دورہ انگلینڈ- نئے قانون، نیا انداز، نئی کرکٹ

دورہ انگلینڈ- نئے قانون، نیا انداز، نئی کرکٹ

  

پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ کے لئے بھرپو ر تیاری میں مصروف ہے اور جلد ہی وہ گوروں کے دیس میں پرفارمنس دینے کے لئے روانہ ہوجائے گی مگر پاکستانی ٹیم کے لئے یہ دورہ آسان نہیں،جتنی بھی تیاری کی جائے کم ہے کیونکہ ٹیم کو اس دورہ میں حریف ٹیم کے خلاف عمدہ پرفارمنس کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بنائے جانے والے نئے قوانین پر بھی عمل کرنا ہوگا، قومی ٹیم کی دورہ انگلینڈ کے حوالے سے دونوں کرکٹ بورڈز میں معاملات طے پا گئے ہیں،پی سی بی پرامید ہے کہ رواں ہفتے کے آخری میں ای سی بی سے انتظامات پر مکمل جواب موصول ہو جائے گا۔دورے کیلئے پاکستانی ٹیم کی یکم جولائی کو انگلینڈ روانگی کا امکان ہے اور انگلینڈ سے چارٹرڈ طیارہ پاکستان آکر ٹیم کو واپس انگلینڈ لے کر جائے گا۔پاکستان ٹیم کی لاہور یا اسلام آباد سے انگلینڈ روانہ ہونے کا امکان ہے اور قومی ٹیم کا ابتدائی قرنطینہ اور ٹریننگ ڈربی شائر میں ہونے کا امکان ہے۔انگلینڈ روانگی سے قبل کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ ہوگا اور روانگی سے قبل کھلاڑیوں کو صحت کی احتیاطی تدابیر پر مکمل بریفنگ دی جائے گی۔ دورہ انگلینڈ میں تین ٹیسٹ اور تین ٹی20 میچز کھیلے گی۔ پہلا ٹیسٹ میچ ممکنہ طور پر پانچ سے 9اگست تک مانچسٹر میں کھیلا جائے گا جس کے اگلے دونوں ٹیسٹ میچ ساؤتھ ہیمپٹن میں 13 سے 17 اگست اور 21 سے 25اگست تک ہونے کا امکان ہے۔ٹی20 سیریز کے میچز 28 اور 30 اگست کے ساتھ ساتھ یکم ستمبر کو مانچسٹر میں ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 کے باعث رواں سال آئی سی سی کا کوئی ایونٹ ہوتا نظر نہیں آ رہا، دسمبر تک حالات بہتر نہ ہوئے تو پی ایس ایل فائیو کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر قومی ٹیم کو دورہ انگلینڈ میں ایک فیصد بھی رسک محسوس ہوا تو فیصلہ بدلنے میں وقت نہیں لگائیں گے۔ پی سی بی کے سربراہ احسان مانی نے کہا کہ وہ رواں سال میں شیڈول آئی سی سی ایونٹس آئندہ سال ہوتے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطرہ یہ ہے کہ بڑے ٹورنامنٹ میں کوئی کھلاڑی متاثر ہوا تو مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ اگلے تین چار ہفتے آئی سی سی ٹورنامنٹس کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔احسان مانی نے کہا کہ اگر دسمبر تک حالات بہتر نہ ہوئے تو پی ایس ایل کے بقیہ میچز سے متعلق فیصلہ کرنا پڑے گا، ڈومیسٹک کرکٹ کے بروقت شروع ہو جانے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں۔ پی سی بی چیف نے کہا کہ ایشیا کپ نہیں ہوتا تو سب سے زیادہ نقصان نیپال، قطر اور بحرین جیسے ممالک کو ہوگا۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں آہستہ آہستہ حالات بہتر ہورہے ہیں جو کھلاڑی انگلینڈ جارہے ہیں ان کی صحت کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، وہ پرامید ہیں کہ انگلینڈ کی ٹیم 2022 میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ احسان مانی کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کو ٹھیک کرنے کے لئے وقت درکار ہے ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ مصباح کو وقت دے رہے ہیں۔ نئے سسٹم کو پروفیشنل بنانے کے لئے ہمیں افسر شاہی کی جانب سے مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سے شکایت کی ہے کہ بیورو کریسی کی روایتی سست روی کی وجہ سے کرکٹ ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن کاکام رکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے ایک سال سے زیادہ ہونے کے بعد کرکٹ ایسوسی ایشن رجسٹریشن نہیں ہورہی ہیں۔ وزیر اعظم نے مثبت انداز میں اس بارے میں احکامات دیئے ہیں۔ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی خدمات سے انکار نہیں ہے لیکن یہ نظام دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ اس سسٹم سے پلیئرز ڈیولپمنٹ اور گراس روٹ ڈیولپمنٹ نہیں ہورہی ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کو مقامی سطح پر لے کر جانا ہوگا۔ ایک پلیئر کے ریٹائر ہونے سے اس کا متبادل نہیں ملتا۔ہم نے پچاس ٹیسٹ کھیلنے والے اقبال قاسم کو کرکٹ کمیٹی کا چیئرمین بنایا ہے۔ ان کی مشاورت سے بہت سارے فیصلے کررہے ہیں۔ کرکٹ کرپشن میں ملوث کھلاڑی اب جیلوں میں جائیں گے۔ ہمارے سسٹم میں خرابی ہے۔پندرہ بیس کے بجائے چالیس ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو پاکستان ٹیم میں آنے کے لئے تیار ہوں۔ ہمیں وکٹ بنانے کے حوالے سے بھی چیلنجوں کا سامنا ہے، اسٹیٹ آف دی آرٹ فٹنس سینٹر بنانا ہیں۔دوسری جانب حفیظ نے کہا کہ انگلینڈ میں اگر کوئی مشکل صورت حال پیدا ہوئی تو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ فیصلہ کیا تھا کہ ورلڈ ٹی 2020آخری ورلڈ کپ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹر اپنی کمرشل ویلیو بڑھانے کے لئے کسی بھی کھلاڑی کے بارے میں بیانات دیتے ہیں۔ 2003 میں سرگودھا جیسے چھوٹے شہر سے پاکستان ٹیم میں آیا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ اسے ٹیم میں نہیں آنا چاہیے۔ میں 17،18سال ملک کے لئے کھیلا ہوں۔ اب بھی مکمل فٹ ہوں، اعداد وشمار سب کے سامنے ہے۔ جب تک بہتر کارکردگی دکھا سکا کھیلوں گا مجھے عمر کے اس حصے میں کوئی فرسٹریشن نہیں ہے۔ ناقدین کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان کی کسی بھی ورلڈ کپ وننگ ٹیم کا حصہ بنوں۔ خوشگوار یادوں کے ساتھ کرکٹ کیریئر ختم کرنے کا خواہاں ہوں، کورونا وائرس کی وجہ سے آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنا پڑے گا۔ اچھے ٹور پر جارہا ہوں۔ ٹیم انتظامیہ میں پاکستانی لوگ ہیں اس چیز کی زیادہ خوشی ہے۔ دعا ہے کہ دورہ انگلینڈ پر ہم سب محفوظ رہیں۔ ورلڈ کپ اگر اکتوبر کے بجائے نومبر میں یا اگلے سال ہوگا تو کھیلوں گا۔ کبھی اپنی ذات کیلئے میچ نہیں کھیلا۔کبھی یہ نہیں سوچا کہ سو میچ مکمل ہوجائیں۔جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ نے انگلینڈ ٹیم کو وارننگ دی ہے کہ اگر اسے بچہ سمجھا گیا تو انگلش کھلاڑیوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے بچہ نہ سمجھا جائے، اگر ایسا ہوا تو انگلینڈ کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔نسیم شاہ نے انگلینڈ سیریز کے لیے بھرپور تیاری کی ہے، آٹھ ماہ کھیل کر نسیم شاہ بولنگ کے شاہ بن گئے، نسیم شاہ پانچ وکٹ لینے والے کم عمر فاسٹ بولر اور کم عمر ترین ہیٹ ٹرک کا اعزاز اپنے نام کرچکے ہیں۔دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باولر شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کا دورہ ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے امید ہے کہ ٹیم بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کرے گی، خوشی اس بات ہے کہ کرکٹ واپس آرہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرونا کی وجہ سے مشکل وقت سے گزرے ہیں، وقت سے پہلے انگلینڈ جانے سے بہت فائدہ ہو گا اور امید ہے کہ قومی ٹیم سیریز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ سیریز سے قبل انگلینڈ پہنچ کر وہاں ایک ماہ میں تیاری کا اچھا وقت مل جائے گا، غیر معمولی حالات میں کھیلی جانے والی سیریز میں اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے کیلیے سخت محنت کروں گا، ٹیسٹ کرکٹ کے تقاضے مختلف، ان کو پیش نظر رکھ کر بولنگ کی کوشش کرتا ہوں۔شاہین آفریدی نے کہا کہ تینوں فارمیٹ میں ملک کی نمائندگی اعزاز کی بات ہے، ماضی میں انگلینڈ میں پاکستان کی کارکردگی اچھی رہی، ٹیسٹ میچز جیتے، چیمپئنز ٹرافی بھی اپنے نام کی، کھلاڑی اس بار بھی بلند حوصلے کیساتھ میدان میں اتریں گے، انہوں نے کہا کہ گیند ہاتھ میں ہو تو حریف کی ہر وکٹ قیمتی ہے، کسی ایک انگلش بیٹسمین کو نہیں جو بھی کریز پر آئے ہدف بنانا ہوگا۔جبکہ ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری بنانے والے عابد علی کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے دورہ انگلینڈ ایک چیلنج ہوگا، انگلینڈ میں کنڈیشنز پہلے ہی مشکل ہو تی ہیں اور اب موجودہ حالات کی وجہ سے مزید مشکلات ہوں گی لیکن ان چیلنجز کو ہم نے قبول کرنا ہے اور ذہنی پختگی کے ساتھ انگلینڈ میں کھیلنا ہے اور کامیابی حاصل کرنی ہے۔عابد علی کا کہنا ہے کہ دورہ انگلینڈ کیلئے سب کھلاڑی پر اعتماد ہیں، خوشی ہے کہ لمبے عرصے کے بعد کرکٹ شروع ہو رہی ہے اور ہم میدان میں آئیں گے، تین چار ماہ کرکٹ نہیں ہوئی، ہم انگلینڈ میں اچھا پرفارم ہی نہیں کریں گے بلکہ کامیابی حاصل کریں گے اور ایسا ممکن بھی ہے۔ عابد علی نے کہا کہ طویل وقفہ ضرور ہے لیکن ہم انگلینڈ سیریز سے کافی پہلے جا رہے ہیں جس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور جو کمی ہے اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے، اس کے علاوہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں ہم سے پہلے کھیل رہی ہوں گی اس کا ہمیں فائدہ ہو گا، ہمیں سیکھنے کا اور پلان کرنے کا موقع ملے گا۔عابد علی نے کہا کہ کووڈ 19 کی صورتحال کا سب کو سامنا ہے، ابھی ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم دماغی طور پر مضبوط ہوں، کوشش کریں گے کہ کھیل پر زیادہ فوکس کریں اور کورونا وائرس پر دھیان کم ہو۔ عابد علی نے کہا کہ انگلینڈ میں کنڈیشنز ہمیشہ مشکل رہی ہیں اور اب حالات بھی کچھ ایسے ہیں کہ ان کی وجہ سے مشکلات بڑھ جائیں گی، بہت زیادہ چیلنجز درپیش ہوں گے اور ان چیلنجز کو ہم نے قبول کرنا ہے اور مضبوط بن کر انگینڈ میں اچھا کھیلنا ہے اور یہی سب کا ہدف ہے، ہم پروفیشنل ہیں ہمیں ہرحالت میں 100 فیصد کھیل پیش کرنا ہے۔ عابد علی نے کہا کہ انگلینڈ کا بولنگ اٹیک بہترین ہے انہیں اپنی کنڈیشنز کا بخوبی علم ہے، ہوم ٹیم کو ہوم کنڈیشنز کا فائدہ ہوتا ہے لیکن ہماری بیٹنگ لائن اپ بھی تجربہ کار ہے، مصباح الحق اور یونس خان کی موجودگی میں فائدہ ہو گا۔عابد علی نے کہا کہ کراؤڈ نہ ہونے کی وجہ سے انگلینڈ ٹیم کو فرق پڑے گا ہمارے لیے پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ہم دس برس متحدہ عرب امارات میں اپنے کراؤڈ کے بغیر کھیلتے رہے ہیں لیکن انگلینڈ میں پاکستان ٹیم کے بہت فینز ہیں اپنے فینز کو مِس کریں گے۔انگلینڈ پاکستان کا ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ ایک ساتھ جا رہا ہے عابد علی کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کا بھی موقع ملا تو اچھا پرفارم کرنے کی کوشش کریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -