کورونا اور علاقائی تعاون

کورونا اور علاقائی تعاون
 کورونا اور علاقائی تعاون

  

ابھی تک کسی واقعہ نے اس حد تک عالمی خطرات کے مقابلے میں دنیا کی کمزوری کو عیاں نہیں کیا تھا، جتنا کورونا نے کیا ہے یہ کمزوری اور ناتوانی پہلے درجے میں ایک ادراکی کمزوری ہے۔ حکومتوں کے سربراہوں کی سطح پر بہت سوں کا مفروضہ ہے کہ ملکی اپروچ کے ساتھ اس خطرے سنے نبٹا جاسکتا ہے اور اس سے بڑھ کر بعض مجھتے ہیں کہ یہ بیماری ان کے دشمنوں کو تہس نہس کرنے آئی ہے۔ اسی وجہ سے کم از کم کورونا کے خلاف جنگ کے ابتدائی تین ماہ کے عرصہ میں جیت کورونا کے نام رہی ہے۔ کورونا کے پھیلنے کے تین ماہ بعد اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ابھی تک کوئی لائحہ عمل یا عالمی قیادت موجود نہیں ہے۔ اقوام متحدہ ہمیشہ سے کمزور ہے اور کورونا کے آنے سے پہلے اس کے الجھاؤ کا شکار تھا اور عملی طور پر قرنطینہ میں ہے۔

امریکہ نے ٹرمپ کے حکومت میں آنے کے زمانے سے ”سب سے پہلے امریکہ“ کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی مسائل کے مقابلے میں قومی لائحہ عمل اختیار کیا ہوا ہے اور حتی کہ اس نے اپنے اتحادیوں کو بھی پیٹھ دکھائی ہے۔ کورونا بحران کے شروع ہونے کے بعد ٹرمپ نے یورپی ملکوں پر فضائی سفر کا راستہ بند کردیا اور یورپ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا تاکہ سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی کے اصل معنی اور مفہوم کو دکھائے۔

چین بنیادی طورپر عالمی قیادت کا دعویدار نہیں اور جہاں تک یہ بات ہے کہ کورونا اس ملک سے شروع ہوا، فی الحال وہ الزام کی حد تک ہے۔ چینی حکومت کا اس خطرے کے ساتھ برتاؤ کا ردعمل ان کے اس کی شدت اور تمازت کے ادراک کو بیان کرتا ہے۔ یہ ادراک کورونا کے آغاز سے دو ماہب عد تک امریکہ سمیت بہت سے ممالک میں موجود نہیں تھا۔کورونا کی جہتوں اور پھیلاؤ کے حوالے سے ملکوں کے انٹیلی جنس اور فیصلہ سازی کے نظام کی کمزوری پر اعتراض بنتا ہے کہ وہ اس خطرے کی جہتوں اور نتائج کے بارے میں صحیح طور پر پیشنگوئی اور اس کے مقابلے کیلئے اقدام نہیں کرسکے۔

یورپین یونین کہ جس کے بارے میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ اپنے فیصلہ سازی کے میکانزم کو مدنظر رکھتے ہوئے متحد ہوکر عمل کرے گی وہاں سرحدیں بند کردی گئیں اور ہر کسی نے پانی پگڑی کو مضبوطی سے پکڑ لیا تاکہ ہوا اسے اڑا کر نہ لے جائے (یعنی ہر ملک اپنی اپنی نبیڑنے میں لگ گیا) لہٰذا یورپ کے پاس بھی اس خطرے کی موثر مینجمنٹ نہیں تھی۔ چہ جائیکہ وہ ایک عالمی کوشش (وائرس کے مقابلے) کی سربراہی کو قبول کرسکے۔ جی سیون کی تنظیم امریکہ کی چین دشمنی پر مبنی اپروچ کی وجہ سے اس حوالے سے کہ اس عالمی خطرے سے کیسے بنٹے، کوئی ٹھوس موقف نہ اپنا سکی۔ جی ٹوئنٹی ممالک کی تنظیمنے ایک کمزور سا بیان دپنے پر اکتفا کیا اور اس میں بھی چین اور امریکہ کی رقابت محسوس ہو رہی تھی اور چین نے بھی امریکہ پر ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام کی حمایت کا الزام لگایا۔ ایران جو کہ ابھی تک کورونا وائرس سے جانی نقصان کے حوالے سے مشرق وسی کے ممالک میں سب سے آگے ہیں وہاں کورونا وائرس سے مقابلہ ترجیح ہے۔ کورونا کے مشترکہ عالمی خطرے کے پھیلاؤ کی بڑھوتری کے باوجود چین دشمنی، ایران دشمنی، مغرب دشمنی اور امریکہ دشمنی بدستور کورونا بحران سے پنجہ آزمائی کرنے والے ممالک کی پالیسی کا غالب پہلو ہے۔ ظاہری طور پر اس بحران نے بھی عالمی رہنماؤں کو اس عالمی خطرے کے حوالے سے اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے۔

اس موضوع کی اصل وجہ یہ ہے کہ سب اپنے اپنے پرانے موقف، مقطہ نظر، رقابتوں اور دشمنیوں کے تناظر میں (کورونا سے مقابلے کے) موضوع کو دیکھ رہے ہیں اس بات سے غافل ہیں کہ سبھی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ امریکہ میں جن لوگوں میں چین اور ایران کے حوالے سے دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے وہ کورونا کو اپنا اتحادی سمجھتے ہیں۔ اہم ممالک پر ایسے نقطہ نظر اور اپروچ کی حکمرانی کے ساتھ دنیا کو کورونا پر حاصل ہونیوالی وہ کامیابی جس میں اتحاد کا فقدان ہو اس کی پیشنگوئی کرنا مشکل بات نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب ہی ہوا کہ دشمنی میں گھری ہوئی دنیا اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ کورونا لاکھوں لوگوں کو اپنا لقمہ بنالے۔ بعض ممالک میں غذائی اشیا کی برآمدات کے محدود ہونے اور اسی طرح دوسرے ممال سے ماسک چھیننے کی خبریں آرہی ہیں۔ اس عمل کے جاری رہتے ہوئے میدان رقابت سیاسی اور جیوپلیٹیکل سے غذائی اور ادویات (کی رقابت کے میدان کی طرف) پھیل جائے گا۔ اس بحران کے پھیلنے سے ممکن ہے کہ دنیا پانی، غذا اور ادویات کے ذرائع تک رسائی حاصل کرنے کے جھگڑے کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اگر دشمنی اور یکطرفہ رجحان پر مبنی اپروچ آگے بڑھتی رہی تو اس بات کا خدشہ ہے کہ دریائی ڈاکے (قذاقی) یا ہوائی ڈاکے کو مشاہدہ کریں۔

یہ لڑائی جھگڑے صرف ملکوں کے درمیان بین الاقوامی جھگڑے نہیں ہونگے۔ بحران کے شدید ہونیسے سماجی اور سیاسی نظاموں کے ٹوٹنے اور سقوط کرنے کا خطرہ موجود ہے اور ممکن ہے بہت زیادہ تعداد میں حکومتوں کے دیوالیہ ہونے کا مشاہدہ کریں یعنی اس کا مطلب یہ کہ خانہ جنگیوں کے ہنے کے خطرے کا بڑھنا جوکہ فطری طور پر بیماری پر کنٹرلو حاصل کرنے کو اور زیادہ مشکل بنا دے گا۔ قوم پرستی ایک عالمی خطرے سے مقابلے کا ایک مناسب طریقہ کار نہیں ہے امریکہ جس کی تین سو تیس میلین کی آبادی میں دوسو ستر ملین لوگوں کے پاس اسلحہ ہے وہاں آٹھ کروڑ لوگ ایسے ہیں جو گھنٹے کے حساب سے کام کرنے والے ہیں اور ان کے پاس بیمارہنے کی صورت میں ہیلتھ انشورنس نہیں ہے اور ستائیس میلین لوگوں کے پاس انشورنس ہی نہیں ہے۔ یہ ملک (امریکہ) ایسی حالت میں کیسے لوگوں کو لمبے عرصے تک قرنطینہ میں رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ امریکہ معاشرے کے مختلف شعبوں کو ریلیف دینے کیلئے 2/2ٹریلین ڈالر کا ایمرجنسی بجٹ منظور کرنے کے باوجود اسی طرح حملے کی زد میں بے دست و پا ہے۔ اگر جس طرح کہ اٹلی اور نیویارک کی حالت واضح طور پر بتا رہی ہے کہ یورپ اور امریکہ اپنی میڈیکل اور ہسپٹلز کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہیں، آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس بیماری کے پھیلنے سے باقی دنیا کی ذمہ داری کا کیا بنے گا۔ اگر خصمانہ نگاہیں اور اس سے اٹھنے والے ملٹری بجٹ تھوڑا معتدل ہو جائیں تو دنیا اس خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے زیادہ وقت اور فرصت حاصل کرلے گی۔ کچھ لوگ کورونا کے بعد کی دنیا کے حوالے سے تھوڑا پرجوش واقع ہوئے ہیں بہت سے ممالک کیلئے کورونا کے بعد (پوسٹ کورونا)کا بین الاقوامی نظام کورونا سے پہلے (پری کورونا) کے نظام سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔ پری کورونا دور میں متاثرہ ممالک کی نصف فیصد عالمی معیشت پوسٹ کورونا دور میں تیس فیصد میں تبدیل نہیں ہو جائے گی۔

بین الاقوامی نظام کے اوپری سرے پر طاقت کی اکھاڑ پچھاڑ ہوگی ناکہ نیچے کی طرف۔ دوسری جنگ عظیم میں بہت سے ممالک کا سقوط تیسری دنیا کے ظہور پذیر ہونے پر منتج نہیں ہوا۔ نو آبادیات سے دستبرداری کا عمل اور ملکوں کی نو آبادیات سے آزادی نے جنگ کے بعد بین الاقوامی نظام کی کایا نہیں پلٹی۔ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں بین الاقوامی نظام کی بناوٹ بھی زیادہ مختلف نہیں ہوگی مگر ان ممالک کے لئے جو تیزی سے بیماری پر غلبہ حاصل کریں اور اپنی معاشی اور برآمدی گنجائش بڑھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیماری پر غلبہ پانا فیصلہ سازوں کی ترجیحات میں ہونا چاہئے۔ اس کام کی شرط لازم یہ ہے کہ دوسری سوچوں اور آپشنز میں کمی لائی جائے۔ ایران دنیا کے غیر مستحکم ترین علاقہ کے مرکز میں واقع ہوا ہے اس بات کا سنجیدہ خطرہ موجود ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے سے خطے میں موجو ناقص حکمرانی والی حکومتوں اور خطے کے دوسرے ممالک کو عدم استحکام سے دو چار ہوتا دیکھیں۔ کورونا سے جاری لڑائی کے ساتھ ساتھ کوئی ملک اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ دوسرے چند محاذوں پر بھی نبردآزما ہو۔ کورونا سے مقابلہ پر توجہ مرکوز کرنے اور خطے میں جاری دشمنیوں کے خاتمے کیلئے دور اندیشی اور دگنی کوشش کی ضرورت ہے۔ خطے کے ممالک کے درمیان میڈیکل اور صحت کے شعبے میں تعاون، اعتماد سازی اور دوسرے شعبوں میں تعاون کے اقدام کیلئے مناسب نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -