جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، فیصلہ ہو گیا، صیاد بھی خوش!

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، فیصلہ ہو گیا، صیاد بھی خوش!
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، فیصلہ ہو گیا، صیاد بھی خوش!

  

عدالت عالیہ کے دس رکنی فل کورٹ بینچ نے محترم مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا، اور ان کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا ہے۔ ساتھ ہی کثرت رائے سے برطانوی اثاثوں کے حوالے سے معاملہ ایف بی آر کے سپرد کر دیا جو فاضل جج کی اہلیہ کے ٹیکس امور اور اثاثوں کے حوالے سے تحقیق کے بعد اپنی رائے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو آگاہ کرے گا۔ یوں ایک بہت ہی اہم معاملے کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہو گیا۔ اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست مان لی گئی۔ فاضل فل بینچ کی طرف سے یہ مختصر حکم ہے اور تفصیلی فیصلہ آنے تک اس بارے میں جو بھی رائے دی جائے گی وہ بھی اسی کے مطابق اور ابتدائی ہو گی۔ اس لئے بہتر عمل تو یہی ہے کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کر لیا جائے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ روایت بدل چکی ہے اور یہاں اس امر کا احترام نہیں کیا جاتا کہ کسی زیر سماعت مقدمہ یا درخواست پر تبصرہ نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ مکمل فیصلہ آنے کے بعد فیصلے پر نیک نیتی سے رائے دی جا سکتی ہے اب اسی ریفرنس کے معاملے کا جائزہ لیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ دوران سماعت نہ صرف بینچ کے فاضل اراکین ریمارکس دیتے رہے بلکہ اس سماعت کے حوالے سے تبصرے بھی ہوتے رہے اور اب ابتدائی مختصر حکم پر بھی اپنے اپنے مطلب کے معانی نکالے جا رہے ہیں۔ ہم بہر حال اسی رائے پر عمل کے خواہش مند ہیں کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد نیک نیتی سے اس پر رائے دی جائے۔ تاہم اب مختصر حکم کے حوالے سے جو آرا سامنے آ رہیں ہیں، ان پر بات کر لینا ہی مناسب ہوگا عبوری یا مختصر حکم کے بعد فریقین مطمئن ہیں۔ حکومت اور سرکاری وکیل فروغ نسیم (سابق وزیر قانون+ انتظار کریں۔ اب کس روز پھر حلف اٹھاتے ہیں) کی اپنی اپنی رائے ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے ہار جیت سے بالا قرار دے دیا اور کہا ہے کہ نہ کسی کی ہار ہوئی نہ کسی کی جیت، جبکہ ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ دیکھا جائے تو میں کیس جیت گیا ہوں، اب دوسری طرف کی رائے خوشی کا اظہار ہے۔ وکلاء اور حزب اختلاف نے اسے فتح قرار دیا، اپوزیشن نے تو صدر اور وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ہماری اپنے عدالتی رپورٹنگ کے تجربے کے حوالے سے اب بھی یہی تجویز ہے کہ اگر ابتدائی رائے دے ہی دی گئی ہے تو تفصیلی فیصلے کا بھی انتظار کر ہی لیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس میں بھی سینئر وکلاء کی رائے اہمیت رکھے گی۔ بہر حال مختصر حکم کے حوالے سے مختصر بات یہی کہ درمیانی راستہ نکالنا تھا سو نکال لیا گیا۔ برادر جج کی توقیر ہوئی اور ریفرنس خارج کر دیا گیا۔ تاہم ابھی جال اور صیاد موجود ہے۔ پرندہ جال میں ہی ہے۔ اگرچہ اس جال کو ذرا وسیع کر دیا گیا۔ اب پرندہ ذرا آزادی سے اپنے پر پھیلا لے گا اور تھوڑی پرواز بھی کر لے گا اور صیاد اس جال کو تنگ کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ تو تفصیلی فیصلے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ ریفرنس خارج کرنے کی وجوہ کیا بتائی گئی ہیں۔ تاہم جہاں تک غیر ملکی جائیداد کا تعلق ہے تو فاضل جج مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اب بھی جواب دہ ہیں کہ عدالت نے ان کے خلاف ٹیکس اور اثاثوں کی ملکیت کے حوالے سے سابقہ کارروائی کالعدم قرار دے کر معاملات کی نئے سرے سے تحقیق کی اجازت دی ہے اور مسز فائیز عیسیٰ کو جواب دہ ہونا اور پھر سے منی ٹریل دینا ہو گی کہ جائیداد کی ملکیت کے حوالے سے ان کا اپنا دعویٰ ہے یوں اب وہ نئے سرے سے جواب دہ ہوں گی۔ کہ خود مسز عیسیٰ نے انصاف کا مطالبہ کیا تھا اور اب پھر سے ابتدائی انصاف ایف بی آر کرے گا جو ایک سرکاری ادارہ ہے۔ ان معاملات کے حتمی فیصلے کے لئے فاضل فل بینچ نے ہدایت بھی کر دی اور وقت کا بھی تعین کر دیا ہے۔ تاہم اس سرکاری ادارے اور اس کے ماتحت شعبوں کی کارروائی کی رپورٹ پھر سے سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جمع کرانے کی بھی ہدایت ساتھ ہی ہے کہ پھر سے معاملہ دیکھا جا سکے۔ معذرت کے ساتھ اس ہدایت اور نئی تحقیق کے حکم سے ہم تو اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر حکومت جائیداد (اثاثوں) کے حوالے سے پھر کسی جگہ یہ ثابت کر سکی کہ فاضل جج (فائز عیسیٰ) کا بھی کوئی تعلق ہے تو پھر سے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی جا سکے گی ”دوسری طرف یہ بھی ہے کہ ایف بی آر کو بھی اب بہت احتیاط کرنا ہو گی کہ سپریم جوڈیشل کونسل نتیجے پر غور کرے گی۔ حالیہ فیصلے میں اس حوالے سے کسی حکم سے یوں گریز کیا گیا کہ بقول فل بینچ کے سربراہ فاضل جج کے کہ عدالت کو ”میرٹ“ پر جانچ اور فیصلے کا اختیار نہیں ہے۔ یوں ہمارا ذاتی اندازہ اور رائے یہی ہے کہ یہ درمیانی راستہ ہے۔ بہر حال ایک بات جو اطمینان دے رہی ہے وہ یہ کہ ریفرنس خارج کر دیا گیا۔ جس کے بارے میں واضح دلائل دیئے گئے تھے کہ یہ بد نیتی پر مبنی اور محض اس دھرنے کے حوالے سے ہے۔ جس کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ دیا اس میں دیئے گئے ریمارکس پسند نہ کئے گئے اور دلائل کے مطابق اسی بناء پر سبق کا فیصلہ ہوا اور ریفرنس دائر کر دیا گیا۔ جس کی سماعت کے باعث اضطراب پیدا ہوا اور قوم میں تقسیم نظر آئی۔ ہماری گزارش تو یہی ہے کہ ہم سب کو معہ ریاستی اداروں کے، احتیاط کرنا چاہئے۔ اور جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ کر عجلت میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہئے ہم نے بھی مختصر بات کی اور تفصیلی فیصلے کا انتظار کریں گے۔

موضوعات بہت ہیں۔ تاہم یہ تازہ ترین ہے۔ اس لئے اس پر بھی بات کرنا ہی تھی۔ صورت حال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم اور پاکستانی نہ تو درد مندی سے حالات کا جائزہ لے کر قومی یکجہتی کے لئے آمادہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی مسلمان ہونے کے ناتے فرامین نبویؐ پر غور کر کے توبہ کرنا چاہتے ہیں۔ یوں عذاب سے بھی گزر رہے ہیں۔ تائب بھی نہیں ہوتے یہ جو نافرمانی ہے۔ ہمیں کہاں پہنچائے گی۔ اس کا اندازہ نہیں کر پا رہے۔ کورونا نام کے وائرس کو اب تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ اللہ کی طرف سے انتباہ ہے اور ہم جو مسلمان ہیں۔ ہم کو ضرور اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ اور اس کا بہترین طریقہ توبہ استغفار ہے۔ جو ہم نہیں کر رہے۔ اور معاشرے کی ساری ابتری اسی باعث ہے۔ بیرونی خطرات، اندرونی خدشات تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم سب توبہ کریں اور مکمل قومی یکجہتی اور اتفاق رائے پیدا کریں کہ یہی راہ نجات ہے۔ اگر ہم ایسا کر لیں تو یقیناً وباء سے چھٹکارا ملے گا تو ایسے مقدمات بھی نہیں ہوں گے جو سب کے لئے امتحان بن جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -