پشاور میٹروبس میں بھی کرپشن پکڑی گئی ، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

پشاور میٹروبس میں بھی کرپشن پکڑی گئی ، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ ...
پشاور میٹروبس میں بھی کرپشن پکڑی گئی ، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

  

پشاور (ویب ڈیسک) آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی بی آر ٹی سے متعلق رپورٹ میں بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے ، رپورٹ کے متن کے مطابق کنڑیکٹر کو دی گئی رقوم میں بے قاعدگیاں کی گئیں،  پی ڈی اے نے ایشائی ترقیاتی بنک کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور پی ڈی اے نے اکاوٹنٹ جنرل کے پاس اخراجات کی ماہانہ رپورٹ جمع نہیں کرائی۔

تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ  پی ڈی اے نے ایشیائی ترقیاتی بنک کے پاس استعمال کئے گئے قرضے کی رپورٹ جمع نہیں کرائی،  نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری کے بعد بھی منصوبے میں تبدیلیاں کی گئیں،  منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے مختلف ڈیڈلائن دی گئیں جس کے منصوبے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ  منصوبہ 30 جون کی ڈیڈلائن پر بھی مکمل نہیں ہوسکے گا، خراب ڈیزائن اور ناقص منصوبہ بندی سے منصوبہ متاثر ہوا ہے ،پروجیکٹ ہدایات کے مطابق نہ عملہ رکھا گیا نہ مٹیریل خریدا گیا،پی ڈی اے منصوبہ مکمل کروانے اور معاہدے کے تحت جرمانے کی شق پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا،  تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن نہ ہونے سے منصوبے کا تعمیراتی کام متاثر اور لاگت بڑھ گئی، کنڑیکٹر کو 6 ماہ میں کام مکمل نہ کرنے پر ایک ارب 95 کروڑ روپے جرمانہ نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صوبائی حکومت کی سیاسی سوچ منصوبے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر اثر انداز ہوئی، منصوبے کا ڈیزائن بنانے والی کمپنی کو ہی کام کی نگرانی کا ٹھیکہ دے گیا جو کہ غیرقانونی ہے ، کنٹریکٹ کے مطابق بین الاقومی ماہرین کی خدمات حاصل نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں تجویز  دی گئی ہے کہ  کام کی نگرانی کا ٹھیکہ دینے کی انکوائری کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے،کنڑیکٹر سے منصوبہ بروقت مکمل نہ کرنے پر جرمانہ کی رقم برآمد کرائی جائے،  وسائل کے ضیاع سے بچنے کے لیے خریداری سے متعلق اے ڈی بی کی ہدایات پر عمل درآمد کریں ، منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کنٹریکٹ منیجمنٹ سسٹم ہونا ضروری ہے جبکہ  مطلوبہ معیار کے تحت کام مکمل ہونے کے لیے حکومت غیر حقیقی اور جلدی ڈیڈلائن دینے سے گریز کرے۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -