کلاس فور مین ضلع ملاکند نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

کلاس فور مین ضلع ملاکند نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

  

سخاکوٹ (نمائندہ پاکستان) کلاس فور مین ضلع ملاکند نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا۔ مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور کلاس فور ملازمین کے چارکول کی رقم ریلز کرنے کیساتھ ساتھ سکولوں کیلئے جائیدادیں دینے والے افراد کو بھرتی کیا جائے۔ اگرکلاس فور ملازمین کے مطالبات منظور نہیں ہوئے تو ڈپٹی کمشنر آفس ملاکنڈ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلاس فور ملازمین ضلع ملاکنڈ کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر پیر محمد سعید منعقد ہوا جس میں ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں کلاس فور ملازمین کے درپیش مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی اور وفاقی بجٹ میں ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر پیر محمد سعید نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار ائی ہے تو انہوں نے غریب ملازمین پر زمین تنگ کر دی ہے وہ غریب ملازمین کیساتھ ناانصافی اور سوتیلی ماں جیساسلوک کر رہی ہے اور انکے لئے طرح طرح کے مشکلات پیدا کر رہے ہے۔اجلاس سے چیئرمین کوارڈنیشن کونسل صوبائی صدر سی اینڈدبلیوگل زمین خان، ضلعی جنرل سیکرٹری مکمل شاہ، ضلعی نائب صدر جاوید خانجی، تحصیل بٹ خیلہ صدر قدرگل، سینئرنائب صدررحمان سید، نائب صدر اقبال اور تحصیل بٹ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قجیرگل نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ چارکول پر پچاس فیصد کٹوتی قبول نہیں چارکول ملازمین کا حق ہے اور یہ انگریز دور سے ملازمین کو دیا جا رہا ہے مگر موجودہ حکومت اس میں بھی ٹال متول سے کام لے رہی ہے جن لوگوں نے سکولوں کیلئے جائیدادیں دئے ہیں اس پر بھرتی انکا حق ہے اس میں ایم پی اے کی عمل دخل قبول نہیں اگر یکم جولائی تا چھ جولائی تک کوٹہ سسٹم بھرتی پر عمل درامد نہیں کیا گیاتو بھر پور احتجاج کیساتھ ساتھ دھرنا بھی دینگے۔اخر میں ایک احتجاجی جلوس بھی نکالا گیااور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -