سندھ اسمبلی، بجٹ پر بحث کا آغاز،بم دھماکوں کے شہداء کیلئے دعائے مغفرت

  سندھ اسمبلی، بجٹ پر بحث کا آغاز،بم دھماکوں کے شہداء کیلئے دعائے مغفرت

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے ہفتہ کے روز اپنے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغاز کردیا جس میں حکومت اور اپوزیشن کے مختلف ارکان نے حصہ لیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سہراب سرکی نے متوزان بجٹ پیش کرنے پر حکومت سندھ کو مبارکبادکباد پیش کی اور کہا کہ مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا گیا ہے جس پروزیراعلی سندھ سمیت انکی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ ایم سکیو ایم کے رکن اسمبلی راشد خلجی نے عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی دیہی اور شہری عوام کو بجٹ سے کیا مل رہا ہے۔بجٹ تعصب پر مبنی ہے اسے مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے ترقیاتی کام زمین پر کہیں نظر نہیں آتے،لاڑکانہ میں صنعتی زون ابھی تک مکمل نہیں ہواکراچی حیدرآباد میں میں لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے؟ پیپلز پارٹی کے رکن گہنور خان اسران نے ویڈیو لنک کے زریعے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے مشکل ترین معاشی حالات میں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا،اس کے برعکس وفاقی حکومت نے دعووں کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس کے معاملے پر وفاقی حکومت کنفیوز ہے۔کبھی لاک ڈان تو کبھی اسمارٹ لاک ڈان کی باتیں کرکے عوام کو کنفیوز کیاگیا۔ پی ٹی آئی رکن راجہ اظہر نے ارکان اسمبلی کی کورونا وائرس ٹیسٹ رپورٹس ایوان میں دکھانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جو ارکان ایوان میں موجود ہیں ان کا ٹیسٹ منفی ہے یقین کرانے کے لئے ان کی رپورٹس ایوان میں لائی جائے۔راجہ اظہر نے محکمہ خوراک کی کارکردگی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ وہ محکمہ خوراک کو تین اور وزیراعلی سندھ کو بھی کئی خطوط لکھ چکے مگر انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔وزیراعلی سندھ وزیراعظم کی جانب سے خطوط کا جواب نہ ملنے کا رونا روتے ہیں اور خود ہمارے خطوط کا جواب تک نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کو برداشت کررہے ہیں جب یہ برداشت کا مادہ ختم ہوگیا تو ہم بھی جواب دینگے۔ جی ڈی اے رکن عبدالرزاق راہموں نے شکوہ کیا کہ بجٹ میں اپوزیشن کو ان بورڈ نہیں لیا گیا۔اپوزیشن سے کوئی اسکیم نہیں لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سامنے الیکشن جیتنا بہت مشکل ہے۔لیکن عوام ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر پارکر میں غذائی قلت کے باعث اموات ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مٹھی اسپتال صرف تھر نہیں ہے۔مٹھی سے آگے بھی تھر ہے۔تھر کی صورتحال پر بھی نظر رکھیں۔انہوں نے کہا کہ تھر میں 3 سو اراو پلانٹ لگے ہی نہیں ہیں۔کیا پورے پاکستان میں ایک ہی کمپنی تھی جس کو 7 سات سو آر او پلانٹ دئیے گئے۔دریں اثناء سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ہفتہ کے روزکراچی، لاڑکانہ اور گھوٹکی کے دھماکوں میں شہید ہونے والے رینجرز اہلکاروں اور شہریوں کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔ جی ڈی اے رکن حسنین مرزا نے اس حوالے سے دعا کی درخواست کی تھی۔ پیپلز پارٹی کی ختون رکن شمیم ممتاز نے سابق صدر نے کہا کہ آصف علی زرداری علیل ہیں ان کی صحت کے لیے دعا کی جائے۔ پی ٹی آئی کے سعید آفریدی نے کراچی احساس پروگرام کے سینٹرز پر حملیمیں جاں بحق افراد کے لیے دعا کے لئے کہا۔ پی ٹی آئی کے رکن شاہنواز جدون نے درخواست کی کہ کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کے لیے دعا مغفرت کی جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -