میرے ابو

میرے ابو
 میرے ابو

  

گزشتہ کئی برس سے جب بھی ’فادرز ڈے‘ آتا تو بے اختیار اپنے ابو کے بارے میں لکھنے کو د ل چاہتاتھا لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی۔ ہمیشہ یہی لگتا کہ میں ان کی شخصیت کا احاطہ کر ہی نہیں سکتی،ان کے بارے میں لکھنے کو اتنا کچھ ہے، جو بھی لکھ لیا جائے وہ کم ہی معلوم ہو گا۔دنیا ان کو مجیب الرحمان شامی کے نام سے جانتی ہے، ایک تجزیہ کار اور ایک ایڈیٹرکے طور پر پہچانتی ہے،لیکن ہمارے لئے وہ بہترین ساتھی،دوست، ہمراز ہیں اور غمگسار ہیں۔کورونا کی بدولت پہلے تو تقریباً ڈھائی ماہ ابو کے گھر جانا نہیں ہو سکا، بمشکل رمضان اور عید پر تھوڑی سی نرمی ہوئی لیکن عید کے بعد کے حالات نے دوبارہ سخت کرفیو نافذ کروا دیا، سو اب رابطہ فون کے ذریعے ہوتا ہے، بھلا ہو ٹیکنالوجی کا کہ ویڈیو کال کے ذریعے شکل نظر آجاتی ہے، ورنہ پتہ نہیں کیا ہوتا؟

آج سے پہلے کبھی والدین سے اتنی دوری نہیں ہوئی تھی، شادی نے بھی کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ڈالاتھا، آتے جاتے ابوکے گھر کا چکر لگ ہی جاتا تھا،گویا جو فاصلہ کوئی پیدا نہ کر سکا وہ کورونا نے کر دیا۔آج فادرز ڈے پر قلم اٹھانے کی وجہ ایک اور بھی ہے، چند روز قبل میرے چھوٹے بیٹے اصمد کا آن لائن سکول چل رہاتھا، بریک میں اس کی اپنی کلاس کے ایک بچے سے تو تو میں میں ہو گئی۔ معاملہ تو سنبھل گیا لیکن اصمد کی تسلی نہیں ہوئی، بدلہ لینے کی تمنا جاگی تو میں نے اس سے کہاکہ آپ کو یاد ہے نانا ابو کیا کہتے ہیں تواس نے آہستہ سی آواز میں کہا، جی وہ کہتے ہیں ’ہم نہیں آدمی تمہارے جیسے‘ بس پھر اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا، جذبات ٹھنڈے ہو گئے اور وہ پرسکون ہو گیا۔ اورمیں سوچنے لگی کہ واقعی کبھی کبھار بہت دل کرتا ہے کہ لوگوں کو ان ہی کی طرح جواب دیا جائے، اتنی ہی بد لحاظی کی جائے لیکن بھلا ہو تربیت کا جو آڑے آ جاتی ہے۔مجھے تو اپنے والدین سے یہی’گلہ‘ ہے کہ انہوں نے ہمیں گالی کا جواب گالی سے دینا سکھایا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ نظر انداز کرنے کا سبق دیا۔

ہمارے والد صاحب نے تربیت کے لئے صرف باتوں کا سہارا نہیں لیابلکہ خود عمل کر کے دکھایا،ان کے قول و فعل میں کبھی تضاد نہیں پایا، انہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا، کسی کے ساتھ بدتہذیبی سے پیش آتے نہیں دیکھا،تو تڑاخ تو بہت دور کی بات، ہمارے گھر میں تو چھوٹے کو بھی آپ کہہ کر بلانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔میرے بھائیوں کوہمیشہ صاحب کہہ کر پکارا جاتا ہے اور مجھے ’آپا‘۔ہمارے تو گھر کے بچے بھی ملازمین کو انکل، بھائی اور باجی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔

آج کل لوگ وقت نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہیں، مصروفیت کا رونا روتے ہیں، اسی لئے وہ بچوں کو بھی صحیح طرح وقت نہیں دے پاتے لیکن اپنے ابو کو ہم نے تما م تر مصروفیات کے باوجودان کوہمیشہ آس پاس ہی پایا۔بچپن میں لوگ اکثر یہ سوال کرتے تھے کہ آپ کے ابو تو اتنے مصروف رہتے ہیں کیا آپ کی ان سے ملاقات ہوتی ہے؟ اس سوال پر اکثر بڑی حیرانی ہوتی کہ جتنا وقت وہ ہمیں دیتے ہیں شائد ہی کوئی والد اپنے بچوں کو دیتے ہوں۔ہفتے میں ایک دفعہ ہم کھانا کھانے ضرور جاتے تھے، چودہ اگست کی روشنیاں دیکھنا تو جیسے لازم تھا،بے ہنگم شور اور ٹریفک بھی ہمیں نہیں روک سکتی تھی۔وہ پورے جوش و خروش سے ہمارے ساتھ لڈو کھیلتے اور رنگ بھی۔ہمارے گھر میں تعلیم پر بہت زور تھا،ہمیشہ یہی سبق پڑھایا گیا کہ ہم ’جدی پشتی رئیس نہیں ہیں، علم ہی ہمارا اوڑنا بچھونا ہے‘، ہم بہن بھائیوں کی کامیابی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے، بلکہ اگر میں کہوں کہ ہماری کامیابی ان ہی کی روشن خیالی اور دور اندیشی کے مرہون منت ہے توہرگز غلط نہیں ہو گا۔انہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹی دونوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع دئیے،کبھی اپنے فیصلے اور مرضی کا پابند نہیں کیا، ہر مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنے کی ترغیب دی، جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو کام کرنے کی مکمل آزادی دی، زندگی کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں ساتھ دیا،غلطیوں پر ڈانٹنے کی بجائے سمجھانے کو ترجیح دی۔

رشتے کیسے نبھائے جاتے ہیں اور ان کی اہمیت کیاہے، یہ بھی انہی سے سیکھا۔کس رشتے کا کیا مقام ہوتا ہے یہ ان سے بہتر کوئی جان ہی نہیں سکتا اور اس بات کی گواہی ہمارے خاندان کا ہر فرد دے سکتا ہے۔ رشتے داروں کے لئے شجر سایہ دار ہیں،آجکل لوگ سگے بہن بھائیوں سے مشکل سے ملتے ہیں لیکن ان کے گھر کے دروازے تو دور پرے کے رشتے داروں کے لئے بھی کھلے رہتے ہیں۔ کسی پر کوئی بھی مصیبت آئے تو ان کی طبعیت بے چین ہو جاتی ہے۔امی کو جس طرح انہوں نے عزت دی اور ان کی عزت کرائی، اعتماد دیا، اس کو دیکھ کر ہمیشہ دل میں یہی خواہش رہی کہ ان جیسا شوہر ہی ملے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سسربھی بہت کمال کے ہیں، ان کی بہوئیں اپنے دل کی ہر بات ان سے ہی کرنے کو ترجیح دیتی ہیں، داماد بھی ہر معاملے میں ان کی رائے کو مقدم جانتے ہیں۔ان کو ہر معاملہ سلجھا لینے کا ہنر آتاہے۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہ دوستوں کے دوست ہیں بلکہ دوستی میں ہر حد سے گزر جانے کی عملی تفسیر ہیں۔کوئی مدد کو پکار لے تو دن اور رات کی پرواہ کئے بغیر جو وہ کر سکتے ہیں، کرتے ہیں، کبھی کبھار یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، چڑ بھی چڑھتی ہے، لیکن ابو بھی اپنی ’عادت سے مجبور‘ ہیں۔ہرکسی کی خوشی و غم میں شامل ہونا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔مہمان نواز ایسے ہیں کہ کھانے کے وقت اگر کوئی گھر آ جائے تو پھر وہ کھانا کھائے بغیر نہیں جا سکتا، بلکہ اگر کھانے کا وقت نہ بھی ہو تو وہ کوشش کر کے کھانے تک روک ہی لیتے ہیں۔ کورونا کی آمد سے پہلے اگر کسی دن قسمت سے کوئی مہمان نہ ہوتا تو فون کر کے مجھے یا اپنے کسی رشتے دار کو بلا لیا کرتے تھے۔

کمال یہ ہے کہ ان کے دل میں اپنے ہربچے کی الگ جگہ ہے اور اس سے بات کرنے کا طریقہ بھی جدا ہے۔مسئلہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ان کے ساتھ بات کر کے بہت چھوٹا لگنے لگتا ہے۔آج بھی کوئی مشکل درپیش ہوتو ان سے ہی بات کر کے دل کو تسلی ہوتی ہے،گو کہ کبھی کبھی ایسا بھی لگتا ہے کہ ان کو اپنی بات سمجھانا ذرا مشکل ہے، ان جیسی دلیلیں دینا اب ہر کسی کے بس کی بات تو نہیں ہے۔چھوٹی بڑی کوئی بھی کامیابی ہوسب سے پہلے انہی کو فون کرنے کوبتانے کی خواہش ہوتی ہے،یہاں تک کہ میرے بیٹے بھی اپنی کامیابی پہلے ان ہی کے ساتھ بانٹنا پسند کرتے ہیں۔وہ ہمارے دل کے تو قریب ہیں ہی لیکن اپنے نواسوں، پوتوں اور پوتیوں کے لئے مثالی نانا اور دادا ہیں، وہ بھی ان کے ہی اردگرد رہناچاہتے ہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ میں نے انہیں ہمیشہ اپنے مخالفین کے لئے بھی ہمیشہ خیر ہی مانگتے دیکھا، لوگ ان کے بارے میں بہت سی باتیں کر جاتے ہیں، طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں،کئی دفعہ ہم بہن بھائی جذباتی ہو جاتے ہیں لیکن وہ بڑے آرام سے ہنس کر ٹال دیتے ہیں۔ بحث کرتے ہیں لیکن کبھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے،بغیر موثردلیل کے بات کرتے ہیں نہ ہی سنتے ہیں،سخت سے سخت بات بھی انتہائی خوبصورتی سے کر جاتے ہیں۔انہوں نے یہی سکھایا کہ ضروری نہیں کہ سامنے والے کو تھپڑ کے ذریعے ہی غلطی کا احساس دلایا جائے، بلکہ طریقہ ایسا ہو کہ آپ کہہ بھی جائیں اور اگلے کو برا بھی نہ لگے۔وہ دیکھنے میں سخت مزاج معلوم ہوتے ہیں لیکن اندر سے انتہائی نرم ہیں، رعب و دبدبہ ان کی شخصیت کا خاصہ ہے لیکن گھر میں وہ اس کے بالکل بر عکس ہیں۔غصہ آتا ہے لیکن جتنی تیزی سے آتا ہے اس سے کہیں زیادہ جلدی اتر بھی جاتا ہے۔قسمت کے دھنی، اصولوں کے پابند اور نظم و ضبط کے قائل ہیں۔کبھی بڑی سے بڑی بات بھی در گزر کر جاتے ہیں اور کبھی چھوٹی سی ہی بات پر ’عزت افزائی‘ ہو جاتی ہے۔ آج تک ان کی ’آنکھ‘ سے ڈر لگتا ہے، کبھی اگر غلط بات منہ سے نکل جائے تو ان کے چہرے کے تاثرات ہی غلطی کا احساس دلانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔

جب لکھنا شروع کیا تو حوصلہ افزائی کی، تعریف بھی کی، لیکن جب جب ضرورت پڑی ’کھنچائی‘ بھی کی۔بار ہا احساس ہو اکہ ان کے معیار پر میں پورااترنا مشکل ہے،کئی دفعہ ان سے اختلاف بس دل ہی دل میں کر لیا کیونکہ بعض مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جب اظہار مہنگا پڑ سکتا ہے۔

مجھے یہ کہنے میں جھجک ہے اور نہ ہی عار کہ میں نے آج تک زندگی میں جو بھی حاصل کیا اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ میرے ابو ہمیشہ میرا سایہ بن کر ساتھ رہے، میں نے جب بھی پیچھے مڑ کر دیکھا توانہیں کھڑا پایا،اپنے اصولوں پر ڈٹ جانے کا حوصلہ ان سے پایا بلکہ بہت سے لوگوں سے لڑائی مول لینے کی جرات اسی مان پر کر لی کہ بات بگڑ بھی گئی تو ابو سنبھال لیں گے۔ میرا یقین ہے بلکہ ایمان ہے کہ اگرہر باپ میرے والد کی طرح اپنی بیٹی کی ڈھال بن جائے تو کبھی کسی کی حق تلفی نہیں ہو گی، کوئی مجبوری آڑے نہیں آئے گی،بچیاں ظلم کا شکار نہیں ہوں گی، ہر لڑکی معاشرے میں سر اٹھا کر جئے گی، بڑی سے بڑی مشکل سے ٹکرا جائے گی۔آج اگر ہر باپ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اپنی بیٹی کا ساتھ دینے کی ٹھان لے توبیٹیوں کی قسمت ہی بدل جائے۔

بس یہی دعاکہ اللہ سب کے ابوؤں کوسلامت رکھے۔۔۔۔آمین

مزید :

رائے -کالم -