لاہور میں سیوریج سے کورونا کیسز کے نمونے لینے کا فیصلہ

  لاہور میں سیوریج سے کورونا کیسز کے نمونے لینے کا فیصلہ

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پولیو کی طرح کورونا کیسز کے نمونے بھی سیوریج سے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور واسا کے درمیان پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، شہر کے 30 علاقوں میں سیوریج کے نمونے لیکر آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔وائس چانسلر یوایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ سیوریج میں وائرل لوڈ کو ٹیسٹ کے ذریعے دیکھا جائے گا، ٹیسٹ کے ذریعے پتہ چلے گا کہ کس محلے میں کتنی وائرس کی منتقلی ہے، کورونا وائرس آنسو، تھوک، پیشاپ اور پاخانہ میں بھی پایا جاتا ہے، وائرس نیگیٹو ہونے کے دو ہفتے بعد تک بھی پیشاپ اور پاخانہ میں وائرس موجود رہتا ہے جس میں علاقے میں وائرل لوڈ زیادہ ہو اسکو بند کر دیا جائے۔جب اس علاقے میں وائرل لوڈ آدھے سے بھی کم رہ جائے پھر اسکو کھول دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سمارٹ لاک ڈاون میں سمارٹ سیمپلنگ کے ذریعے آبادی کے لحاظ سے کم ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ سمارٹ لاک ڈاون میں لوگوں علاقے بند کرنے پر تحفظات ہیں، واسا کے ساتھ مل کر سائنٹیفک سٹڈی کرنے جارہے ہیں، یہ سٹڈی سائنسی بنیادوں پر ہو گئی جس پر لوگ تحفظات نہیں کرینگے۔پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ پنجاب گورنمنٹ کو بھی اس سائنٹیفک سٹڈی کے حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، علاقوں سے شروع ہو کر شہروں تک سائنٹیفک سٹڈی کو پھیلایا جائے گا۔

سیوریج نمونے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -