حکومت خسارے کابجٹ پیش کرنیکی بجائے محصولات میں اضافہ کرے، شیخ احسن رشید

حکومت خسارے کابجٹ پیش کرنیکی بجائے محصولات میں اضافہ کرے، شیخ احسن رشید

  

ملتان(پ ر) چیف ایگزیکٹو آفیسر حفیظ اینڈ جنرل گھی ملز لمٹیڈ اور وز واش شیخ احسن رشید نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں حکومت کے محصولات کا تخمینہ4ہزار ارب رکھا گیا ہے جبکہ حکومت مختلف بنکوں کو تقریباً 2600ارب کے قرضے اور سود کی مد میں واپس کرے گی اور ہمار ے دفاعی بجٹ کیلئے تقریباً 1400ارب روپے رکھے گئے ہیں تو یہ بجٹ انہی دو جگہوں پر پیسے خرچ کرکے مکمل ہوجائے گا باقی دیگر جو  اخراجات ہیں وہ کہاں سے پورے کئے جائیں گے اس کا مطلب ہے کہ حکومت پھر قرضے لے گی۔ ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ خسارے کے بجٹ پیش کرنے کی بجائے اپنے محصولات میں اضافہ کرے اوراگلے چار سالوں تک 10ہزار ارب روپے تک محصولات لے جائے۔ آمدنی بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ نئے سرمایہ کاری کروائی جائے اور ملک میں انڈسٹریاں لگائی جائیں کیونکہ جو چار ہزار ارب ٹیکس وصول کیاجائے گا ان لوگوں سے مزید ٹیکس وصول نہیں کیاجاسکتا اس کیلئے مزید ٹیکس لگانے ہوں گے اور وہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ملک میں نئی سرمایہ کاری کی جائے اور نئی انڈسٹریاں لگائی جائیں۔ شیخ احسن رشید نے مزید کہا کہ اگر اگلے چار سالوں میں مزید ایسا نہیں کیا گیا تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا اور معیشت کا پہیہ مزید نیچے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت بننے والے خصوصی اقتصادی زونز جوکہ وہاڑی اور رحیم یار خان میں بنائے جارہے ہیں ان میں مقامی سرمایہ کار اور صنعت کار سرمایہ کاری کرکے ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں اور یہ اقتصادی زونز تبھی کامیا ب ہوں گے جب یہاں کی زمین خرید کر یہاں پر انڈسٹری لگائی جائے ایسا نہ ہوکہ اقتصادی زونز میں زمین خرید کر رکھ لی جائے اور اگلے پانچ یا دس سال جب زمین کی قیمت بڑھے تو وہ مہنگے داموں فروخت کردیں۔

شیخ احسن رشید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -