چین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے خاندانوں نے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کو خط لکھ دیا، سب سے مشکل سوال پوچھ لیا

چین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے خاندانوں نے بھارتی چیف آف ...
چین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے خاندانوں نے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کو خط لکھ دیا، سب سے مشکل سوال پوچھ لیا

  

نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بھارت کے فوجی جوانوں کے اہلخانہ نے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کے نام کھلا خط لکھ دیا جس میں ان سے وہ سوالات پوچھے گئے ہیں جو اب تک بھارتی فوج اور حکومت چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

پیارے جنرل

ہم حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں کے اہلخانہ اپنے جوانوں اور فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، نہیں ہم ڈرے ہوئے نہیں ہیں، ہاں ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ گلوان وادی میں کیا ہوا، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کیوں تزویراتی فیصلے اور ان کے نتائج عوامی سطح پر بیان نہیں کیے جاتے  لیکن سپر ایکٹو سوشل میڈیا کے دور میں بہت سے متضاد بیانات اور دل دہلا دینے والی تصویریں گردش کر رہی ہیں، ہم کہاں جائیں، کس پر بھروسہ کریں؟

اگر چین نے کوئی مداخلت نہیں کی تھی تو آخر ایک کمانڈنگ افسر سمیت ہماری اتنی زیادہ ہلاکتیں کیسے ہوگئیں؟

نہ صرف ہمارے فوجیوں کو بربریت کے ساتھ قتل کیا گیا بلکہ ان کی لاشوں کو مسخ بھی کیا گیا ، کیوں؟

کیا ہمارے فوجی دشمن کے علاقے میں اپنے طور پر داخل ہوئے تھے (جیسا کہ چین کا دعویٰ ہے) اور دفاع میں مارے گئے؟

ہر روز لداخ کی تباہی پر ایک نئی کہانی کیوں ہوتی ہے؟

کیا کبھی ہم سچ جان پائیں گے؟

کیا ہمارے فوجی اپنے ہی جال میں پھنسے؟

ہمارے فوجی توب کا چارہ نہیں ہیں، انہیں سفارتی مقاصد حاصل کرنے کیلئے ذبح نہیں کرایا جاسکتا، جس وقت چیف آف ڈیفنس سٹاف کی پوسٹ بنائی گئی اور کہا گیا تھا کہ اس کے بینر تلے تینوں مسلح افواج آرمی، نیوی اور فضائیہ اکٹھی ہوجائیں گی جس سے انڈیا زیادہ محفوظ ہوجائے گا، یہ بہت ہی حوصلہ افزا تھا، ہم نے خود کو تمام محاذوں پر بہت زیادہ محفوظ تصور کیا ۔

لیکن جو ہورہا ہے وہ سب الٹا ہی ہے، ہمیں اندرونی اور بیرونی محاذوں پر مشکل وقت کا سامنا ہے، اگرچہ ملک کا ہر شہری ہمارے فوجیوں کے ساتھ کھڑا ہے، پھر بھی ہماری مسلح افواج کے ارکان کے حوصلے پست ہیں، اور اس کی وجہ آپ کی بہت زیادہ مداخلت ہے۔ سانحہ لداخ نے واضح کردیا ہے کہ آپ کی مسلسل مداخلت نے انڈین آرمی کے مختلف ہیڈ کوارٹرز کی ساری طاقت سلب کرلی ہے۔ ہم نے اپنے جوانوں کو انتہائی غیر فوجی انداز میں کھویا ہے اور اب زمینی حقائق پر پردے پر پردہ ڈالنے کی کوششیں ہورہی ہیں، وسیع تر تناظر میں ان جوانوں کا خون سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ آپ کے ہاتھوں پر بھی ہے۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھیں اور ان سوالوں کے جواب دیں،

کیا آپ نے اپنی ذمہ داریوں اور ان نعمتوں کے ساتھ انصاف کیا جو آپ پر نچھاور کی گئیں؟

کیا آپ اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہوئے؟

کیا آپ نے خود کو سیاستدانوں کے سامنے قربانی کے بکرے کے طور پر پیش نہیں کیا اور ایسے فیصلے نہیں کیے جس سے ادارے کو نقصان ہوا؟

کیا آپ نے ہمارے فوجیوں کی لداخ میں امیدیں نہیں توڑیں؟

مجھے یقین ہے کہ آپ  کو ان سوالوں کے جواب پتہ ہیں، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ منفی درجہ حرارت میں اپنے جوانوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر لڑائی میں حصہ لیا جائے ، اگر ہاں تو پھر آگے بڑھیے ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اگر نہیں؟

تو پھر اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دینے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جب ہمارے جوانوں کو جنگ کیلئے بھیجا جائے تو ہماری آپ سے درخواست ہے کہ یہ بات یقینی بنائیں کہ انہیں دھوکہ نہ دیا جائے،  انہیں یہ نہ کہا جائے کہ نہتے رہو اور ہتھیار استعمال نہ کرو، ہم انہیں اس طرح ذبح ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے جس طرح چین نے انہیں کیا ہے۔

اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو لداخ کو گیم چینجر بننے دیں۔۔۔

مزید :

بین الاقوامی -