’’بیرون ملک سے لائے گئے ملزموں کو سنگین نوعیت کی سزا نہیں دی جاسکتی‘‘ حکومت نے پینل کوڈ میں ترمیم کی تیاری پکڑلی، اعلان کردیا

’’بیرون ملک سے لائے گئے ملزموں کو سنگین نوعیت کی سزا نہیں دی جاسکتی‘‘ ...
’’بیرون ملک سے لائے گئے ملزموں کو سنگین نوعیت کی سزا نہیں دی جاسکتی‘‘ حکومت نے پینل کوڈ میں ترمیم کی تیاری پکڑلی، اعلان کردیا

  


اسلام آباد(ویب ڈیسک)  وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ہم پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کر رہے ہیں جس کے تحت بیرون ملک سے حوالے کیے گئے ملزمان پر سزائے موت لاگو نہیں ہوگی۔

  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ وہ برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ کی دعوت پر برطانیہ گئے تھے جہاں ہماری بہت اچھی ملاقاتیں اور گفتگو ہوئی۔ برطانوی وزیرخارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک ’’سیاسی مقاصد‘‘ کے تحت ملزمان کی حوالگی کے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان دوسرے ملک سے کیے گئے کسی معاہدے کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ پاکستان بانی ایم کیوایم الطاف حسین اور سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہاہے جن پر قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے 2014 میں سزائے موت پر پابندی لگا دی گئی تھی تاہم پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد یہ پابندی اٹھا لی گئی اور اب تک 3 ہزار سے زائد مجرموں جن میں اکثریت دہشت گردوں کی ہے کو پھانسیاں دی جاچکی ہیں اوراس وقت بھی سزائے موت کے 8 ہزار مجرم پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔

مزید : قومی /جرم و انصاف