کراچی کیلئے آئندہ مالی سال میں کوئی ترقیاتی اسکیم نہیں رکھی گئی، وسیم اختر

کراچی کیلئے آئندہ مالی سال میں کوئی ترقیاتی اسکیم نہیں رکھی گئی، وسیم اختر

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ اس شہر کے ساتھ نا انصافیاں جاری ہیں، کراچی ملک کو 95 فیصد ریونیو دیتا ہے لیکن کراچی کے لئے آئندہ مالی سال میں کوئی ترقیاتی اسکیم نہیں رکھی گئی، مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے، لیکن نالوں کی صفائی کا آغاز اب تک نہیں کیا گیا، کے ایم سی کے پاس نالوں کی صفائی کے لئے فنڈز نہیں ہیں اگر برساتی نالے صاف نہ کئے گئے تو کراچی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کی ذمہ دار حکومت سندھ ہوگی، میدان خالی چھوڑیں گے تو حقوق کیلئے کون آواز اٹھائے گا، کراچی کے ساتھ 12 سال سے زیادتی ہورہی ہے، کے ایم سی کو فنڈز جاری نہیں کئے جارہے، یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز فریئر ہال میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن، سینئر ڈائریکٹر کو آرڈینیشن مسعود عالم، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز نعمان ارشد اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ حکومت سندھ نے 2016 میں ایڈمنسٹریٹر کے زمانے میں نالوں کی صفائی کے لئے 437 ملین روپے جاری کئے تھے جس سے نالوں کی صفائی کاکام کیا گیا تھا ا سکے بعد واٹر کمیشن کے حکم پر نالوں کی صفائی کے لئے 2017-18 میں 500 ملین روپے جاری کئے تھے جس سے برساتی نالو ں کو صاف کیا گیا اور جون 2018 میں یہ کام مکمل کرلیا گیا، واٹر کمیشن کے احکامات کی روشنی میں نالوں کی صفائی کے کام کو 1272 ملین روپے خرچ کرکے نالوں کی صفائی کو مکمل کیا گیا اور اس طرح 500 ملین روپے کے بجائے 1272 ملین روپے 2017-18 میں خرچ کئے گئے، حکومت سندھ نے بقیہ رقم 772 ملین روپے بھی کے ایم سی کو اب تک ادا نہیں کئے، جون 2018 کے بعد سے اب تک برساتی نالوں کی صفائی نہیں ہوئی ہے اس کے لئے کے ایم سی کے پاس فنڈز نہیں ہیں وزیر اعلیٰ سندھ سے گزشتہ ماہ درخواست کی تھی کہ وہ نالوں کی صفائی کے لئے فنڈز جاری کریں لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی رقم کے ایم سی کو موصول نہیں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کے ایم سی فنڈز نہ ہونے کے باعث کراچی کے برساتی نالوں کی صفائی نہیں کرسکے گی لہٰذا حکومت سندھ سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں فوری فنڈز جاری کریں تاکہ کراچی کے شہری کسی بھی ممکنہ اربن فلڈ سے بچ سکیں۔ یہاں یہ بات بھی آپ کے علم میں لے آؤں کے پچھلے مہینے ورلڈ بینک کی ٹیم نے برساتی نالوں کی صفائی کے سلسلے میں 8 ملین ڈالر کے ایم سی کو دینے تھے لیکن تاحال یہ رقم بھی کے ایم سی کو موصول نہیں ہوئی۔مون سون کی بارشیں سر پر موجو دہیں برساتی نالوں کی صفائی کے مسئلہ کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے کے ایم سی اس سلسلے میں حکومت سندھ کی جانب دیکھ رہی ہے جب تک ورلڈ بینک ضابطہ کی کارروائی عمل میں لاتی ہے اور حقیقی طور پر عملدآمد کرتی ہے اس وقت تک صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے ہمیں عملی اقدامات کرنے ہونگے۔این ڈی ایم اے وارننگ جاری کرچکی ہے اور اگر برساتی نالوں کی صفائی فوری طور پر شروع نہیں کی گئی تو کراچی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔برساتی نالوں کے علاوہ کراچی میں موجود انڈر پاسز اور بڑی بڑی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کی صورت میں نکاسی کے لئے بھی فوری کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے بھاری مشینری، پمپنگ مشینیں اور چاکنگ پوائنٹس کھولنے کے لئے عملے کو ہمہ وقت فعال رکھنا پڑتا ہے اس کے لئے بھی کے ایم سی کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی فنڈ موجود نہیں ہے، یہاں میں یہ واضح کردوں کہ اگر فوری حکومت سندھ نے نالوں کی صفائی کے لئے کے ایم سی کو فنڈ جاری نہیں کئے گئے تو تمام ذمہ داری حکومت سند ھ کی ہوگی۔ آپ کے ذہن میں یہ بات بھی ہوگی کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبے کیوں مکمل نہیں ہوسکے،میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ یہاں بتانا ضروری ہے کہ سالانہ ترقیاتی فنڈز کی مد میں گزشتہ 4 سالوں میں مختص کئے گئے فنڈز اور کے ایم سی کو ملنے والے فنڈز کی تفصیلات اس طرح سے ہیں کہ 2016-17 میں 5000 ملین روپے مختص کئے گئے لیکن کے ایم سی کو 4100 ملین روپے دیئے گئے، 2017-18 میں 5000 ملین روپے مختص تھے لیکن 4100 ملین روپے دیئے گئے، 2018-19 میں 5000 ملین روپے مختص تھے لیکن 2500 ملین روپے دیئے گئے، 2019-20 میں تو انتہا کردی گئی 3333 ملین روپے مختص تھے لیکن صرف 625 ملین روپے جاری کئے گئے، جس کے باعث کراچی کی 400 ترقیاتی اسکیمیں بری طرح متاثر ہوئی۔ 300 اسکیموں پر کاموں کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوسکا، ترقیاتی کامو ں کے کنٹریکٹرز کے ساڑھے 8 ارب روپے واجب الادا ہیں، حکومت سندھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ہر سال اضافہ کرتی ہے 2018 میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا 2019 میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا اور اس سال پھر حکومت سندھ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے سندھ کے تمام اداروں کے ملازمین کو یہ اضافی تنخواہ ادا کردی گئی ہے جبکہ کراچی کے بلدیاتی اداروں کو یہ رقم ادا نہیں کی جاتی اور اس کے ملازمین اضافہ شدہ تنخواہ سے مسلسل محروم ہیں، گزشتہ دنوں سندھ کا جو بجٹ پیش کیا گیا مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ کراچی کے خاطر خواہ کوئی نیا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا جو کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک کے مترادف ہے، کراچی میں فیومیگیشن کا ہی اگر میں ذکر کروں تو گزشتہ 3 سالوں سے کسی قسم کی جراثیم کش ادویات کے ایم سی کو نہیں دی گئی اور اب یہ کام ڈپٹی کمشنرز کے ذریعہ کیا جارہا ہے عملہ اور گاڑیاں کے ایم سی کی استعمال کی جاتی ہیں بہرحال ہم نے کراچی کے 38 بڑے نالوں کی فہرست حکومت سندھ کو دی ہے اور چھوٹے نالوں کی صفائی کے حوالے سے تمام ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کی ضروریات سے متعلق فزی بلیٹی رپورٹ حکومت سندھ کوبھیجی ہے، کراچی کے شہری پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں،سیوریج کا کوئی نظام نہیں ہے، ٹریفک، اسٹریٹ کرائم اور دیگر مسائل نے کراچی کے لوگوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن نے شہریوں سے روزگار کے مواقع چھین لئے ہیں اور اب اس پر ستم یہ کہ مون سون کی بارشوں کے پانی کی نکاسی کا انتظام بھی نہیں کیا جارہا اور کراچی کے شہریوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، میں ایک با رپھر وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس اہم مسئلہ کا فوری نوٹس لیں تاکہ برساتی نالوں کی صفائی ترجیحی بنیادوں پر شروع کی جاسکے، میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا کے نمائندوں سوال کے جواب میں کہاکہ 12 سال سے پیپلز پارٹی سندھ پر حکومت کررہی ہے مگر افسوس کہ شہر میں ایک بس بھی نہیں چلی، انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ شامل ہونے سے لگتا ہے کہ اختیارات مل گئے ہیں لیکن اصل اختیارات وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس ہوتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر استعفیٰ دینے سے مسئلہ حل ہوتا تو 4 سال پہلے دے چکا ہوتا، میں نے ہمیشہ اس سسٹم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اسی کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے کراچی کے فنڈز مختص کئے، بے اختیاری کا رونا تو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بھی رو رہے ہیں در اصل یہ سسٹم کی خرابی ہے جسے صحیح کرنے کے لئے میں نے میئر کی حیثیت سے آواز بلند کی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -