بجٹ خسارہ 7.1فیصد ہونے کا حکومتی دعویٰ غلط ثابت ہوا:شہباز شریف

  بجٹ خسارہ 7.1فیصد ہونے کا حکومتی دعویٰ غلط ثابت ہوا:شہباز شریف

  

لاہور(آئی این پی) مسلم لیگ (ن)کے صدر، سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور قائد حز ب اختلاف میاں شہبازشریف نے تاریخی بجٹ خسارے کو حکومتی دعووں کی تردید قرار دے دیا۔ہفتہ کے روز جاری اپنے بیان میں شہبازشریف نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار بجٹ خسارہ ملکی جی ڈی پی کے10 فیصد سے بھی زائد ہونا کورونا سے بھی زیادہ پریشان کن ہے۔گزشتہ برس بجٹ خسارہ 7.1 فیصد ہونے کا حکومتی دعوی غلط ثابت ہوا آج سچائی ثابت ہوئی کہ یہ جی ڈی پی کا 9.1 فیصد ہے۔اِس سال حکومت کا دعوی بجٹ خسارہ 9.1 فیصد کا ہے لیکن آزاد ماہرین معیشت کے نزدیک یہ جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زائد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ تاریخی بجٹ خسارہ کورونا وبا سے پہلے ہی ہماری معیشت چاٹ چکا تھا، بجٹ اعداد و شمار گواہی دے رہے ہیں کہ کورونا وبا سے پہلے ہی بجٹ خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، موجودہ حکومت بجٹ خسارے کے علاوہ گردشی قرض قابو کرنے میں بھی مکمل ناکام رہی قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت کے مقابلے میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں گردشی قرض تین گنا رفتار سے بلند ترین سطح 2.1 کھرب روپے پر پہنچ چکا ہے حکومت عوامی سرمایہ کی امانت کا احساس کرے، قوم کا مستقبل گروی نہ رکھے پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی معاشی غلام بنانے کے بجائے حکومت تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری کرے پی ٹی آئی کی وفاقی اور صوبوں میں حکومتوں نے تعلیم کے بجٹ میں بڑی کٹوتی کی وفاق اور صوبے وسائل فراہم نہیں کریں گے تو ہمارے نوجوان زیورتعلیم سے کیسے آراستہ ہوں گے؟ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم اور آئندہ نسلوں کے ساتھ انصاف کی توقع رکھنے والے ہر شخص کو پی ٹی آئی حکومت سے سخت مایوسی ہوئی ہے، بجٹ گواہی دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نہ صرف نااہل ہے بلکہ اپنی نااہلی چھپانے کے لئے جھوٹ بھی بول رہی ہے۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -