مہاجرین کے مسائل پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، شہر

مہاجرین کے مسائل پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، شہر

  

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر مملکت برائے سیفران شہریار آفرید ی نے کہا ہے کہ مہاجرین کے دکھ درد اور مسائل کو پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا،افغان مہاجرین گذشتہ 40 سال سے قیام پزیر ہیں، معاشی مشکلات کے باوجود مہاجرین بارے کوئی کمپرومائز نہیں کیا، کیا ان مہاجرین کی مدد کرنا صرف میزبان ملک یا یو این ایچ سی آر کی ذمہ داری ہے؟ افغان مہاجرین واپس جانا چاہتے ہیں،افغان مہاجرین کی باعزت رضاکارانہ واپسی کیلئے کوششیں تیز کریں گے۔ ان مہاجرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔جمعرات کو مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے سیفران شہریار آفرید ی نے کہا کہ پاکستان دنیاکا دوسرا ملک ہے جہاں مہاجرین کی بڑی تعداد قیام پذیر ہیں، پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین گذشتہ 40 سال سے قیام پذیر ہیں، افغان مہاجرین سمیت دیگر مہاجرین کو بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے، مہاجرین کے دکھ درد اور مسائل کو پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا،پاکستان کو معاشی مشکلات کے باوجود مہاجرین بارے کوئی کمپرومائز نہیں کیا، دنیا کو ان مہاجرین کا احساس ہونا چاہئے، کیا ان مہاجرین کی مدد کرنا صرف میزبان ملک یا یو این ایچ سی آر کی ذمہ داری ہے؟ افغان مہاجرین واپس جانا چاہتے ہیں لیکن افغانستان میں ان کی آبادکاری کیلئے انتظامات بھی ہو۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں چودہ لاکھ افغان مہاجرہن قیام پذیر ہیں،68فیصد افغان مہاجریں کیمپوں سے باہر ہیں، 32فیصد مہاجریں کیمپوں میں مقیم ہیں، افغان کابینہ کے چوبیس وزیر پاکستان میں پلے بڑھے ہیں، افغان کرکٹ ٹیم کے اکثر کھلاڑی پاکستان میں ہی پلے بڑھے ہیں،وزیر اعظم عمران خان کا وڑن ہے کہ افغان مہاجرین کو عزت دینی ہے،پاکستان نے افغان مہاجرین کے مسائل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر افغان مہاجرین کیمپس کا دورہ کررہا ہوں،دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان نے انسانیت کی خدمت کی ہے اور ہم ذمہ دار ملک ہیں۔

شہر یار آفریدی

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -