سندھ اسمبلی خطرناک زون کی صورت اختیار کر رہی ہے:آغا سراج درانی

  سندھ اسمبلی خطرناک زون کی صورت اختیار کر رہی ہے:آغا سراج درانی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہاہے کہ سندھ اسمبلی کے کئی ارکان اور اسٹاف کورونا میں مبتلا ہوچکے، سندھ اسمبلی خطرناک زون کی صورت اختیار کررہی ہے۔آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، جس سے اظہار خیال کرتے ہوئے اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ میں آپ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا، ایس او پیز طے کئے گئے تھے وہ فالو کرنا چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کوئی مذاق نہیں ہے، سب ارکان نے ٹیسٹ کروانے تھے، یہی صورتحال رہی تو میرے لئے صرف ورچوئل اجلاس کا آپشن ہوگا، گزشتہ اجلاس میں جو کچھ ہو غلط ہوا۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بجٹ پر کیسے بحث اور تجاویز آسکتی ہیں جس میں فنانس بل نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں، طے ہوا پچھلے ہفتے ٹیسٹس کی بنیاد ارکان ایوان میں شریک ہونگے۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیر برائے پارلیمانی امور مکیش چاؤلہ نے کہا کہ ہمارے ارکان ایس او پیز کو فالو کررہے ہیں، پچیس فیصد کے لحاظ سے ہمارے ارکان ایوان میں موجود ہیں، آج بھی محکمہ صحت کی ٹیم اسمبلی میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ جس نے ٹیسٹس کروانے ہیں وہ کروا لیں، بغیر ٹیسٹ کے اجلاس میں کسی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، پچھلے اجلاس میں اپوزیشن نے احتجاج کیا کئی ارکان بغیر ماسک کے تھے۔سندھ اسمبلی میں نئے مالی سال کے بجٹ پر بحث کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شہران سرکی نے کیا، انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا گیا، وزیراعلی سندھ سمیت انکی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔رکن ایم کیو ایم راشد خلجی نے کہا کہ سندھ کی دیہی اور شہری عوام کو بجٹ سے کیا مل رہا ہے، بجٹ تعصب پر مبنی ہے اسے مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے ترقیاتی کام زمین پر کہیں عملدرآد نظر نہیں آتے، لاڑکانہ میں صنعتی زون ابھی تک مکمل نہیں ہوا، کراچی اور حیدرآباد میں لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں۔فردوس شمیم نے کہا کہ حکومتی وزرا کو ویڈیو لنک سے شریک ہونا چاہیے تھا، وزرا کے نہ آنے تک ہم ایوان کا علامتی واک آؤٹ کررہے ہیں۔آغا سراج درانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزرا کے سیکریٹریز ایوان میں موجود ہیں، اس طرح کا رویہ ٹھیک نہیں، پھر ایک ہی حل ہے کہ ورچوئل اجلاس کرے۔صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے ورچوئل اجلاس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ اپوزیشن ڈکٹیٹ کرے، یہ ایس او پیز کی بار بار خلاف ورزی کررہے ہیں۔اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ ایسے رویہ پر میں ورچوئل اجلاس پر چلا جاؤں گا۔صوبائی وزیر مکیش چالہ نے کہا کہ اپنی غلطیاں چھپانے کے لئے واک آؤٹ کرتے ہیں، 25 فیصد ارکان ایوان میں موجود ہیں، یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ کون کون وزیر موجود ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -