بلوچستان اسمبلی، مالی سال 2020-21کا 87ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش

بلوچستان اسمبلی، مالی سال 2020-21کا 87ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش

  

  

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان اسمبلی کے آئندہ مالی سال برائے 2020-21ء کا بجٹ پیش کردیاگیا جس کا کل حجم 465ارب جبکہ آمدن کاکل تخمینہ 377ارب ہے اس کے علاوہ آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ 87ارب روپے ہیں،بجٹ میں 309 ارب روپے غیر ترقیاتی،118ارب روپے ترقیاتی مد میں رکھے گئے ہیں،آئندہ مالی سال کیلئے 6840 نئی آسامیاں بھی شامل ہیں،صوبائی حکومت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے بجٹ میں 4.5ارب روپے جبکہ ٹڈی دل کی آفت سے نمٹنے کیلئے 500ملین روپے رکھے گئے ہیں۔بلوچستان اسمبلی کابجٹ سیشن دو گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر صوبائی اسمبلی میر عبدالقدوس کی زیر صدارت شروع ہوا۔صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری مخلوط حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ 2020-21اس مقدس ایوان کے سامنے پیش کرنا میرے لیے بڑے اعزاز اور مسرت کا باعث ہے۔صوبائی وزیر خزانہ کہا کہ مالی سال 2020-2021کیلئے صوبائی حکومت نے مالی بحران کے باوجود کورونا وائرس کی وبا سے نبردآزما ہونے کیلئے اپنے وسائل سے 4.5ارب روپے مختص کیے ہیں۔انہوں نے تمام اتحادی جماعتوں سمیت اپوزیشن کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جنہوں نے کرونا وائرس کی وبائی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کا ساتھ دیا، مزید برآں میں طب کے مقدس پیشے سے وابستہ افرادی قوت، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسز، ضلعی انتظامیہ،حکومتی افسران و اہلکاروں سمیت تمام شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر ڈیوٹی سر انجام دینے والے اداروں کا جنہوں نے اس وبائی صورتحال میں حکومت اور عوام کا ساتھ دیا اور ان میں سے کرونا وائرس کی وبا سے متاثر بھی ہوئے یا اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ ہمارے اصل ہیروز ہیں اور ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

بلوچستان/بجٹ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -