سیّد ابو الحسن علی ندویؒ اور ان کی علمی و ادبی خدمات

سیّد ابو الحسن علی ندویؒ اور ان کی علمی و ادبی خدمات

  

تحریر: مولانا حافظ مجیب الرحمن

hmujeeb786@hotmail.com

عالمی رابطہ ادب اسلامی کے بانی سید ابو الحسن علی ندویؒ المعروف علی میاں ؒعالم اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی علمی و ادبی تحقیقی اور تصنیفی خدمات اور عظمت کا لوہا عرب و عجم میں مانا جاتا ہے، آپ ؒ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں اور صفات سے نوازا تھا۔ آپ ؒ ندوۃ العلماء لکھنو اور دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف 20 سال کی عمر میں ندوۃ العلماء لکھنوء میں عربی ادب اور تفسیر و حدیث کے استاد کے منصب پر فائز ہوگئے،اس دوران مصر اور دیگر ممالک سے شائع ہونے والے نامور رسائل و جرائد میں آپ کے عربی زبان میں مضامین شائع ہونے لگے۔ آپؒ نے سینکڑوں علمی و ادبی اور تاریخی کتب تصنیف کیں،اور شاعر اسلام علامہ محمد اقبال کوعرب دنیا میں متعارف کرانے میں آپ نے ہی بنیادی کردار ادا کیااور علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت وشاعری پرفصیح عربی زبان میں اس قدر خوبصورت انداز میں لکھا کہ عرب دنیا بھی علامہ محمد اقبال ؒکی گرویدہ ہوگئی عراق،شام، مصر اوردیگر ممالک کے نامور ادباء اور علمی شخصیات کی ”مجلس امناء“میں یہ اعلان کیا گیا کہ سید ابو الحسن علی ندویؒ کی تحریریں پڑھ کرہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ آج ہمارے لیے زندہ ہوا ہے۔ آپؒ کی روشن خدمات کے اعتراف میں آپ ؒ کو بڑے بڑے اعزازات اور ایوارڈوں سے نوازا گیا، بے شمار ممالک کے دورے کیے آپؒ جس ملک میں بھی جاتے وہاں کی علمی شخصیات کے علاوہ سربراہان مملکت بھی آپ ؒکے ساتھ ملاقات کو اپنے لیئے باعث سعادت اور فخر سمجھتے سید ابوالحسن علی ندویؒ کی شاہ فیصل مرحوم کے ساتھ ایک تاریخی ملاقات کا واقعہ تاریخ کے روشن صفحات پر موجود ہے مولانا سید ابوالحسن ندویؒ جب شاہ فیصل مرحوم کی دعوت پر شاہی محل کے کمرۂ ملاقات میں داخل ہوئے تو بہت دیر تک اس کی چھت اوردرودیوار کی طرف حیرت اوراستعجاب کے ساتھ دیکھتے رہے....... شاہ فیصل مرحوم نے جب اس کا سبب پوچھا تو مولانا یوں گویا ہوئے:”میں نے بادشاہوں کے دربار کبھی نہیں دیکھے۔ آج پہلا تجربہ ہے، اس لیے محو حیرت ہوں۔ میں جس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں، وہاں اب بادشاہ نہیں ہوتے، لیکن تاریخ کا ایک ایسا دور بھی تھا جب وہاں بھی بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ میں نے تاریخ میں ایسے بہت سے لوگوں کا بارہا تذکرہ پڑھا ہے۔ آج اس دربار میں آیا ہوں تو ایک تقابل میں کھوگیا ہوں۔ میں سوچ رہا ہوں ہمارے ہاں بھی ایک بادشاہ گزرا ہے۔ آج کا بھارت، پاکستان، سری لنکا، برما اور نیپال اس کی حکومت کا حصہ تھے۔ اس نے 52 سالہ عہد اقتدار میں بیس برس گھوڑے کی پیٹھ پر گزارے۔ اس کے دور میں مسلمان آزاد تھے۔ خوش حال تھے۔ ان کے لیے آسانیاں تھیں لیکن بادشاہ کا حال یہ تھا وہ پیوند لگے کپڑے پہنتا۔ وہ قرآن مجید کی کتابت کر کے اور ٹوپیاں بنا کر گزر بسر کرتا۔ رات بھر اپنے پرودگار کے حضور میں کھڑا رہتا۔ اس کے دربار میں اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتا۔ اس وقت مسلمان حکمران غریب اور سادہ تھے اورعوام خوشحال اور آسودہ۔ آج آپ کا یہ محل دیکھ کر خیال آیا سب کچھ کتنا بدل گیا ہے؟ آج ہمارے بادشاہ خوش حال ہیں اور بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ فلسطین میں بے گھر ہیں۔ کشمیر میں ان کا لہو ارزاں ہے۔ وسطی ایشیا میں وہ اپنی شناخت سے محروم ہیں۔آج میں نے آ پ کے محل میں قدم رکھا تو اس تقابل میں کھوگیا۔“ جب سید ابوالحسن علی ندویؒ خاموش ہوئے تو شاہ فیصل کا چہرہ آنسوؤں سے ترہوچکا تھا۔ ا ب ان کی باری تھی۔ پہلے ان کے آنسو نکلے، وہ آپ دیدہ ہوئے اور پھر ہچکی بندھ گئی۔ اس کے بعد وہ زار و قطار رونے لگے۔ وہ اتنی بلند آواز سے روئے کہ ان کے محافظوں کو تشویش ہوئی اور وہ بھاگتے ہوئے اندر آگئے۔ شاہ فیصل نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کو کہا۔ پھرسید ابوالحسن علی ندوی سے مخاطب ہوکر بولے:”وہ بادشاہ اس لیے ایسے تھے کہ انہیں آپ جیسے ناصح میسر تھے۔ آپ تشریف لاتے رہیں اور ہم جیسے کمزور انسانوں کو نصیحت کرتے رہیں۔“

سید ابوالحسن علی ندویؒ ”رابطہ عالم اسلامی“ سمیت درجنوں تنظیموں اور اداروں کے ممبر و سرپرست تھے آپ اسلامی ادیبوں کی عالمیگیرتنظیم ”عالمی رابطہ ادب اسلامی“ کے بانی و سرپرست بھی تھے جوکہ پوری دنیا میں اسلامی ادب کے فروغ اور مسلم ادیبوں کو اس پلیٹ فارم پر متحد و منظم کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔

سید ابوالحسن علی ندوی ؒ اکتوبر 1997 ء میں رابطہ ادب اسلامی کے سیمینار کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورہ پر لاہور تشریف لائے توائیرپورٹ پر سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کے استقبال کے لیے جہاں نامور علمی وادبی شخصیات موجود تھیں وہاں غالباً تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ تبلیغی جماعت کے عالمی امیر محترم حاجی عبد الوہاب مرحوم بھی لاہور ائیرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے بنفس نفیس تشریف لائے بعد میں حاجی عبدا لوہاب صاحب ؒکی دعوت پر سید ابوالحسن علی ندوی ؒ عالمی تبلیغی مرکز رائے ونڈ بھی تشریف لے گئے …… لاہور میں اس وقت کے صدر فاروق احمد خان لغاری مرحوم نے بھی سید ابوالحسن علی ندویؒ سے ملاقات کی سعادت حاصل کی اس موقعہ پر صدرفاروق لغاری نے مولانا ابو الحسن علی ندویؒ سے تعارف کے دوران یہ بھی کہا کہ ایک سفر کے دوران میں نے فلاں ملک کے ائیرپورٹ پرآپکے پیچھے نماز پڑھی تھی…… جس پر سید ابوالحسن ندویؒ نے جواب میں فرمایا کہ آپ کے صدر پاکستان ہونے کا تعارف اپنی جگہ لیکن نماز والا تعارف ہی بہترین تعارف ہے، سیدابو الحسن علی ندویؒ کے اس دورہ پاکستان کے دوران سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے والد میاں محمد شریف مرحوم نے سید ابوالحسن علی ندوی ؒکے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ جاتی عمرہ رائے ونڈ میں ایک بہترین ضیافت کا اہتمام کرکے سید ابو الحسن علی ندوی ؒ کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہار کیا اور ان سے خصوصی دعا بھی کروائی اس ضیافت میں شریف خاندان کے دیگر افراد کے علاوہ جامعہ شرفیہ لاہور کے سابق مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد عبید اللہ ؒ، سابق شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن اشرفی ؒ، عالمی رابطہ ادب اسلامی کے موجودہ صدر مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی اور تبلیغی جماعت کے عظیم مبلغ مفتی زین العابدین ؒ سمیت دیگر نامور علمی وادبی اور سرکاری شخصیات نے شرکت کی، شریف برادران نے سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کے قیام اور مہمان نوازی کے لیے سٹیٹ گیسٹ ہاوس میں اہتمام کیا لیکن سید ابوالحسن علی ندوی ؒ سٹیٹ گیسٹ ہاؤس پرجامعہ اشرفیہ میں قیام کو ترجیح دیتے ہوئے ایک رات کے قیام کے بعدہی جامعہ اشرفیہ لاہور منتقل ہوگئے اور باقی ایام وہیں قیام کیا، اس دوران میاں طارق شفیع اور اقبال قرشی نے بھی سید ابوالحسن علی ندویؒ کے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام کیا،، جامعہ نعیمیہ لاہور کے بانی ومہتمم مولانا مفتی محمد حسین نعیمی ؒ کی دعوت پر سید ابوالحسن علی ندویؒ جامعہ نعیمیہ لاہور بھی تشریف لے گئے جہاں انہوں نے علماء اور فضلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کیا، اور یہ اجتماع اتحاد بین المسلین کا ایک عظیم مظہر اور تمام مکاتب فکر کے اتحاد واتفاق کا خوبصورت منظر پیش کررہاتھا …… اور یہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ کا آخری دورہ پاکستان تھا۔ اسی دورہ پاکستان کے دوران سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مدرسہ الصادق رائے ونڈ کی مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ جامعہ اشرفیہ لاہور میں عالمی رابطہ ادب اسلامی(پاکستان) کے مرکزی دفتر کا افتتاح بھی کیا پاکستان میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کی شاخ میں ملک کی بڑی یونیورسٹیوں اور اور دیگر تعلیمی اداروں کے پروفیسر اورادب سے تعلق رکھنے والے دینی مدارس کے اہل قلم شامل ہیں، ان میں شیخ الاسلام جسٹس (ر)مفتی محمد تقی عثمانی،ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ڈاکٹر محمد ظفر اسحاق ؒ، شیخ الحدیث مولانا انوارالحق اور عالمی رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے سابق صدر ڈاکٹر ظہور احمداظہر جیسی شخصیات سمیت 200 کے قریب اہل علم وادب اس کے رکن ہیں۔

سید ابوالحسن علی ندویؒ نے سب سے پہلے اسلامی ادیبوں کی تنظیم کے قیام کا تصوّر ”جامعہ دمشق“ملک ِ شام میں دنیا بھر سے آئے ہوئے عربی ادباء اور فضلاء کے سامنے پیش کیا جنہوں نے اس پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بھر پور حمایت و تائید کی…… جس کے بعد سید ابو الحسن علی ندوی ؒ نے باضابطہ طورپر اس اسلامی ادبی تنظیم کے قیام کے لیے دنیا بھر سے آئے نامور علمی وادبی شخصیات کے ہمراہ خصوصی طورپرمکہ مکرمہ اُس غار ِ حرا میں تشریف لے گئے جہاں قرآن کی سب سے پہلی وحی”اقرأ بسم ربک الذی خلق“نازل ہوئی وہاں سید ابوالحسن علی ندویؒ نے خصوصی دعا کے ساتھ اس تنظیم کا آغاز کیا……بعد میں باضابطہ طورپر اسلامی ادیبوں کا ایک عالمگیر اجلاس 1984 ء میں ہندوستان کے شہر لکھنوء میں منعقد ہوا جس میں پوری دنیا سے آئے ہوئے اہل علم و ادب نے ”رابطۃ الادب الاسلامی العالمیہ“ کے نام سے اسلامی ادباء کی ایک بین الاقوامی تنظیم مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد کیلئے قائم کی۔

ادب اسلامی کی بنیادوں کو پختہ کرنا اور قدیم و جدید ادب اسلامی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا، ادبی تنقید کے اسلامی اصول و ضع کرنا، ادب اسلامی کے مکمل نظریے کی تشکیل و تیاری،جدید ادبی علوم و فنون کے لئے اسلامی مناہج و اسالیب کی تیاری و تشکیل،مسلم اقوام کے ادب میں ادب اسلامی کی تاریخ کو از سر نو مرتب کرنا،،ادب اسلامی کی نمایاں تخلیقات کو جمع کرنا اور ان کا عالم اسلام کی مختلف زبانوں اور دیگر بین الاقوامی زمانوں میں ترجمہ کرنا، بچوں اور خواتین کے ادب کی طرف، خصوصی توجہ دینا اور مسلمان بچوں کے ادب کا خصوصی طریقہ و منہج تیار کرنا،عالمی رابطہ ادب اسلامی کے پلیٹ فارم سے امت مسلمہ کو باہمی طورپر متحد ومنظم کرنا،ادب اسلامی کی عالمگیریت کو نمایا کرنا،اسلامی ادباء کے مابین روابط و تعلقات کو بڑھانا، اور ان کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا، نیز میانہ روی اور اعتدال کے راستے پر چلتے ہوئے انتہاء پسندی اور افراط و تفریط سے بچتے ہوئے، انہیں حق پر متحد و متفق کرنا،مسلم نسلوں اور ایسی اسلامی شخصیات کی تیاری میں، جنہیں اپنی دینی اقدار اور عظیم تہذیبی ورثے پر فخر ہو، ادب اسلامی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع پیدا کرنا،ارکان رابطہ کے لیے نشر و اشاعت کی سہولتیں مہایا کرنا،رابطہ اور اس کے ارکان کے ادبی حقوق کا دفاع کرنا،غیر مسلموں کے حقوق کا اسلام کے دیئے ہوئے حقوق کے مطابق خیال کرنا۔

لکھنوء کے اس تاریخ سازتاسیسی اجلاس میں پوری دنیا سے آئے ہوئے ادیبوں نے متفقہ طور پر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کو عالمی رابطہ ادب اسلامی کا تا حیات صدر منتخب کیا اور اس کا صدر دفتر ہندوستان کے شہر لکھنوء میں قائم کیا گیا۔

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے 1999 ء میں انتقال کے بعد عالمی رابطہ ادب اسلامی کا صدر دفتر سعودی عرب کے شہر ریاض میں منتقل کر دیا گیا اور اس کی ”مجلس امناء“ نے متفقہ طور پر ڈاکٹر عبدالقدوس ابو صالح کو اس کا مرکزی صدر منتخب کیا جو اس تنظیم کے بانیوں میں سے ہیں۔

عالمی رابطہ ادب اسلامی کے اس وقت سعودی عرب، کویت، شام، اردن، مصر، ترکی، پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، ملائشیا،مراکش اور تیونس سمیت دیگر کئی اسلامی ممالک میں اس کے دفاتر کام کر رہے ہیں، سال میں ایک مرتبہ کسی ایک اسلامی ملک میں اس کا مرکزی اجلاس ہوتا ہے جس میں تمام ممبر ممالک سے اس تنظیم کے صدر اور نائب صدر شرکت کرتے ہیں۔اب جلد ہی ترکی میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کا عالمگیر اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں پاکستان سمیت پوری دنیا سے عہدیداران اور نامور علمی و ادبی شخصیات شرکت کریں گی پاکستان میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کاقیام مئی 1996ء میں سید ابو الحسن علی ندویؒ کی خواہش اور مولانا سید محمد رابع ندوی کے ایماء پر عمل میں آیا۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -