ہیلو ہیلو۔۔۔۔۔۔15 پولیس 

ہیلو ہیلو۔۔۔۔۔۔15 پولیس 
ہیلو ہیلو۔۔۔۔۔۔15 پولیس 

  

(پولیس آپریٹر) جی سر بتائیے ہم آپکی کیا مدد کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔؟

دوسری طرف سے بہت گھبرائی ہوئی آواز میں۔۔۔۔۔۔میں جج۔۔۔۔۔۔جی وہ میرے گھر میں ڈکیت گھس آئے ہیں۔۔۔۔۔میری بیوی بچوں کو بھی انہوں نے گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا ہے۔۔۔۔۔خدشہ ہے کہ وہ انہیں جان سے مار دیں گے۔۔۔۔۔۔

(پولیس آپریٹر) جی سر آپ گھبرائیے نہیں۔۔۔۔ابھی فوراً ہماری ٹیم آپکے پاس پہنچتی ہے۔۔۔۔۔

(جج صاحب) ذراجلدی پلیز۔۔۔

(پولیس آپریٹر) اوکے سر۔۔۔

رات کے تین بجے ہیں۔۔۔۔پولیس اور وارداتیوں میں مڈبھیڑ ہوئی ۔۔۔  آپس میں فائرنگ بھی ہوئی ۔۔۔۔۔۔  بہر کیف جج صاحب کی فیملی کو صحیح سلامت بازیاب کروا لیا گیا۔۔۔۔

علی الصبح جج صاحب کے گھر کے فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔ٹرن۔۔۔ ٹرن۔۔۔۔ٹرن۔۔۔۔۔

ہیلو۔۔۔۔کون۔۔۔۔۔۔؟

دوسری طرف سے جی میں ایس ایچ او تھانہ۔۔۔۔۔بات کررہا ہوں پلیز میری جج صاحب سے بات کروادیں ۔۔۔۔۔ بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔

(دوسری طرف سے آپریٹر ) نہیں جی صاحب نے منع کیا ہے آج اتوار ہے اور ویسے بھی صاحب رات دیر سے سوئے تھے ان کو اب ڈسٹرب نہیں کرنا۔۔۔

(ایس ایچ او) جی وہ۔۔۔۔۔کال کٹ۔

آخر کار صبح کے ساڑھے گیارہ بجے۔۔(صبح کے ساڑھے گیارہ بجے..) 

جج صاحب سے بات ہو ہی گئی۔۔۔۔

(ایس ایچ او) سر وہ آپ کو زحمت دینی ہے رات دوران واردات مزاحمت پرجو دو ڈاکو مارے گئے ہیں ان کی شناخت کرنی ہے۔

(جج صاحب) اوئے شرم کرو تم لوگ ۔۔۔۔جعلی پولیس مقابلے کرتے ہو ۔۔۔معصوم لوگوں کو مارتے ہو ۔۔۔ اس کا تو تم لوگوں پر سوموٹو جوڈیشل ایکشن ہونا چاہیے ۔۔۔۔

(ایس ایچ او) سر میں گزشتہ رات والی واردات کے سلسلہ میں جناب سے ملتمس ہوں۔۔۔جو آپ کے گھر میں ہوئی اور آپ کو اور آپ کی فیملی کو بچاتے ہوئے جو ڈاکو مارے گئے۔۔

( جج صاحب۔۔۔اب کی بار قدرے کم سخت لہجے میں)  اچھا اچھا ٹھیک ہے میں آتا ہوں ۔۔۔۔

دوران شناخت۔۔۔۔

(جج صاحب) اوہ یس... اس والے ڈاکو نے ہی تو میری چھوٹی بیٹی کو فائر کیا تھا مگر شکر الحمدللہ وہ بچ گئی۔۔۔اور ہاں یہ دوسرے والا بھی وہی ہے اس کا نقاب ایک بار ہٹا تھا۔۔بالکل وہی ہے۔۔۔

(ایس ایچ او) شکریہ سر۔۔۔ آپ کو آنے کی زحمت ہوئی اس کے لیے معذرت

(جج صاحب ) او کے۔۔نو پرابلم

ساتھ پڑی ایک اور لاش پر ایک چھ سات سال کی ننھی فرشتہ صورت گڑیا اور ایک چھوٹا 3/4 سال کا بچہ مسلسل اس لاش سے لپٹ لپٹ کر رو رہے ہیں۔۔۔۔اور ساتھ میں ایک خاتون مجسمہ صبر بن کر ساکت کھڑی ہے۔۔۔صرف اس کی آنکھوں سے درد اور صدمہ آنسو بن کر بہہ رہے ہیں۔۔۔

(جج صاحب) یہ کس کی لاش ہے اور یہ بچے کیوں ایسے بلک بلک کر رو رہے ہیں۔۔۔

(ایس ایچ او) جی سر وہ یہ ہمارا ایک سب انسپکٹر بھی اس واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔۔۔یہ وہی ہے جو ڈاکو کی پسٹل کی نکلی ہوئی گولی اور آپ کی چھوٹی بیٹی کے درمیان خود کو لے آیا۔۔

اور یہ اس شہید کی ہی فیملی ہے۔۔۔

(جج صاحب) بمشکل اپنی بھرائی آواز اور لڑکھڑاہت پر قابو پاتے ہوئے۔۔۔۔۔ کیا میں اس کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں۔۔

(ایس ایچ او) چہرے سے کپڑا ہٹایا ایک ہشاش بشاش نوجوان چہرے پر مسکراہٹ۔۔۔۔لیکن اس کی آنکھیں جج صاحب کو ایسا کیا کہ رہی ہیں کہ جج صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔اور انہوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کیوں چلانا شروع کر دیا کہ۔۔۔؟نہیں ۔۔۔نہیں۔۔۔۔نہیں تم ڈاکو نہیں ہو۔۔۔۔ 

(اس شہید کی لاش کی آنکھیں تو بس یہی بولے جا رہی تھیں کہ جج صاحب میں ڈاکو ہوں۔۔۔اور جج صاحب نفی میں سر ہلا ہلا کر آنسوؤں سے بہتی آنکھوں کے ساتھ مسلسل چیخ رہے تھے نہیں۔۔نہیں۔۔۔نہیں تم ڈاکو نہیں ہو۔۔تم ڈاکو نہیں ہو )

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -