”حساب کتاب چھوڑو، اب۔۔۔ “ زرداری نے بھی حکومت کو پیشکش کردی

”حساب کتاب چھوڑو، اب۔۔۔ “ زرداری نے بھی حکومت کو پیشکش کردی
”حساب کتاب چھوڑو، اب۔۔۔ “ زرداری نے بھی حکومت کو پیشکش کردی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا تو سابق صدر آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کو پروڈکشن آرڈرز پر ایوان لایا گیا۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری اجلاس میں آئے تو پیپلزپارٹی کے اراکین نے ان کا بھرپور استقبال کیا، جئے بھٹو کے نعرے لگائے، پی پی اراکین نے آصف زرداری سے جاکر مصافحہ کیا، بجٹ پر بحث کرتے ہوئے آصف زرداری نے بھی میثاق معیشت کی پیشکش کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیلیں میرے لئے نئی بات نہیں، میری گرفتاری سے پارٹی مضبوط ہورہی ہے مگر اب حساب کتاب سے آگے بڑھیں، کس کس سے حساب لیں گے، یہ بجٹ جس نے بھی بنایا ہے کم از کم وزارت خزانہ نے نہیں بنایا، آئیں، حکومت اپوزیشن مل کر بیٹھیں اور معیشت پر معاہدہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار اور عام آدمی سوچ رہا ہے، آصف زرداری گرفتارہوسکتا ہے تو کوئی بھی گرفتار ہوسکتا ہے۔

پانچ لاکھ کے چیک پر ایف بی آر حساب مانگ رہا ہے، کس کس سے حساب مانگو گے اور کس کس کو پکڑو گے، حساب کتاب چھوڑو اب آگے بڑھے، آصف علی زرداری نے مشکل وقت میں پروڈکشن آرڈرز جاری کرانے میں ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ ایم کیو ایم کے رکن صلاح الدین نے کہا ایک شخص ٹین پرسنٹ سے 100 پرسنٹ ہوگیا، زرداری جواباً بولے سب کو معلوم ہے ہزار کروڑ کراچی کے نام پر کس کو ملے، کس کو اسلحہ دیا گیا اور اب لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ اے پی پی کے مطابق زرداری نے کہا ہے کہ غریب آج مسائل کا شکار، صنعتیں بند ہورہی ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اعلان کردہ معمولی اضافہ ٹیکس لگا کر واپس لے لیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، کسی فرد واحد کی کوئی حیثیت نہیں ہے، میں نے اسی لئے بے نظیر بھٹو کی شہادت پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔

پارلیمنٹ ہاﺅس میں آصف زرداری نے بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ عمران حکومت کو نکالا تو اس کے بعد کون آئے گا۔ موجودہ حکومت کو نکالنے کیلئے سیاسی قوتیں آگے نہ آئیں تو پھر کوئی اور آئے گا، مجھ پر جتنے مقدمات بنالیں کوئی پرواہ نہیں، عوام کی فکر ہے، میں نے بغیر مانگے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دئیے لیکن یہ پارلیمنٹ مجھے اجلاس میں بلانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپتان حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کررہی ہے، چیئیرمین سینٹ کو ہٹانے کیلئے بات چیت جاری ہے، آخر ہم نے ہی ملک سنبھالنا ہے، ان سے ملک نہیں سنبھلنا، 80 سالہ شخص کو ہتھکڑیوں میں لائے ہیں، سپیکر کمزور ہیں بیچارے کے پاس پورا اختیار نہیں ہے، پیپلزپارٹی نے دباﺅ ڈالا تو پروڈکشن آرڈر جاری کیا گیا، سیاسی اداکار کھڑے ہوکر ہاتھ ہلا کر بکواس کرتے رہتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -