سورج گرہن کیوں ہوتا ہے اور اس دوران کن چیزوں سے گریز کرنا چاہیے؟

سورج گرہن کیوں ہوتا ہے اور اس دوران کن چیزوں سے گریز کرنا چاہیے؟
سورج گرہن کیوں ہوتا ہے اور اس دوران کن چیزوں سے گریز کرنا چاہیے؟

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سورج گرہن اُس وقت وقوع پذیر  ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کے دوران سورج اور زمین کے درمیان میں آجاتا ہے، جس کے بعد زمین سے سورج کا کچھ یا پھر پورا حصہ نظر نہیں آتا۔

سورج گرہن کے موقع پر لوگوں کو ہمیشہ احتیاط برتنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سورج کو براہِ راست نہ دیکھیں اور مخصوص چشمے کا استعمال کریں۔

بی بی سی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے سورج گرہن کے وقت سورج کو کوئی فلٹر استعمال کیے بغیر نہ دیکھیں،گرہن دیکھنے کے لیے بنائے گئے ایسے چشمے کو استعمال نہ کریں جو تین سال پرانا ہو۔گھر پر بننے والے سولر فلٹر استعمال نہ کریں۔بغیر فلٹر کے کیمرے استعمال نہ کریں۔گرہن دیکھنے کے لیے دھوپ کی عینک کا استعمال ہرگز نہ کریں۔

ماہرین کے مطابق ٹیلی سکوپ جس میں فلٹر لگا ہو وہ بھی استعمال نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ فلٹر میں اگر باریک سے باریک سوراخ بھی ہو تو اس سے بھی لمحوں کے اندر انسانی آنکھ کا ریٹینا ہمیشہ کے لیے تباہ ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے امراض پر کنٹرول کرنے سے متعلق سینٹر کے مطابق گرہن لگنے کے موقع پر سورج کو براہ راست نہیں دیکھنا چاہیے اس سے نظر پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے آنکھ کی دیکھنے کی صلاحیت مکمل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ آنکھ میں موجود ریٹینا خراب ہوتا ہے اور کوئی بھی چیز دیکھنے کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔

اردو نیوز کے مطابق سعودی عرب کے ماہرامراض چشم ڈاکٹر عبدالعرزیز الراجحی نے کہا ہے کہ  گرہن کے دوران سورج کو دیکھنے سے کلی یا جزوی طور پر بینائی متاثر ہو تی ہے اس لیے گرھن کے دوران چشمے یا کسی اور ذریعے سے سورج کو نہ دیکھا جائے۔ 

ایک اور سعودی  ماہر امراض چشم ڈاکٹرالراجحی کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اس سورج گرھن کے دوران بالائے بنفشی شعائیں براہ راست زمین پر پڑتی ہیں جنہیں دیکھنا ممکن نہیں جن کی وجہ سے بینائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سورج کی شعائیں جو کہ بالائے بنفشی شعاعوں کو براہ راست زمین پر منتقل کرتی ہیں اتنی خطرناک ہوتی ہیں کہ ان سے انکھ کے قرنیہ جو لاکھوں رگوں کے جال کے ذریعے کسی بھی عکس کو فوری طور پر دماغ کو منتقل کرتا ہے۔ ان شعاعوں سے شدید طور پر متاثر ہو جاتا ہے جس سے بینائی یا تو کلی طور پریا جزوی طور پر متاثر ہوتی ہے بعض اوقات بینائی پر پڑنے والے اثرات فوری ظاہر ہو جاتے ہیں جبکہ بعض کیسز میں چند ہفتے بعد اس کے اثرات سامنے آتے ہیں۔

خیال رہے آج پاکستان کے جنوبی حصوں کے علاوہ  شمالی انڈیا، کانگو، سینٹرل افریقن ریپبلک، ایتھوپیا اور چین میں سورج گرہن دکھائی دے گا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -