کراچی میں 20لاکھ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے ہیں: شاہد خاقان عباسی 

کراچی میں 20لاکھ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے ہیں: شاہد خاقان عباسی 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئے بجٹ کے ملک کی صورت حال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں 20 لاکھ لوگ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے ہیں۔ اس مرتبہ بجٹ خسارہ 36 سو ارب تک جائے گا جب کہ ہم نے 22 سو ارب کا خسارہ چھوڑا تھا۔جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت اعلان کردہ پانچ ہزار 500 ارب کے ٹیکسوں کی وصولی نہیں کرسکے گی۔حکومت نے پورا بوجھ عوام پرڈال دیا ہے لیکن ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈال کر بھی ہدف پورا نہیں ہو گا۔سابق وزیراعظم نے ایک سوال پر کہا کہ حکومت خود کہہ رہی ہے کہ افراط زر13 فیصد تک جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں شرح نمو(گروتھ ریٹ)پانچ اشاریہ آٹھ  فیصد تھی جب کہ اب شرح نمو محض تین فیصد ہے۔پی ایم ایل(ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے پی ٹی آئی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ موجود حکومت کو ایمنسٹی اسکیم میں صرف 48 کروڑ روپے ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پر تاجروں اور عوام کو اعتماد ہی نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی افراد نے چینی اسٹاک کی اور چینی کا نرخ بڑھا دیا گیا جس سے اسٹاک کرنے والوں نے راتوں رات کروڑوں روپے کما لیے۔  یہ بوجھ بھی عوام پرہی ڈال دیا گیا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتقامی کارروائیوں میں مصروف حکومت خود بجٹ پر بحث کرنے نہیں دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچانک رات کوسابق وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات بند کردی گئی لیکن اس قسم کے حربے پہلے بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں اورآئندہ بھی نہیں ہوں گے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما نے دعوی کیا کہ ہم جہاں بھی جاتے ہیں لوگ یہی کہتے ہیں کہ اس حکومت سے ہماری جان چھڑائیں۔

مزید :

صفحہ اول -