سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث شہری سخت پریشانی میں مبتلا

سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث شہری سخت پریشانی میں مبتلا

  

لاہور(جنرل رپورٹر‘ نمائندہ خصوصی) کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے لاہور کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت کئے گئے سیل علاقوں جن میں عبدالکریم روڈ قلعہ گجر سنگھ‘ گلبرگ اور کرشن نگر صابر سٹریٹ کے رہائشی علاقے سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ ان سیل شدہ رہائشی علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہم اس سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہو کررہ رہ گئے ہیں اور ان رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کورونا ایس او پیز کے تحت یہ بات طے ہے کہ ہمیں کھانے پینے کی اشیاء اور بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء گھروں کی دہلیز پر ہی مہیا کی جائیں گی مگر حقیقت میں ایسا نہ ہے اس قدر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں نہ تو ہم کہیں آ جا سکتے ہیں اور نہ ہی ہم سے ملنے کے لئے ہی کوئی آ سکتا ہے جبکہ ہمارے پاس بنیادی اشیاء کی بھی قلت ہے ہمارے شناختی کارڈز دیکھ کر ہمیں آنے جانے کی اجازت ملنی چاہئے۔عبدالکریم روڈ قلعہ گجر سنگھ کے رہائشی بشارت صدیقی کا بذریعہ موبائل فون پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہماری جن گلیوں کو مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے یہاں پر اکثریت رہائشی لوگون کا تعلق ڈیلی ویجز سے ہے اب حکومت نے تو ہماری گلیوں کو مکمل طور پر سیل کردیا ہے مگر ہمارے لئے بنیادی اشیاء کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت بتائے کہ اس کی ٹائیگر فورس کہاں ہے۔ حکومت عوام کی مشاورت سے ایس او پیز طے کرے تاکہ وائرس پر بھی قابو پایا جا سکے اور ہم زندہ بھی رہ سکیں۔ ایک ورکنگ لیڈی کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے میں اور میری فیملی کے لوگ تندرست ہیں مگر ہمیں بھی زبردستی گھروں میں قید کردیا گیا ہے میں کام پر جاؤں گی تو اپنے گھر والوں کے لئے کما کر لاؤں گی، حکومت نوٹس لے۔صابر سٹریٹ کرشن نگر کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے۔

کہ جیسے ہم کوئی اور ملک کی مخلوق ہوں اگر اس وائرس نے اس طرف کا رخ کیا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ہمارے ساتھ ظلم و ناانصافی کا سلوک بند کیا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -