچی پہنچ جاتا ہے یا آدمی کراچی سے عصر کے وقت روانہ ہو کر جدہ اترتا ہے تو وہاں مغرب عشاءکے درمیان کا وقت ہوتا ہے دوستوں کو موبائل پر اطلاع دے سکتا ہے کہ چاند نظر آگیا ہے۔ لمحے لمحے کی خبریں یہاں سے وہاں، مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق پہنچ رہی ہیں، لہٰذا اب ہماری ذہنی ساخت اورصدیوں سے بنے بنائے نسلاً بعد نسلٍ جاری ذہنی پیمانے بھی مجروح ہو رہے ہیں۔

قرآن مجید بلاشبہ اللہ کا کلام ہے اور سنت رسول قرآن کی تشریح اور تفاصیل کے تعین کے لئے واحد سر چشمہ ہے۔ قرآن و سنت اپنی جگہ لیکن قرآن و حدیث سے ہمارے ذہنوں نے کچھ چیزیں اخذ کر نے کے لئے ایک کائناتی تصور کا معہود ذہنی ساخت اور سانچہ یا کنیڈا پہلے ہی بنا لیا ہوتا ہے جو ہر دور میں اپنے دور کے مروّجہ علوم اور عصری علوم کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ چودہ سو سال پہلے کائنات سے متعلق قرآن و حدیث کے الفاظ سے جو سمجھا گیا وہ اس دور کے عصری علوم کی فضا سے باہر نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس کا مکلف ٹھہرایا ہے تاہم گذشتہ دو تین صدیوں میں مغربی علوم کی ترقی کے ساتھ کائنات کے بارے میں جو انسانی معلومات میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے اس سے قرآن و حدیث کے الفاظ اور متن میں تو نہ کوئی فرق پڑنے والا ہے اور نہ آئندہ پڑے گا، مگر ہمارے ذہنی پیمانے اور تصورات کو اس ترقی سے ضرور دھچکا لگتا ہے، جس صورت حال کو ہم جلد بازی میں ”قرآن و حدیث کے خلاف“ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے ہیں حالانکہ کائناتی حقائق کے بارے میں سائنسی ترقی قرآن مجید کے الفاظ اور متن کو زیادہ حق ثابت کر رہی ہے اور اس کی تائید اور تقویت کا باعث ہے جس کا ہمیں اعتراف کرنا چاہئے۔ اس کی درج ذیل مثالیں سامنے رکھیں، اللہ تعالیٰ آپ کے ذہن رسا کو قرآن و سنت کے تصور کے قریب تر کر دیں گے۔(مزید انشراح صدر کے لئے فرانس کے نو مسلم ڈاکٹر مورس تھائی کی کتاب”بائبل، قرآن اور سائنس“کا مطالعہ کریں۔)

آج سے 6 ہزار سال پہلے سے لے کر اٹھارھویں صدی تک دُنیا بھر میں عوامی سطح پر زمین کے چپٹا ہونے کا تصور تھا۔ (آج بھی دور دراز علاقوں میں کم تعلیم یافتہ لوگ شاید اسی دور میں رہ رہے ہیں) آسمان کا بلند ہونا بھی بس چند سو میٹر سے زیادہ فاصلے کا تصور نہ تھا۔ اسی لئے ہمارے قدیم مذہبی لٹریچر میں اور قرآن کی تشریح میں جو اس دور کی تحریریں ہیں ان میں طوفانِ نوحؑ کا تذکرہ عجب انداز میں ہے کہ وہ پوری زمین پر آےا تھا، بلکہ دیہاتی سطح پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت نوحؑ کا بیٹرا آسمان سے جا لگا تھا۔

قرآن مجید میں سورة مومن(40) میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوت توحید دی ہے اور ربّ العالمین کا ذکر فرمایا ہے تو فرعون نے بزعم خویش اپنے وزیر ہامان کو کہا کہ میرے لئے ایک اونچی سی عمارت بناﺅ تا کہ اس پر چڑھ کر دیکھوں کہ موسیٰ علیہ السلام کا رب فضاﺅں میں کہاں ہے؟اس کے خیال میں دس بیس منزلہ مکان کی چھت (یا اونچے سے اونچے اہرام 400 فٹ) پر کھڑے ہو کر فضا میں اللہ کے بارے میں خبر لائی جا سکتی ہے۔ یہ کو تاہ فہمی صرف فرعون کا قصور نہیں تھا، بلکہ کئی سوسال تک طبیعات کی دُنیا کے یہی تصورات رہے۔ انسان وحی الٰہی کی بھی وہی تشریحات کرتا ہے جو اس کے مروّجہ علوم عصری سے ایک ذہنی ظرف تیار ہوچکا ہو تا ہے اور یہی سلسلہ ماضی میں جاری رہا ہے۔

الحمد للہ، حقیقت کے عین مطابق امت مسلمہ کا ایمان ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس کے الفاظ اٹل اور مستقل ہیں، قرآن مجید کی تشریح سنت رسول ہے اور اس سنت کا ماخذ اوّل کتب احادیث ہیں اورپھر آثار صحابہ ہیں۔ تا ہم چونکہ احادیث کے الفاظ اور متن میں انسانی ذہن اور یادداشت کو دخل ہے لہٰذا اس کے الفاظ صحابہؓ اور تابعین کے دور کے بعد کے غیرثقہ راویان کی وجہ سے حدیث کے صحیح ہونے اور مفہوم کے ادا ہونے کے باوجود الفاظ کے غیر نبوی ہونے کا امکان ہے۔

اس پر مستزاد ہے عصری علوم اور طبعی اور جغرافیائی حقائق کے زیر اثرآج سے ہزار سال قبل کا ذہن جس نے علوم انبیاء کو اخذ کیا اور ان کی تشریح کی، لیکن اس دور کے کائنات کے تصور سے بہر حال باہر نہےں جا سکتے تھے اور نہ ممکن ہی تھا۔

آج گزشتہ پانچ صدیوں کی محنت اورتجرباتی علوم کی ترقی کے باعث فلکیات، طبقاتی سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب کائنات کا تصور ہی بدل گیا ہے اور پرانے ذہنی سانچے الٹ پلٹ ہو گئے ہیں۔

اسی طرح چاند، زمین اور سورج سے متعلق حقائق کی دریافت سے بھی پرانا ذہن بدل چکا ہے۔اگرچہ قرآن مجید کے الفاظ اٹل ہیں اور احادیث اور سنت رسول بھی غیرمتبدل ہے تاہم سائنسی اور کائناتی حقائق کی دریافت اور علم کی وسعتوں کے پیش نظر انسان کا ذہنی ظرف بدلا ہے تو قرآن و حدیث کے الفاظ کی روشنی میں حقائق پر دوبارہ غور و فکر کی ضرورت ہے اور یہ بھی کوئی اور نہیں علماءکرام اور ماہرین قرآن و سنت ہی کو کرنا ہو گا۔

اس پس منظر میں دیکھئے قمری مہینے کی ابتداءاور رﺅیت ہلال کا مسئلہ اہم ہونے کے باوجود کوئی لاینحل مسئلہ نہیں ہے، آئےے چند بنیادی حقائق پر نظر ڈالیں اور غور کریں۔

(1) زمانہ قدیم میںقمری اور شمسی دونوں طرح کے کیلنڈر رائج تھے اور آج بھی ہیں اور مذاہب و اقوام عالم عام طور پر کسی ایک کو اپنے لئے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسلام کی آفاقیت کی دلیل اور اللہ کی حکمت کا مظہرہے کہ پیغمبر اسلام نے اسلام کی تعلیمات کو بروئے کار لانے کے لئے سورج اور چاند دونوں سے متعلق وقت کی پیمائش کو اپنا اپنا مقام دیا ہے۔

(i) نمازوں کے لئے سورج کے طلوع و غروب کے حوالے سے پانچ نماز یں فرض ہیں اوقات (زوال، طلوع، غروب وغیرہ) سورج سے متعلق کر دےے گئے ہیں۔

(ii) فصلوں کا نظام اور عشر کا نظام بھی سورج کے ساتھ وابستہ ہے صاف ظاہر ہے کہ اس کو قمری نظام سے جوڑنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی جوڑا گیا ہے۔

(iii) اسلامی تقویم اور حج اور روزہ کی عبادت کو چاند کی حرکت اور تغیر و تبدل کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اور اس میں بڑی حکمتیں ہیں ویسے تو اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں تا ہم جو حکمت عیاں ہے وہ یہ کہ روزہ اور حج کو قمری کیلنڈر سے جوڑ کر ان عبادات کو کسی ایک موسم کی بجائے سال بھر کے دوران چلایا گیا ہے کہ دُنیا کے ہر خطے اور علاقے کے لوگ مختلف موسموں اور فصلوں اور مصروفیا ت کے دوران ان عبادات کے لئے وقت نکالیں اور سردیوں گرمیوں کے مستقل خانوں میں مقید نہ رہیں۔

(iv) نمازوں کے او قات کے لئے پہلے سورج کو دیکھا جاتا تھا اور سائے سے اندازہ لگایا جاتا تھا اب اس نے ترقی کر کے گھڑی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ سوئیوں والی گھڑی کی بنیاد سورج اور سایہ کی تبدیلی ہی ہے۔

(v) اب موجودہ دور میں ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے اور ڈیجیٹل کلاک نے تو سارا منظر تبدیل کر دیا ہے اور گھڑی اور سورج کا ایک موہوم سا تعلق بھی قصہ ماضی بنا دیا ہے۔

دور نبوی اور دور صحابہ ؓ میں رﺅیت ہلال سے متعلق مختلف مواقع پر مندرجہ ذیل قسم کی صورت حال پیدا ہوئی۔

(i) اسلام میں عیدوں کی تہواری اہمیت اور حضرت محمد کی ترغیب اور تشویق کے نتیجے میں عام شوق تھا کہ چاند دیکھا جائے۔ اگرچہ کبھی بھی شاید ایسا نہیں ہوا کہ لازماً تمام مر د و خواتین چاند دیکھیں تا ہم اگر اکثر نے چاند دیکھ لیا تو بات اولی الامر تک پہنچائی گئی اور چاند کا اعلان کر دیا گیا۔

(ii) مطلع کے صاف نہ ہونے یا کسی اور وجہ سے ہلال عمومی طور پر نظر نہیں آےا تو کم از کم دو معتبر گواہ ہونے کی صورت میں اولی الامر نے چاند ہونے کا فیصلہ دے دیا۔

(iii) کسی علاقے میں چاند نظر نہےں آےا بلکہ باہر سے کوئی آدمی آےا اور اس نے (مطلع کے ذرا سے فرق کی وجہ سے) چاند دیکھنے کی شہادت دی تو اولی الامر نے چاند دیکھنے کا فیصلہ کردیا ۔

(iv) دورِ نبوی میں رمضان کے 30 ویں دن ایک آدمی مدینے سے باہر سے آیا اور اس نے چاند ہونے کی اطلاع دی تو رسول اللہ نے روزہ کھلوا کر عیدہونے کا اعلان فرما دیا۔

(v) اسلامی سلطنت کی وسعت پر مختلف شہروں مےں چاند کے فیصلہ ہونے کی صورت مےں قریبی علاقہ جہاں تک اطلاع پہنچائی جا سکتی تھی (زیادہ سے زیادہ ایک روز کا سفر) وہاں تک نیا چاند نظر آنے کو تسلیم کر کے اس کے مطابق عمل کیا گیا ۔

دور حاضر میں علمائے کرام اور ماہرین قرآن و سنت نے مختلف مواقع پر نئے تناظر میں اجتہاد کیا ہے اور امت کی رہنمائی کی ہے یہ اجتہادی فیصلے بڑے اہم ہیں اب وہاں سے آگے کی طرف مزید سوچنے کی ضرورت ہے۔ 60ءکی دہائی میں جب پاکستان مغربی اور مشرقی حصوں پر مشتمل تھا ایسا ہوتا تھا کہ مغربی پاکستان میں چاند نظر آیا تو 1000 میل دور مشرقی پاکستان میں عید کرلی گئی اور اگر مشرقی پاکستان میں چاند نظر آےا تو مغربی پاکستان میں عیدکر لی گئی۔ اگرچہ مروّجہ طور پر مشرقی اور مغربی پاکستان میں ایک گھنٹے کا فرق تھا اب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد کیا 1000میل (1600کلومیٹر) کے فاصلے پر دالبندین سے بحرین کا یا الجبیل (سعودی عرب کا مشرقی مقام) سے ہلال کی رﺅیت کو نہیں جوڑا جاسکتا۔ پشاور میں چاند نظر آنے پر گوادر اور تربت میں عید ہو سکتی ہے تو تربت میں چاند نظر آنے پر پورے ملک میں عید کیوں نہیں ہوسکتی؟امر تسر اور لاہور کا فرق 50کلو میٹر کا ہے شاید گوادر میں رﺅیت ہلال پر لاہور میں عید ہو جائے، مگر امرتسر میں چاند نظر آنے پر ممکن نہیں کیوں؟ حالانکہ مطلع کا کوئی فرق نہیں اور مطلع اور فضا ہر قسم کی جغرافیائی حدود سے بالا تر چیز ہے۔ اس طرح سعودی عرب اور مصر، سعودی عرب اور کویت ،امارات، عراق ، اردن اس طرح ہیں جس طرح پاکستان کاصوبہ بلوچستان اور صوبہ سرحد اور کشمیر۔ پھر اللہ نے عالم اسلام کو جو جگہ دی ہے وہ جغرافیائی اعتبار سے بڑی اہم ہے۔ انڈونیشیا، ملائیشیاسے مراکش تک صرف 6گھنٹے کا فرق ہے، جبکہ پاکستان سے لے کر سعودی عرب تک کا علاقہ اس کا وسط ہے اگر اس درمیانی علاقہ میں چاند نظر آ جائے تو پورے عالم اسلام میں رﺅیت تسلیم کی جانی چاہئے۔

اس سے بھی ذراہٹ کر غور فرمائیں پورے فضائی ماحول میں چاند وہ واحد کرّہ ہے، جس سے متعلق انسانی معلومات آج زمین کے بعد سب سے زیادہ ہیں اس لئے کہ وہاں تو مختلف مہمات کے دوران انسان کے بھیجے ہوئے مشینی آلات سمیت چاند گاڑی اتر چکی ہے۔ لہٰذا اس کی حرکات اور مدار کے لمحے لمحے کی کیفیت کا ہمیں گھر بیٹھے اندازہ ہے اسی لئے ہم سب جانتے ہیں کہ اب سال پہلے (بلکہ آئندہ دس سال کے چاند سورج کے گرہنوں کا شےڈول دیا جا سکتا ہے) چاند گرہن اور سورج گرہن کے اوقات ، دورانیہ اور تاریخ سے متعلق اطلاع دے دی جاتی ہے۔ اس وقت فی الواقع گرہن کے وقت میںکچھ فرق نہیں ہوتا۔

گویا چاند کی محوری گردش اور سالانہ گردش کی معلومات کے پیش نظر سال بھر کے چاند کے سفر اور کسی خاص مطلع پر اس کے نظر آنے کی پیشگی اطلاع ہو سکتی ہے۔ جیسے سورج کے طلوع و غروب کے سائنسی نظام سے بنے چارٹوںسے ہم لوگ فائدہ حاصل کر کے روزہ رکھتے اور افطار کرتے ہیں اسی طرح اس کے مماثل چاند کے بارے میں معلومات کے تحت رمضان المبارک کے آغاز و اختتام کا فیصلہ نہ خلاف عقل و فطرت اورنہ اَبعد من السنة ہے۔

ایک اور نظر سے دیکھیں تو ہمارے قابل احترام علماءکرام اور ماہرین قرآن و سنت نے اس طرح کا ایک اجتہاد پہلے سے کر رکھا ہے اور اسی کا فتویٰ بھی دیا جاتاہے اورایسا فتویٰ حالات کا تقاضا بھی ہے اور قرآن و سنت کی صحیح رہنمائی بھی۔ و ھو ھذا....کرّہ ارض کے انتہائی شمالی ممالک اور علاقوں میں 6ماہ کی رات اور 6ماہ کا دن ہوتا ہے یا کم و بیش اس طرح کے حالات ہیں ایسی صورت میں صاف ظاہر ہے کہ یا تو علماءکرام یہ فتویٰ دیتے کہ وہاں کے مسلمان سال میں صرف پانچ نمازیں پڑھیں اور روزے بالکل نہ رکھیں ، اگر ایسا ہو تا تو یہ شریعت کے ظاہری منشا کے خلاف ہوتا۔ اب علماءکرام کا فتویٰ یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان دیگر قریبی مسلمان ممالک کے مطابق گھڑی دیکھ کر 24 گھنٹے میں پانچ نمازیں ادا کریں اور گھڑی دیکھ کر رمضان المبارک کے ماہ میں روزے بھی رکھیں۔ اب دیکھیں یہ صلوٰة جیسی عبادت کاسارا نظام سورج کی ظاہری حرکت سے کاٹ کر نظری صورت حال سے جوڑ دیا گیا ہے حالانکہ قرآن مجید میں کتابًا موقوتًا کا لفظ آیا ہے اور بصری طور پرسورج نظر آتا بھی ہے 6ماہ کے دن میں صبح کا مکروہ وقت ہمارے کئی دنوں کے برابر ہوگا، زوال کا وقت بھی ہمارے کئی دنوں کے برابر ہوگا، عصر کے بعد کا وقت بھی ہمارے تقریباً 10دنوں کے برابر ہوگا (جس میں اس دن کی عصر کے علاوہ کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی جاسکتی) تو گویا سورج زوال پر ہے نماز اور سجدہ منع ہے مگر آپ کئی دفعہ ظہر، عصر، مغرب ،عشاء،فجر ادا کر رہے ہیں۔ علیٰ ھٰذا القیاس طلوع اور غروب کے وقت بھی۔

اگر بصری طور پردیکھتے ہوئے بھی سورج کے زوال، غروب و طلوع کے ممنوعہ اوقات میں کئی فرض نماز ادا کرنے کی اجازت ہو سکتی ہے تو چاند کی نظری حرکت کے پیش نظر پاکستان کا کیلنڈر کیوں ترتیب نہیں دیا جا سکتاحالانکہ یہ ایک قابل عمل چیز ہے (عوام کی رہنمائی کے لئے کراچی کے دو معروف دارالعلوموں کے فتاویٰ اس عنوان پر موجود ہیں)۔

سورة بقرہ ،رکوع 23میں جہاں روزہ کے احکام وارد ہوئے ہیں (ماہ صیام کا آغاز اور عیدالفطر کے لئے رﺅیت ہلال کی سب سے زیادہ اہمیت ہے کہ فیصلہ کرنے میں وقت کم ہوتا ہے) وہاں اس رکوع سے متّصلاً بعد آیت ہے۔

یَس±ئَلُو±نَکَ عَنِ ال±اَھِلَّةِ قَل± ھِیَ مَوَاقِی±تُ لِلنَّاسِ وَ ال±حَجِّ (البقرة: 189)

”(اے محمد) لو گ آپ سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (اوقات کے تعین) اور حج کے وقت معلوم کرنے کا ذریعہ ہے“۔

یعنی چاند کا فی نفسہ کوئی قابل احترام شئے ہونا غلط فہمی ہے یہ تو لوگوں کے لئے وقت کی پیمائش کا ایک ذریعہ ہے اور حج(کے معلوم کرنے) کا بھی تو جیسے سال بھر کے لئے طلوع و غروب کے چارٹ مطبوعہ ملتے ہیں اسی طرح چاند سے متعلق سال بھر کا کیلنڈر بن جانا بھی کوئی خلاف عقل و فطرت بات نہیں ہے۔(واللہ اعلم)

انہی علاقوں میں جہاں دن اور رات کی طوالت غیرمعمولی ہوتی ہے، چاند کی رﺅیت بصری کا معاملہ بھی زیادہ پریشان کن ہے۔ جہاں سورج چھ ماہ نظر آتا ہے وہاں چاند نظر نہیں آسکتا لہٰذا ان چھ ماہ کے دوران روزہ ،حج اور قمری مہینہ کی تاریخ کے لئے آپ کو ہزار میل دور کے کسی غیرملک کی قمری تقویم( نظری تقویم) پر عمل کرنا ہو گا۔

اسی بات کو ایک مختلف زاویہ نگاہ سے ملاحظہ فرمائیں۔

دن کئی ماہ کا ہو جائے یا رات، چاند نظر آئے یا نہ آئے، در حقیقت بات عام حالات میںمعمول کی زمینی گردش میں اپنے محور کے گرد ایک چکر مکمل کرنے کی ہے جس کو عام معروف معنیٰ میں دن (ONE DAY) یا دن رات یا 24 گھنٹے کہا جاتا ہے۔

صحیح مسلم کتاب الفتن میں ایک حدیث میں حضرت نواس بن سمعان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے دجال کا تذکرہ فرمایا:

قُل±نَا یَا رَسُو±لَ اللّٰہِ وَمَا لُب±ثُہ¾ فِی ا±لاَر±ضِ قَالَ: اَر±بَعُو±نَ یَو±مًا یَو±مµ کَسَنَةٍ وَ یَو±مµ کَشَہ±رٍ وَ یَو±مµ کَجُمُعَةٍ وَسَائِرِ اَیَّامِہ کَاَیَّامِکُم± قُل±نَا یَا رَسُو±لَ اللّٰہِ فَذٰ لِکَ ال±یَو±مُ الَّذِی± کَسَنَةٍ اَتَک±فِی±نَا فِی±ہِ صَلٰوةُ یَو±مٍ قَالَ لَا! اُق±دُرُو±الَہ¾ قَد±رَہ¾ (صحیح مسلم )

” ہم نے دریافت کیا یا رسول اللہ! وہ زمین پر کتنی مدت رہے گا؟آپ نے فرمایا: چالیس دن تک، ایک دن ان میںکا ایک سال کے برابر ہو گااور دوسراایک مہینے کے، اور تیسرا ایک ہفتہ کے اور باقی دن جیسے یہ تمہارے دن ہیں، (تو ہمارے دونوں دِنوں کے حساب سے دجال ایک برس دو مہینے چودہ دن تک رہے گا)۔اصحاب نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جو دن سال بھر کے برابر ہوگا اس دن ہم کو ایک ہی دن کی نماز کفایت کرے گی؟ آپ نے فرمایا نہیں! تم اندازہ کر لینا اس دن میں بقدر اس کے (یعنی جتنی دیر کے بعد اِن دنوں میں نماز پڑھتے ہو اسی طرح اُس دن بھی اٹکل کرکے پڑھ لینا)“۔

اندازے سے نمازیں اداکرنا (اور روزے رکھنا) گویاحدیث صحیح سے ثابت ہوگیا (اور غالباً یہی بنیاد ہے علماءکے اوپر تذکرہ شدہ فتویٰ کی) اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خاص حالات کی بات ہے اور اس خاص کو عام کیسے کیاجا سکتاہے؟ غور طلب بات یہی ہے کہ اگر معروضی دنیا میں حالات سابقہ ڈگر پر چلتے رہتے اور طبیعات، فلکیات، تحقیق کا معیار وہی صدیوں پرانا انسانی آنکھ کا مشاہدہ ہی ہوتا تو بلا شبہ یہی فتویٰ رہتا جو قرون اولیٰ میں رہا اور صدیوں بعد تک قابل عمل رہا۔ مگر حالات، معیار تحقیق اور وسائل تحقیق نے ترقی کر لی ہے اور اب مشاہدہ کی بنیاد ہے تو انسانی آنکھ کا مشاہدہ تاہم دوربین اور خوردبین اور دیگر ذرائع مواصلات وائرلیس، ایکسریز، موبائل فونز اور سیٹلائٹس وغیرہ سے اب انسان عام مشاہدہ کی باریک چیز کو ایک لاکھ گنا بڑا کر کے دیکھ سکتا ہے اور کروڑوں نوری سال دور کے کسی سیارے کو قریب کر کے انسانی آنکھ کے لئے قابل مشاہدہ بنا سکتا ہے لہٰذا چاند، سورج اور دیگر اجرامِ فلکی کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ اب پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی میں اور صحت اور تعین کے ساتھ کیا جا سکتا ہے صرف ظن و تخمین نہیں۔

حضرات علماءکرام اور ماہرین قرآن و حدیث کے لئے یہ بات بڑی قابل لحاظ ہے کہ ذرائع تحقیق میں اضافہ، علمی مواد کی فراوانی اور کل جہان میں بیک وقت اپنے مطالعہ کی میز پر دستیابی (انٹر نیٹ کے ذریعے) اور وسائل آمد و رفت اور اطلاعات کے طوفان نما انقلاب نے ایسے حالات پیدا کر دےے ہیں کہ مسلمانانِ عالم کو ایک بین الاقوامی امت کی طرف پیش رفت کے لئے فکری بنیادیں فراہم کرنا گرد و پیش کی ضرورت ہے۔

آج دنیا کو ایک عالمی گاﺅں (GLOBAL VILLAGE) کہا جار ہا ہے ملکوں کی حےثیت ایک لحاظ سے گاﺅں کے مکانوں سے بھی زیادہ قریب کی ہوتی جاری ہے۔ دوچار کلومیٹر قریب کاواقعہ گھنٹہ دو گھنٹہ بعد عالمی نشریاتی اداروں سے چہار دانگ عالم میں پھیل جاتا ہے۔ اگرچہ دنیا نے یہ ترقی کر کے انسانی وحدت اور ایک عالمی حکومت کا جواز پیدا کر دیا ہے۔ غربی اقوام اور ایک ان دیکھی قوت اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے پر گویا تلی ہوئی ہے لیکن یہ در اصل سارا انتظام حضرت محمد کی لائی ہوئی ہدایت (قرآن مجید) کی تعلیمات کی ابدیت اور آفاقیت کے اظہار کا موقع میسر آر ہاہے اور تاریخ کا بہاﺅ اور سائنسی ترقی انسانیت کو پیغمبر انقلاب اور محسن ِ انسانیت کے لائے ہوئے نظام کے عالمی غلبے کی طرف ہانک رہی ہے اور عفت و عصمت کے ایک روحانی نظام کی طرف لے جانے کا ایک فطری اور عقلی دباﺅ ہے جس کے تحت انسان اسی منزل کی جانب پیش قدمی کرنے پر مجبور ہے جسے شعر کی زبان دی ہے ڈاکٹر علامہ اقبال نے

ہر کجا بینی جہاں رنگ و بو

زانکہ از خاکش بروید آرزو

یا ز نور مصطفےٰ او را بہا ست

یا ہنوز اندر تلاش مصطفےٰ است

یا جیسے ربّ ذوالجلال نے خود قرآن مجید مےں ایک خبریہ انداز میں فرمایا:

سَنُرِی±ہِم± اٰیٰتِنَا فِی ال±اٰفَاقِ وَ فِی± اَن±فُسِہِم± حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُم± اَنَّہُ ال±حَقُّ اَوَلَم± یَک±فِ بِرَبِّکَ اَنَّہ¾ عَلٰی کُلِّ شَی±ئٍ شَہِی±دµ (حم السجدہ: 53)

” ہم عنقریب ان کو اطراف عالم مےں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے“۔

گویا ایک عالمی اسلامی عوامی(جمہوری) فلاحی ریاست کا انسانی خواب اب پورا ہو کر رہے گا جو اعلیٰ انسانی اقدار کوسیاسی اور معاشی سطح پرسمو کر مشرق و مغرب کے تمام انسانوں کو اپنے اندر سمیٹ لے گی۔ان شاءاللہ جہاں تمام نوع انسانی بلا لحاظ رنگ و نسل و مذہب سکھ کا سانس بھی لے گی اور جہاںعدل و انصاف اور شرفِ انسانی کے اعلیٰ اخلاقی و روحانی اقدار کا فروغ بھی ہوگا اور یہ سب نعمتیں ہر انسان کو گھر کی دہلیز پر میسر آئیں گے۔ یقینا مبارکباد کے لائق ہیں وہ لوگ جو اس اعلیٰ نصب العین کے لئے کوشاں ہیں اور اس کو آج کے ذہنوں میں اتارنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور یقینا ایسے لوگوں کا وجود بھی بڑا مبارک ہے جو اس راستے کے کانٹے ہی دور کرنے پر اپنا وقت لگا رہے ہیں اور آنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ در حقیقت حضرت محمد کی رحمت للعالمینی کی شان در اصل اسی وقت ظاہر ہو گی کہ واقعی ان کا لایا ہوا دین تما م نوعِ انسانی کے لئے کتنے فائدہ اور برکت کا حامل تھا اور ہے۔ جو لوگ آج اس آنے والی تبدیلی کے راستے میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں کل وہ بھی اس کی حقانیت کے نہ صرف قائل ہو جائےں گے بلکہ اسی کے گن گا رہے ہوں گے۔ چنانچہ ایک حدیث میں لسان رسالت، لسان حق ترجمانﷺ سے یوں الفاظ ادا ہوئے ہیں

لَا یَب±قٰی عَلٰی ظَہ±رِ ال±اَر±ضِ بَی±تُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ اِلَّا اَد±خَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَةَ ال±اِس±لَامِ بِعِزِّ عَزِی±زٍ اَو± ذُلِّ ذَلِی±لٍ، اِمَّا یُعِزُّہُمُ اللّٰہُ فَیَج±عَلُہُم± مِن± اَہ±لِہَا اَو± یُذِلُّہُم± فَیَدِی±نُو±نَ لَھَا۔ قُل±تُ فَیَکُو±نُ الدِّی±نُ کُلُّہ¾ لِلّٰہِ (مسند احمد، عن المقداد)

”روئے زمین پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر رہ جائے گا اور نہ اونٹ کے بالوں کا بنا ہوا خیمہ، جس میں اللہ کلمہ ¿ اسلام کوداخل نہ کر دے خواہ کسی سعادت مند کو عزت دے کر اور خواہ کسی بدبخت کو مغلوبیت کے ذریعے یعنی یا تو اللہ گ لوگوں کو (اسلام کی بدولت) عزت عطا فرما دے گا اور انہیں کلمہ اسلام کا قائل وحامل بنا دے گا۔ یا (حالت کفر پر برقرار رہنے کی صورت مےں) انہیں مغلوب فرما دے گا کہ وہ اس کے محکوم اور تابع بن کر رہیں گے۔ ( حضرت مقدادص فرماتے ہیں کہ اس پر ) مَیں نے اپنے دل میں کہا: ” پھر تو واقعتا دین کل کا کل اللہ ہی کے لئے ہو جائے گا“۔

اس آنے والے دور ہی کے لئے ایک بنیادی کڑی اورسفری بیگ وغیرہ کو کھولنے والی ZIP کی پہلی کڑی کی طرح کا کوئی چھوٹاسا اجتماعی عمل ہو گا، جس سے عالم اسلام کے اجتماعی شعور میں ایک خوشگوار اتحاد اور یگانگت کی لہر دوڑ جائے گی اور بعد ازاں پے در پے واقعات اس منزل کی طرف بڑے بڑے اقدامات کا سبب بن کر بالآخر ساری محنت نتیجہ خیز ہو جائے گی۔

(یہ بات قارئین کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ سائنسی انکشافات نے بات یہاں تک پہنچا دی ہے اور دوتین سال قبل ہمارے ہاں بھی پریس میں آ چکی ہے کہ مریخ اور زمین چند سال بعد اتنے قریب آجائیں گے کہ ان کا اپنا اپنا کشش ثقل کا نظام ایک دوسرے سے متاثر ہوجائے گا اور مریخ چونکہ زمین سے کئی گناہ (100گنا) بڑا ہے لہٰذا زمین کی حرکت محوری کم ہو کر ختم ہو جائے گی پھر زمین کی حرکت محوری اُلٹی ہو جائے گی اور زمین جب مریخ کے اثر سے آزاد ہوگی تو الٹی حرکت دوبارہ کم ہو کر ختم ہوگی اور پھر دوبارہ زمین کی صحیح سابقہ محوری حرکت کا آغاز ہو گا۔ اس طرح کا واقعاتی قِران تقریباً 30000سال بعد ہوسکتا ہے لہٰذا اس طرح کا گذشتہ قِران معروف تاریخ انسانی سے قبل کا ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس زمین کی اُلٹی محوری گردش میں سورج مغرب سے طلوع ہوتا نظر آئے گا یعنی اس واقعہ میںقربِ قیامت کی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا بھی گویا شامل ہو گا)۔

آخری بات یہ ہے کہ رﺅیت بصری کے بجائے رﺅیت نظری کا اہتمام اب دورِ حاضر میں جدید فنی ایجادات اور INFORMATION TECNOLOGY کی ترقی کی وجہ سے ضرورت ہی نہیں اُمت مسلمہ کے مصالح کے تحت لازم ہے اور پہلے پاکستان کے لئے ایک رﺅیت نظری پر مشتمل کیلنڈر تیار کیا جانا ضروری ہے جس میںا ہل ِ علم، ماہرین ہیئت و جغرافیہ اور ماہرین قرآن و سنت شامل ہوں۔ اسلامی نظریاتی کونسل یا شریعت کونسل یا کوئی دیگر خصوصی نو تشکیل شدہ ادارہ کے تحت یہ کام کیا جا سکتا ہے اور یوں قرآن اور حدیث کے مسلمات پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ فرائض کی ادائیگی اور اسلامی تہواروں کے تعین کے لئے عالمی امت اور امت واحدہ کا تصور اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

اس مقصد کے لئے آپ غور کیجئے ایک اہتمام خالق کائنات نے پہلے سے ہی کر رکھا ہے قرآن مجید اللہگ کا کلام ہے اور اگرچہ یہ چودہ صدیاں پہلے نازل ہوا تاہم یہ کلام تاقیامت انسانوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ رہے گا اس کے الفاظ میں چودہ صدیاں قبل کے انسانوں کے لئے بھی رہنمائی تھی اور اب بھی ہے اور آئندہ تا قیام قیامت رہے گی اس قرآن کے کلام الٰہی ہونے اور متکلم کی طرح زندہ و پائندہ ہونے کی وجہ سے اس کے الفاظ میں وہ معنوی گنجائش موجود ہے جو تمسک بالقرآن کے ٹھیٹھ تصور کو مجروح کئے بغیر بھی آج کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے نام سے کون واقف نہیں الفوزالکبیر فی اصول التفسیر میں فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی تفسیر کے ضمن میں یہ اصول پیش نظر رہنا چاہیے ”اَلا±ع±تِبَارُ لِعُمُو±مِ اللَّف±ظِ لَا لِخُصُو±صِ السَّبَبِ“ قرآن مجید کے الفاظ کے عموم کا خیال رکھا جانا چاہےے نہ کہ سبب کے اختصاص کا۔

الفاظ کے عمومی معنی کا خیال رکھیں گے تو اسلام میں حرکت (DYNAMISM) اور اجتہاد کا فطری اور لابدی تصور اجاگر ہوگا جبکہ الفاظ کوکسی خاص پس منظر والے معنٰی میں مقید کر دیں گے تو جامدیت اور تحجر کا تصور ابھرے گا اور اسلام کے دین فطرت ، آفاقی دین اور ہر دور اور ہر علاقے اور پوری انسانیت کے دین کے تصور کو اجاگر کر نے میں مشکلات پیدا ہوجائےں گی۔

اسی طرح حدیث کے الفاظ میں اگر متن کے الفاظ میں کوئی معنٰی ایسے نکلتے ہوں جو پہلے قابل عمل نہیں تھے اب لائق اعتناءاور مصالح امت کے لئے ضروری ہیں تو کئی دوسرے مواقع کی طرح رﺅیت ہلال کے مسئلے پر اس کا اطلاق وقت کا تقاضا ہے۔

لفظ رﺅیت.... عربی لغت میں دو معنی مےں آےا ہے دیکھنا اور غور کرنا جیسے بصر اور بصیرت ظاہری آنکھ سے دیکھنا اور دل کی آنکھ سے دیکھنا۔ اسی لئے قرآن مجید کی آےات میں مختلف جگہ مفسرین کرام نے رﺅیت کے لفظ کے اپنے ذوق کے مطابق تراجم کئے ہیں۔

٭مثال کے طور پر سورة الفیل میں اصحاب فیل کا واقعہ ہے اور نبی اکرم کو اللہ نے

فرمایا ہے:

اَلَم± تَرَ کَی±فَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَص±حٰبِ ال±فِی±لِ O

”کیا تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ“۔

یہاں لفظ ”لم تر“ رﺅیت سے اور ”رائے“ مادہ سے آےا ہے مگر صاف ظاہر ہے یہاں مراد رﺅیت بصری ہو ہی نہیں سکتی یہاں سو چنا ،غور کرنا اور دل کی آنکھ سے دیکھنا ہی مراد ہو سکتے ہیں ۔

٭ایک اور مثال قرآن مجید میں فرعون کے تذکرہ میں ہے۔ اللہگ فرماتے ہیں

وَفِر±عَو±نَ ذِی ال±اَو±تَادِ O (الفجر 89)

”اور فرعون ’اوتاد‘ والا“۔

”وتد“ عربی میں بڑی میخ یا PEG کو کہتے ہیں قرآن مجید میں پہاڑوں کو بھی ”وتد“ کہا گیا ہے

وَال±جِبَالَ اَ و±تَادً ا O (النبا 78)

”اور پہاڑوں کو اوتاد بنا یا۔“

ہمارے متقدمین مفسرین کرام نے ”فرعون میخوں والا“ ترجمہ کیا ہے اگرچہ ”فرعون پہاڑوں والے“ ترجمہ کرتے تو ممکن تھامگر اس کی تطبیق کہ پہاڑوں سے مراد کیا ہے ایک لاینحل مسئلہ ہوتا اب جبکہ عصر حاضر مےں فرعون بادشاہوں کے تعمیر کردہ ”اہرام مصر“ دریافت ہو چکے ہیں جو پہاڑوں ہی کی طرح بڑے بڑے ہیں اور 1902ءمیں انہیں اہراموں میں سے فرعونِ موسیٰؑ کی لاش بھی برآمد ہو چکی ہے جو قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔

غور فرمائیں! قرآن مجید پہاڑوں کو ”اوتاد“ کہتا ہے اور فرعون کو ”ذی الاوتاد“ کہتا ہے تو دو باتوں کو ملانے سے منطقی نتیجہ ہے ”فرعون پہاڑوں والے“ یعنی وہ فراعنہ مصرجنہوں نے پہاڑوں جیسے اہرام اور مقبرے بنا دےے تھے۔

آج یہ ترجمہ ممکن ہے کہ علوم عصری میں یہ بات واضح ہو چکی ہے اور زبان زد خاص و عام ہے اگرچہ 1902ءسے قبل وہی ترجمہ ممکن تھا جو ہوا یہ ہمارے علوم عصری کی نا رسائی تھی ورنہ قرآن مجید کے الفاظ میں، ربّ العالمین کے کلام میں تو یہی حقیقت جھلک رہی تھی جو آج عیاںہو کر سامنے آ گئی ہے۔

کلامِ الٰہی میں بڑی بڑی حقیقتوں کا سادہ اور چودہ صدیاں قبل مروّجہ الفاظ میں بیان اسی ذات حق سبحانہ‘ و تعالیٰ کے شایان شان ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔

اسی لفظ ”رÉی“ پر غور فرمائےے اس میں یہ گنجائش فاطر فطرت اور خالق ارض و سماءنے رکھی ہے کہ رﺅیت بصری اور رﺅیت نظری کے معنی لئے جا سکتے ہیںضرورت اس بات کی ہے کہ علماءکرام اور ماہرین قرآن و سنت اس پر غور فرمائیں۔ ہمارا کام تو جرا¿ت کر کے توجہ دلادیناہے فیصلہ تو اہل علم ہی کر سکتے ہیں کہ پاکستان بھر کے لئے ( یا ہر مسلم ملک کے لئے) ایک کیلنڈر رﺅیت نظری کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے اگر یہ مرحلہ بآسانی طے ہو جائے تو خود علماءکرام محسوس فرمائیں گے کہ بنگلہ دیش سے لے کر سعودی عرب کے ممالک تک تقریباً ایک ہی کیلنڈر سامنے آئے گا اور پوری دنیا کی سطح پر امت میں اتحاد و یگانگت کی راہ نکل جائے گی اور کیا عجب کہ یہی اتحاد و یک رنگی امت مرحومہ لئے مستقبل مےں سیاسی ،معاشی، معاشرتی، ذہنی اور فکری ہم آہنگی کی صورت اختیار کر لے اور یوں

ایک ہو ں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

کا دیرینہ خواب پورا ہو سکے۔ اوریہ خواب یقینا حقیقت بن کر رہے گا یہی مقصود فطرت اور منشا ایزدی ہے۔

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

شب گریزاں ہو گی آخر جلوئہ خورشید سے

یہ چمن معمور ہوگا نغمہئِ توحید سے

ان دنوں کراچی میں رﺅیت ہلال کے بارے میں سائنسی انداز میں کام ہو رہا ہے۔ لہٰذا اگر تجرباتی طور پر سال بھرکا قمری کیلنڈر جاری کر دیا جائے اور اہل بصیرت اور اہل نظر اس پر گہری نگاہ رکھیں اور عملی طور پر رﺅیت ہلال کے ساتھ ملا کر دیکھتے رہیں تو میری ناقص رائے میں تین چار سال کے اندر بہت سارے عملی مسائل کی نشاندہی ہو جائے گی اور باہمی مشاو رت اور غور وفکر سے ان کو تاہیوں کو دور کر کے ایک قابل عمل قمری کیلنڈر جاری ہو سکتا ہے۔ ایساہی اگر ہمارے پڑوسی ممالک میں ہو جائے تو جلد یا بدیر یہ ہمارے لئے فکری اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -