جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا خاتمہ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا خاتمہ

  

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں اُن کے خلاف کارروائی ختم کرنے کا بھی حکم دیا ہے،وہ شوکاز نوٹس بھی منسوخ کر دیا ہے جو سپریم جوڈیشل کونسل نے17جولائی2019ء کو جاری کیا تھا، دس رکنی فل کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کی لندن میں جائیدادوں کی انکم ٹیکس قانون کے تحت تحقیقات کر کے 75دن میں رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو پیش کرے،اس دوران ہونے والی کارروائی سے بھی کونسل کو آگاہ رکھا جائے، ٹیکس کمشنر سات روز کے اندر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سرکاری رہائش کے پتے پر اُن کی اہلیہ اور بچوں کے نام نوٹس جاری کرے گا۔ اہل خانہ سے لندن کی تینوں جائیدادوں کے ذرائع کی علیحدہ علیحدہ وضاحت طلب کی جائے گی۔

صدارتی ریفرنس اور سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، ایک مرحلے پر وہ خود بھی عدالت میں پیش ہوئے اور یہ درخواست بھی کی کہ اُن کی اہلیہ کا وڈیو لنک کے ذریعے موقف سنا جائے جو بیرونِ مُلک مقیم ہیں، سپریم کورٹ نے اس کی اجازت دی جس پر انہوں نے فاضل بنچ کو بتایا کہ انہوں نے رقوم دس سال کے دوران اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹ کے ذریعے بینکنگ چینل سے باہر بھیجیں اور لندن کی ان جائیدادوں کی مالیت اسلام آباد اور کراچی میں ایک کنال کے پلاٹ کی قیمتوں کے برابر ہے، اور انہوں نے اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں یہ جائیدادیں ڈکلیئر کی ہوئی ہیں، وہ بیرونِ مُلک اور اندرونِ مُلک بھی ٹیکس دیتی ہیں۔ایف بی آر کی تحقیقات کی روشنی میں مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی۔

اِس طرح کا ایک ریفرنس جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف بھی دائر کیا گیا تھا جو تیرہ رُکنی فل کورٹ نے مسترد کر دیا تھا یہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے صدر پرویز مشرف نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو آرمی ہاؤس طلب کر کے اُن کے سامنے کاغذات کا ایک پلندہ رکھتے ہوئے استعفا طلب کیا تھا،انہوں نے استعفا دینے سے انکار کیا تو پرویز مشرف غصے اور طیش میں آ گئے تھے اور ان کے بارے میں نازبیا کلمات ادا کرتے ہوئے وہاں موجود چند جرنیلوں کو کہا تھا کہ ان سے استعفا لیں،لیکن جب یہ نہ ہو سکا تو اُن کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا گیا۔پرویز مشرف کے صدارت چھوڑنے کے بعد بھی افتخار چودھری بحال نہیں ہوئے تھے اُن کی بحالی اُس وقت ہوئی جب مسلم لیگ(ن) کے صدر نواز شریف ایک جلوس لے کر لانگ مارچ کے لئے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے،گوجرانوالہ میں اُنہیں اطلاع ملی کہ چیف جسٹس کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چنانچہ لانگ مارچ آگے نہ بڑھا۔

فاضل فل کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں ریفرنس کالعدم کرنے کی وجوہ تحریر نہیں کیں جو تفصیلی فیصلے میں درج ہوں گی تاہم حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ کسی کی جیت اور ہار کا معاملہ نہیں ہے،لیکن اپوزیشن نے اسے حکومت کی سبکی اور شکست کی شکل میں دیکھا ہے اور وزیراعظم اور صدر کے استعفے کا مطالبہ بھی داغ دیا ہے،اس مطالبے کو تو ایک سیاسی بیان قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے،لیکن اتنا تو ہے کہ اس فیصلے نے اُن عزائم اور ارادوں کی راہ میں ایک دیوار کھڑی کر دی ہے جو اس کے پس منظر میں جھلکتے نظر آتے تھے اور جن کی جانب کچھ اشارے بعض حکومتی شخصیات کرتی رہتی تھیں اور وزیراعظم کی ایک معاونِ خصوصی نے جو اب اس منصب سے ہٹائی جا چکی ہیں ایک بار ترنگ میں آ کر کہہ دیا تھا کہ اگر کوئی جج کریز سے باہر نکل کر کھیلے گا تو پھر ریفرنس تو بنے گا،اس سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ ریفرنس کی ایک بنیاد تو وہ تھی، جو صدر نے بیان کی اور اس کا تعلق لندن کی جائیدادوں سے بتایا گیا،لیکن پس ِ چلمن بھی ایسی وجوہ تھیں جن کا اجمالی سا تذکرہ دورانِ سماعت بھی ہوتا رہا اور فاضل ججوں کے بعض ریمارکس کی شکل میں بھی سامنے آیا۔بہرحال اس ریفرنس میں سامنے اور پس ِ پردہ جو کچھ بھی تھا سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس کی ساری بنیادیں مسمارکر دی ہیں، حکومت اگرچہ یہ کہہ کر مطمئن نظر آنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کسی کی ہار جیت نہیں ہوئی اور عدالت میں پیش ہونے والے حکومتی وکیل تو اس بات کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں کہ ٹیکس کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی تجویز ان کی تھی، اس پر وہ اظہارِ مسرت کرنا چاہتے ہیں تو ان کے من کی موج ہے،لیکن اپنی اہلیہ کا بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا تو خود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کی تھی،جو اس پورے معاملے میں براہِ راست فریق بھی نہیں تھیں،انہوں نے جو بیان ریکارڈ کرایا اس میں جائیدادوں کی خریداری کی منی ٹریل پیش کی اور تمام تر ٹیکس تفصیلات دینے پر آمادگی ظاہر کی،اس لئے وہ بھی کہہ سکتی ہیں کہ انہوں نے خود ٹیکس معاملے کی تفتیش کے لیے کہا تھا۔اب یہ سارا معاملہ ٹیکس حکام کے سپرد ہے وہ 60 دن میں تحقیقات اور75دن میں رپورٹ جمع کرانے کے پابند ہیں، دیکھنا ہو گا کہ ٹیکس حکام بالآخر کس نتیجے پر پہنچتے ہیں یہ معاملہ اب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے، ٹیکس حکام مطمئن ہو گئے تو معاملہ ختم، نہ ہوئے تو فیصلے کے خلاف اپیلوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گا اور پھر یہ سلسلہ طول کھینچے گا۔ اگر معاملات نیک نیتی سے آگے بڑھائے گئے تو پھر زیادہ مسائل نہیں ہوں گے ویسے ٹیکس حکام قانون کے تحت پانچ سال تک کی معلومات لے سکتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو انہوں نے بیرونِ مُلک رقوم 2003ء میں بھیجنا شروع کی تھیں اور یہ سلسلہ دس سال تک جاری رہا، یہ رقوم بینک کی وساطت سے جا رہی تھیں اور ٹیکس حکام اس سے بے خبر نہیں ہو سکتے، اگر بے خبر تھے تو یہ معاملہ خود ٹیکس حکام کی نااہلی پر دلالت کرتا ہے اور اگر وہ باخبر تھے تو پھر ان سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ اس دوران انہوں نے کسی کارروائی کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی، اس عرصے میں حکومتیں آتی جاتی رہیں کسی کو یہ خیال نہ آیا۔بالآخر یہ معاملہ اس وقت اُٹھا جب 2019ء میں صدر نے ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو ارسال کر دیا۔ یہ دوسرا ریفرنس ہے، جو سپریم کورٹ سے کالعدم ہوا ہے۔ دونوں ریفرنس دو مختلف وزرائے اعظم کی جانب سے دو مختلف صدور کو ارسال کئے گئے،جو انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجے۔ قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیئے،اِس لئے سیاسی دانش مندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ کوئی وزیراعظم ریفرنس صدر کو ارسال کرنے سے پہلے اس کے مالہ‘ وما علیہ پر غور کر لے اور اگر کوئی صدر بھی اس کے نتائج و عواقب کو مدنظر رکھیں تو کیا مضائقہ ہے۔پرویز مشرف تو کہا کرتے تھے کہ انہیں وزیراعظم نے ریفرنس بھیجا اور انہوں نے آگے بھیج دیا، اس اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ ریفرنس بھیجنے سے پہلے اس پر جو توجہ ہونی چاہئے تھی وہ نہیں دی گئی،اگر اب بھی ریفرنس بھیجنے سے پہلے بعض امور پر سنجیدگی سے غور کر لیا جاتا تو شاید اسے کالعدم قرار دینا آسان نہ ہوتا،لیکن حکومتوں کی ریت یہ ہے کہ وہ ماضی سے سیکھتی نہیں خود ناکام تجربہ کرنے کو اولیت دیتی ہیں۔نتیجہ سامنے آیا ہے تو اب تاویلات کے ذریعے دل کو خوش رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔فیصلے سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جو حلقے حکومت کو ریفرنس واپس لینے کا مشورہ دے رہے تھے اُن کی رائے زیادہ وزنی تھی،جس پر توجہ دی جانی چاہئے تھی۔

مزید :

رائے -اداریہ -