بجٹ سے افراتفری کا عالم پیدا ہو گیا ہے، رضوان اشرف

بجٹ سے افراتفری کا عالم پیدا ہو گیا ہے، رضوان اشرف

  

فیصل آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف بزنس فورم کے رہنماو آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (اپٹپما) کے چیئرمین انجئینررضوان اشرف نے کہا ہے کہ حالیہ بجٹ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے، ٹیکس کے اہداف کو پورا کرنے کیلئے حکومت کا خیال ہے کہ ریلیف کیلئے دی جانے والی مختلف سبسڈیز کو ختم کر دیا جائے۔ ہمارا تعلق ٹیکسٹائل سیکٹر سے ہے جس کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ کا بڑا حصہ زرمبادلہ کی صورت میں سرکاری محاصل کیلئے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ حالیہ بجٹ میں SRO1125 کے خاتمہ کے ذریعہ ویلیو ایڈڈ سے متعلقہ پانچ صنعتوں کو زیروریٹڈ سہولت سے محروم کرنے کی جو تجویز دی گئی ہے اس پر ہمارے کچھ تحفظات ہیں جو بجٹ منظور ہونے سے پہلے مذاکرت کے ذریعہ حل کئے جاسکتے ہیں، ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مسائل و مشکلات کو باہمی گفت و شنید کے ذریعہ حل کیا جائے انہوں نے کہا صحت، تعلیم وغیرہ کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مہنگائی کے طوفان نے گذشتہ چند ماہ سے پریشان کر رکھا ہے، اگر ٹیکسٹائل کی صنعت پر 17% سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے تو ہماری کاسٹ آف پروڈکشن میں اضافہ کیباعث اپنی اہمیت کھو بیٹھیں گی کیونکہ انڈیا، چائینا اور بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل مصنوعات ان کو ملنے وا لی مراعات کے باعث ہماری نسبت سستی ہیں اس طرح ان ممالک کی مصنوعات اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے منسلک پاورلومز، سائزنگ، ویونگ وغیرہ جو ایک چین کی صورت میں چل رہی ہے وہ چین نامکمل ہونے کے سبب سارا بوجھ مینو فیکچر نگ تک منتقل ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ FBR کو سادہ ٹیکس رجیم متعارف کروانی چائیے کیونکہ عام آدمی ٹیکس معاملات کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔

مزید :

کامرس -